مطالعہ انسان کی ذہنی، فکری اور علمی نشوونما کے لیے بے حد ضروری ہے۔ لیکن کسی بھی تحریر، کتاب یا مضمون سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے زبان اور اس کے الفاظ پر عبور ہونا لازمی ہے۔ مطالعے کے دوران لغت (Dictionary) ایک ایسے رہنما کا کردار ادا کرتی ہے جو قاری کے لیے علم کے بند دروازے کھولتی ہے۔ لغت کے بغیر مطالعہ ادھورا اور سطحی رہ جاتا ہے۔

ذیل میں مطالعہ کے دوران لغت کے استعمال کی بنیادی اہمیت اور اس کے فوائد کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے:

(1) ذخیرہ الفاظ (Vocabulary) میں اضافہ :کسی بھی زبان کو سیکھنے اور اس پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے لغت سب سے بہترین ہتھیار ہے۔ مطالعے کے دوران جب قاری نئے، ثقیل یا نایاب الفاظ سے ٹکراتا ہے، تو لغت اسے ان الفاظ کے درست معنی فراہم کرتی ہے۔ بار بار لغت کا استعمال قاری کے اپنے ذاتی ذخیرہ الفاظ کو وسعت دیتا ہے، جس سے اس کی گفتگو اور تحریر میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔

(2) تفہیمِ مضمون اور گہرائی کا ادراک :بعض اوقات کسی جملے میں ایک واحد لفظ کا مطلب نہ جاننے کی وجہ سے پورے پیراگراف کا مفہوم بدل جاتا ہے یا سمجھ نہیں آتا۔ لغت قاری کو متن کا اصل سیاق و سباق (Context) سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس سے کتاب کا اصل پیغام، مصنف کا نظریہ اور مضمون کی گہرائی واضح ہو کر سامنے آتی ہے اور قاری ابہام سے بچ جاتا ہے۔

(3) درست تلفظ اور اعراب کی ادائیگی :صرف لفظ کا مطلب جاننا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اسے صحیح طریقے سے بولنا بھی زبان دانی کا اہم حصہ ہے۔ لغت میں الفاظ کے اعراب (زیر، زبر، پیش) اور تلفظ کی واضح رہنمائی موجود ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے قاری الفاظ کو غلط بولنے کی عادت سے بچتا ہے اور اس کی لغت پر مبنی پڑھنے کی عادت اس کی بول چال کو بھی معیاری بنا دیتی ہے۔

(4) الفاظ کا درست استعمال اور گرامر :ایک ہی لفظ کے مختلف مقامات پر الگ الگ معانی ہو سکتے ہیں۔ لغت ہمیں بتاتی ہے کہ کوئی لفظ اسم (Noun) ہے، فعل (Verb) ہے یا صفت (Adjective)۔ مزید برآں، یہ الفاظ کے محاوراتی اور مجازی استعمال سے بھی روشناس کراتی ہے۔ اس علم کی بدولت قاری اپنی تحریر اور تقریر میں الفاظ کا صحیح اور بروقت استعمال کرنے کے قابل ہوتا ہے۔

(5) تحقیق اور خود اعتمادی میں اضافہ :لغت کا باقاعدہ استعمال انسان میں خود شناسی اور تحقیقی مادہ پیدا کرتا ہے۔ جب قاری کسی پر انحصار کیے بغیر خود لفظ کا مطلب تلاش کرتا ہے، تو اس کا علمی اعتماد بڑھتا ہے۔ زبان پر مضبوط گرفت ہونے سے وہ مشکل سے مشکل کتاب پڑھنے سے نہیں گھبراتا۔