عارف: استاد جی! السلام علیکم۔ ایک بات سمجھ نہیں آ رہی۔ میں نے سنا ہے کہ آپ کہتے ہیں "بغیر لغت کے کتاب پڑھنا اندھے کا چلنا ہے"۔ یہ بات اتنی سخت کیوں کہی آپ نے؟

استاد محترم: وعلیکم السلام عارف۔ بیٹھ جاؤ۔ سخت نہیں کہی، حقیقت کہی ہے۔ بتاؤ، کل تم نے سورة العلق پڑھی تھی نا؟

عارف: جی ہاں، " اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱) " سے شروع ہوتی ہے۔

استاد محترم: اچھا، " اِقْرَاْ " کا مطلب صرف "پڑھ" ہی ہے؟ اگر میں کہوں " اِقْرَاْ " کا مطلب "سمجھ کر پڑھ، غور کر کے پڑھ، تحقیق کر کے پڑھ" ہے، تو تمہارے مطالعے کا معیار بدل جائے گا نا؟

عارف: جی ہاں، فرق تو پڑے گا۔

استاد محترم: یہی فرق لغت پیدا کرتی ہے عارف۔ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں فرمایا:

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْؕ

ترجمہ کنز الایمان: اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا کہ وہ انہیں صاف بتائے ۔(ابراہیم:4)

دیکھو، اللہ نے بھی وضاحت کے لیے زبان کی سمجھ کو ضروری قرار دیا۔ اگر زبان نہ سمجھو گے تو ہدایت تک کیسے پہنچو گے؟

عارف: سمجھ گیا استاد جی۔ یعنی لغت علم کا دروازہ ہے؟

استاد محترم: بالکل! لغت تین کام کرتی ہے:

(1) لفظ کا صحیح مفہوم بتاتی ہے :تم نے "خَلَقَ" پڑھا۔ عام طور پر "پیدا کرنا" ترجمہ کرتے ہیں۔ مگر لغت بتاتی ہے کہ " خَلَقَ " کے معنی "کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا، اندازہ کرنا، مقدار مقرر کرنا" بھی ہیں۔ اب " الَّذِیْ خَلَقَۚ" کا مطلب صرف "جس نے پیدا کیا" نہیں رہتا، بلکہ "جس نے ہر چیز کو اندازے اور نظام کے ساتھ پیدا کیا" بن جاتا ہے۔

(2)سیاق و سباق سے بچاتی ہے :عربی میں "عَيْن" کے 20 سے زیادہ معنی ہیں: آنکھ، چشمہ، جاسوس، خود وہ چیز۔ اگر لغت نہ دیکھو گے تو "عَيْنُ الْمَاءِ" کو "پانی کی آنکھ" پڑھ دو گے، حالانکہ مطلب ہے "پانی کا چشمہ"۔ اسی لیے اللہ فرماتا ہے:

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴)

ترجمہ کنز الایمان: تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں یا بعضے دلوں پر اُن کے قفل لگے ہیں۔(محمد:24)

تدبر کے لیے پہلے الفاظ کا معنی معلوم ہونا ضروری ہے۔

(3) مطالعے کو گہرا اور مستقل بناتی ہے :جو طالب علم ہر مشکل لفظ لغت میں دیکھتا ہے، اس کا ذہن تیز ہوتا ہے، حافظہ مضبوط ہوتا ہے، اور وہ دوسروں پر انحصار نہیں کرتا۔

عارف: مگر استاد جی، آج کل تو گوگل ترجمہ ہے، موبائل میں ڈکشنری ایپ ہے۔ پھر کتابی لغت کی کیا ضرورت؟

استاد محترم: ہنستے ہوئے: مشین ترجمہ لفظ کا جسد دیتا ہے، روح نہیں۔ وہ "ضَرَبَ" کا ترجمہ ہر جگہ "مارا" کرے گا، چاہے وہاں مطلب "مثال بیان کی" ہو، جیسے: "وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا" یہاں "مارا اللہ نے مثال" بے معنی ہے۔ لغت تمہیں بتائے گی کہ "ضرب المثل" محاورہ ہے جس کا معنی "مثال بیان کرنا" ہے۔

دوسری بات، کتابی لغت تمہیں لفظ کے مترادف، متضاد، اشتقاق، اور شعر و نثر میں استعمال بھی دکھاتی ہے۔ اس سے زبان پر دسترس پیدا ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "أنا أفصح العرب" میں عربوں میں سب سے فصیح ہوں۔ فصاحت لغت کے بغیر ممکن نہیں۔

عارف: تو کیا میں ہر لفظ لغت میں دیکھوں؟ یہ تو بہت وقت لے گا۔

استاد محترم: نہیں بیٹا، حکمت سے کام لو۔ پہلے پورا پیراگراف پڑھو۔ جو 3-4 کلیدی الفاظ سمجھ نہ آئیں، انہیں نوٹ کرو اور لغت دیکھو۔ رفتہ رفتہ تمہارا ذخیرہ الفاظ بڑھے گا اور لغت کی ضرورت کم ہو جائے گی۔

یاد رکھو، علم کی پہلی سیڑھی لفظ ہے، لفظ کی سیڑھی معنی ہے، اور معنی کی سیڑھی لغت ہے۔ اسی لیے صحابہ کرام شاعروں کے پاس جاتے تھے تاکہ قرآن کے مشکل الفاظ کا معنی سمجھ سکیں۔

عارف: استاد جی، آج میری آنکھیں کھل گئیں۔ کل سے میں "مصباح اللغات" اور "المعجم الوسیط" ساتھ رکھوں گا۔ ان شاء اللہ اب مطالعہ بے جان نہیں رہے گا۔

استاد محترم: ماشاء اللہ۔ اللہ تمہیں علم نافع عطا کرے۔ یاد رکھو، جس نے زبان کو عزت دی، زبان نے اسے عزت دی۔ اور سب سے بڑی عزت قرآن کی زبان عربی کو سمجھنے میں ہے، کیونکہ اللہ فرماتا ہے:

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ(۲)

ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو۔(یوسف:2)

اب جاؤ، اور لغت کو اپنا دوست بناؤ۔