انسان کی زندگی میں علم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اور علم حاصل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ مطالعہ ہے۔ مطالعہ انسان کے ذہن کو روشن کرتا سوچ کو وسعت دیتا اور شخصیت کو نکھارتا ہے۔ مگر مطالعہ اسی وقت فائدہ مند ہوتا ہے جب قاری عبارت کو صحیح طور پر سمجھ سکے۔ زبان کے الفاظ اور ان کے مفاہیم سے آگاہی کے بغیر مطالعہ بے معنی ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لغت کو مطالعہ کا لازمی ساتھی کہا جاتا ہے۔

لغت کا تعارف:لغت ایسی کتاب کو کہتے ہیں جس میں الفاظ کے معانی تلفظ املا ءاور استعمال کو ترتیب کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ ہر زبان کی اپنی لغت ہوتی ہے، جیسے اردو لغت عربی لغت یا انگریزی ڈکشنری لغت زبان سیکھنے والوں کے لیے رہنمائی حیثیت رکھتی ہے۔لہذا مندرجہ ذیل طریقوں کو استعمال میں لاتے ہوئے ہم لغت کے سہارے سے اپنے مطالعہ میں مزید وسعت پیدا کی جاسکتی ہے ۔وہ طریقے درج ذیل ہیں :

(1)ذخیرہ الفاظ میں اضافہ:مطالعہ کے دوران جب قاری لغت کا استعمال کرتا ہے، تو اس کے الفاظ کے ذخیرے میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے، جو لکھتے اور بولتے وقت بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔

(2)نئی اصطلاحات کی تفہیم: ہر علم اور شعبے کی اپنی مخصوص زبان اور اصطلاحات ہوتی ہیں۔ لغت قاری کو ان مشکل اور تکنیکی الفاظ کے معانی سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔لغت کا استعمال قاری کی فہم و فراست کو جلا بخشتا ہے اور تحریر کو سمجھنے کی راہ میں حائل تمام مشکلات کو دور کرتا ہے۔لغت کا استعمال زبان اور الفاظ کو مزید مزین کردیتا ہے ۔

(3)لغت کی اہمیت:لغت دراصل الفاظ کا خزانہ ہے۔ اس میں زبان کے الفاظ کے معنی تلفظ املاء اور استعمال کو منظم انداز میں جمع کیا جاتا ہے۔ جب کوئی طالب علم یا قاری مطالعہ کے دوران کسی اجنبی یا مشکل لفظ سے ملتا ہے تو لغت اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ یوں قاری نہ صرف لفظ کا مفہوم جان لیتا ہے بلکہ عبارت کے اصل مقصد تک بھی پہنچ جاتا ہے۔

(4)علم میں اضافے کا سبب:مطالعہ میں لغت کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ انسان کے علم میں اضافہ کرتی ہے۔ ایک لفظ کے معنی تلاش کرتے ہوئے کئی دوسرے الفاظ بھی سامنے آتے ہیں، جس سے ذخیرہ الفاظ وسیع ہوتا جاتا ہے۔ یہی وسیع ذخیرۂ الفاظ انسان کی گفتگو اور تحریر کو مؤثر اور دلکش بناتا ہے۔ جو شخص زیادہ الفاظ جانتا ہو، وہ اپنے خیالات کو زیادہ خوبصورتی اور وضاحت سے بیان کر سکتا ہے۔

(5)زبان کی اصطلاح میں کردار:لغت زبان کی اصلاح میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اکثر لوگ الفاظ کے غلط ہجے لکھتے یا غلط تلفظ ادا کرتے ہیں۔ لغت ان غلطیوں کی درستگی کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف درست املاء معلوم ہوتی ہے بلکہ الفاظ کے صحیح استعمال کا طریقہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے۔ اس طرح انسان کی زبان معیاری بنتی ہے۔

(6)مشکلات کا حل: انسان مضامین کا مطالعہ کرتے وقت کئی مشکلات سے گزرتے ہیں۔ اگر لغت ان کی مدد نہ کرے تو وہ پوری طرح نہیں سمجھ سکتے۔ خصوصاً عربی، اردو جیسی زبانوں کے طلبہ کے لیے لغت ایک استاد کی کھتی ہے جو ہر قدم پر ان کی رہنمائی کرتی ہے۔

اب اس جدید دور میں لغت کی شکل مزید جدید ہو گئی ہے۔ پہلے بڑی کتابی لغات استعمال کرتے تھے، لیکن اب موبائل انٹرنیٹ پر آن لائن لغات موجود ہیں۔ چند لمحوں میں انٹرنیٹ پر لفظ کا معنی و تلفظ اور اسکے استعمال کا طریقہ کار معلوم کیا جا سکتا سہولت نے مطالعہ کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔

(7)الفاظ کے معانی سمجھنے میں مدد:مطالعہ کے دوران اکثر ایسے الفاظ سامنے آتے ہیں جن کے معنی معلوم نہیں ہوتے۔ اگر قاری ان الفاظ کے معانی نہ جانے تو پوری عبارت سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ لغت مشکل الفاظ کے معنى واضح کرتی ہے اور قاری کو عبارت کے اصل مفہوم تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔مثال کے طور پر اگر کسی طالب علم کو استقامت" یا فصاحت" جیسی الفاظ سمجھ نہ آئیں تو لغت ان کے معنی آسانی سے بتا دیتی ہے۔ اس طرح مطالعہ میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی۔

(8)ذخيرة الفاظ میں اضافہ:لغت کے مسلسل استعمال سے انسان کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب طالب علم نئے الفاظ سیکھتا ہے تو اس کی گفتگو اور تحریر میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔ زیادہ الفاظ جاننے والا شخص اپنے خیالات بہتر انداز میں بیان کر سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ لغت مطالعہ کی روح ہے۔ یہ انسان کو الفاظ کی دنیا سے روشناس کراتی علم میں اضافہ کرتی اور زبان پر عبور عطا کرتی ہے۔ جو شخص لغت کے استعمال کی عادت اپنا لیتا ہے، اس کے لیے علم کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس لیے ہر طالب علم اور قاری کو چاہیے کہ مطالعہ کے ساتھ لغت کو بھی اپنا مستقل ساتھی بنائے۔