مطالعہ علم کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، لیکن مطالعہ محض الفاظ کی گردانی کا نام نہیں بلکہ مفہوم کی تہہ تک پہنچنے کا عمل ہے۔ اس عمل میں "لغت" یعنی ڈکشنری وہ بنیاد ہے جس کے بغیر علم کی عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی۔ خاص طور پر جب بات ہو دینِ اسلام کی، قرآن و حدیث کی اور فقہِ اسلامی کی، تو لغت کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ اہل سنت و جماعت (برہلوی مکتبہ فکر) کے اکابرین اور جید علماء کرام نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی عبارت کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے اس زبان کے لغوی قواعد اور الفاظ کے اصل اشتقاق سے واقفیت ضروری ہے۔

لغت کی شرعی و علمی ضرورت:اسلامی علوم کا مدار عربی زبان پر ہے۔ امام المحدثین، شیخ الاسلام حضرت علامہ امام جلال الدین سیوطی شافعی (جنہیں امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی قدس سرہ اپنا پیشوا مانتے تھے) اپنی مشہور کتاب "الاتقان فی علوم القرآن" میں فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کے اسرار و رموز کو جاننے کے لیے لغت کا علم سب سے پہلا زینہ ہے۔

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ، جنہوں نے اپنی مایہ ناز تصنیف "فتاویٰ رضویہ" میں کئی مقامات پر لغت کی اہمیت کو واضح فرمایا ہے۔ آپ کا اندازِ تحقیق یہ تھا کہ جب کسی مسئلے پر بحث فرماتے تو پہلے اس کے لغوی معنی پر سیر حاصل گفتگو کرتے تاکہ اصطلاحی معنی سمجھنے میں آسانی ہو۔

فہمِ قرآن اور لغت:قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا۔ اسے سمجھنے کے لیے لغتِ عرب پر عبور ناگزیر ہے۔ امام احمد رضا خان کے خلیفہ اور مشہور مفسرِ قرآن، صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر "خزائن العرفان" میں جابجا لغوی ابحاث لائے ہیں۔مثال کے طور پر، لفظ "مولیٰ" کے کئی لغوی معنی ہیں۔ اگر کوئی شخص لغت سے ناواقف ہو تو وہ حدیث "من کنت مولاہ فعلی مولاہ" کا صحیح مطلب نہیں سمجھ سکتا۔ لغت بتاتی ہے کہ مولیٰ کے معنی دوست، مددگار، آزاد کرنے والا اور مختارِ کار کے بھی ہیں۔ علماءِ اہل سنت نے لغت کے سہارے ہی یہ ثابت کیا کہ یہاں مولیٰ سے مراد وہ محبت اور نصرت ہے جو ایمان کا جزو ہے۔

اگر مطالعہ کرنے والا لغت سے نابلد ہو تو وہ "مجاز" اور "حقیقت" کے فرق کو نہیں سمجھ پائے گا، جس سے گمراہی کا اندیشہ ہے۔

فتاویٰ رضویہ میں لغوی باریکیاں:امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تحریروں میں لغت کو جس طرح استعمال کیا، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آپ نے لغت کے ذریعے مخالفین کے اعتراضات کے دندان شکن جوابات دیے۔

آپ ایک بحث کے دوران لغتِ عرب کے مشہور امام "ابن منظور" کی کتاب "لسان العرب" اور "فیروز آبادی" کی "القاموس المحیط" کے حوالے دیتے ہیں۔ آپ کا موقف یہ تھا کہ جب تک لفظ کی اصل (Root word) معلوم نہ ہو، اس پر حکمِ شرعی لگانا جہالت ہے۔آپ نے فرمایا:"الفاظ کے لغوی معنی کا لحاظ رکھنا فقہاء کے نزدیک اس لیے ضروری ہے کہ احکامِ شرعیہ کا دارومدار اکثر عرف اور لغت پر ہوتا ہے۔" (فتاویٰ رضویہ، جلد 27، صفحہ 154 )

بدعقیدگی کا خطرہ: اگر کوئی "استویٰ" یا "ید" (ہاتھ) کے لغوی و مجازی فرق کو نہ سمجھے تو وہ اللہ عزوجل کے لیے جسم ثابت کرنے کی گمراہی میں پڑ سکتا ہے۔

غلط بیانی: لغت سے دوری انسان کو مصنف کی مراد سے دور کر دیتی ہے۔

ترجمہ کی غلطیاں: لغت کے بغیر کیا گیا ترجمہ بسا اوقات کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ اسی لیے امام احمد رضا خان نے "کنز الایمان" میں لغوی و نحوی باریکیوں کا خاص خیال رکھا۔

مطالعہ کے لیے اہم لغات (سنی علماء کی ترجیحات):ایک طالبِ علم کو مطالعہ کے دوران کن لغات سے مدد لینی چاہیے؟ علماءِ بریلی نے مندرجہ ذیل کتب کو معتبر مانا ہے:

المفردات فی غریب القرآن: امام راغب اصفہانی (قرآنی الفاظ کے لیے)۔

لسان العرب: علامہ ابن منظور۔

القاموس المحیط: علامہ فیروز آبادی۔

تاج العروس: علامہ مرتضیٰ زبیدی (جو کہ ایک عظیم سنی عالم اور محدث تھے)۔

لغت اور فقہِ اسلامی:فقہِ حنفی میں "الفاظ کے معانی" پر بہت زور دیا گیا ہے۔ کتاب "نور الانوار" (جو مدارس میں پڑھائی جاتی ہے) میں لغت، حقیقت، مجاز، کنایہ اور صریح کی بحثیں اس لیے رکھی گئی ہیں تاکہ ایک فقیہ جب مطالعہ کرے تو وہ جان سکے کہ کلام کس معنی میں مستعمل ہے۔

حضرت صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ "بہارِ شریعت" میں حج کے بیان میں یا نکاح و طلاق کے باب میں اکثر فرماتے ہیں کہ "لغت میں اس کا معنی یہ ہے اور شرع میں یہ"۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی قانون کو سمجھنے کے لیے لغت کی بنیاد ناگزیر ہے۔

حاصلِ بحث یہ ہے کہ مطالعہ ایک فن ہے اور لغت اس فن کا سب سے اہم اوزار ہے۔ چاہے وہ قرآن و حدیث ہو یا امام احمد رضا خان کے علمی شہ پارے، لغت کے بغیر ان کے عمیق مفاہیم تک پہنچنا ناممکن ہے۔ اہل سنت کے علماء نے ہمیشہ لغت کو "خادمِ شرع" قرار دیا ہے۔

ایک محقق اور طالبِ علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مطالعہ کی میز پر معتبر لغات کو جگہ دے۔ اگر ہم لغت کی اہمیت کو نظر انداز کریں گے تو ہم صرف الفاظ کے ڈھیر میں گم ہو جائیں گے اور علم کی روح تک کبھی نہیں پہنچ پائیں گے۔ جیسا کہ اعلیٰ حضرت نے اپنے کلام میں علم اور عقل کے توازن کی بات کی ہے، اسی طرح لغت اور فہم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔خداوندِ قدوس ہمیں علمِ دین کو صحیح لغوی و شرعی تناظر میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔