جب ہم مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمارا واسطہ اکثر ایسے الفاظ سے پڑتا ہے جو ہماری روزمرہ گفتگو کا حصہ نہیں ہوتے۔ ایسے میں مطالعے کی روانی متاثر ہوتی ہے اور ذہن الجھ کر رہ جاتا ہے۔ یہاں لغت ایک مصلح اور رہنما کے طور پر سامنے آتی ہے۔ وہ نہ صرف اس مشکل لفظ کے معنی واضح کرتی ہے بلکہ پڑھنے اور پڑھانے والے کے سامنے اس کے مترادفات اور متضاد الفاظ کا پورا ایک ذخیرہ کھول کر رکھ دیتی ہے۔ لغت محض کتابوں کی ایک کتاب نہیں، بلکہ یہ زبان کا وہ جغرافیہ ہے جو ہمیں لفظوں کی سرحدوں، ان کی تاریخ اور ان کے بدلتے ہوئے رنگوں سے روشناس کراتا ہے۔ کسی بھی سنجیدہ قاری کے لیے لغت کی اہمیت وہی ہے جو ایک اندھیری رات میں مسافر کے لیے مشعل کی ہوتی ہے۔

لغت کا استعمال مطالعے کو گہرے پن سے نکال کر آسانی بخشتا ہے۔ یہ قاری کو مصنف کے اصل مدعا تک پہنچاتی ہے، جس سے مطالعہ ادھورا نہیں رہتا بلکہ تفہیم کی گرہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔

اگر طلبہ لغت کا مؤثر استعمال سیکھ لیں، تو یہ ان کے مطالعے کے لیے ایک بہترین اور مددگار ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ لغت کے صحیح استعمال کی تربیت سے طلبہ کو کسی خاص سیاق و سباق کے مطابق درست معنی کا انتخاب کرنے میں مدد ملتی ہے۔ لغت استعمال کرنے کی سب سے بنیادی اور اہم مہارت یہ ہے کہ جو لفظ یا اصطلاح آپ کے ذہن میں ہو، اسے ڈھونڈا جائے۔ اس کے بعد، اس لفظ کا معنی تلاش کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، جب ایک ہی لفظ کے کئی معنی دیے گئے ہوں، تو دیے گئے سیاق و سباق کے لحاظ سے مناسب معنی کا انتخاب کرنا ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔

مثال کے طور پر، لغت کے استعمال سے ہم ایک لفظ کے کئی مختلف معانی اور استعمالات کی پہچان کر سکتے ہیں۔

فکری گمراہی سے نجات کا ذریعہ:مطالعہ کے دوران لغت کا نہ ہونا بعض اوقات سنگین فکری غلط فہمیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر پڑھنے والا کسی لفظ کا غلط مفہوم اخذ کر لے، تو وہ پورے جملے، پیراگراف یا بعض اوقات پوری کتاب کے نظریے کو الٹا سمجھ بیٹھتا ہے۔ لغت سامع کو اس قسم کی فکری گمراہی اور قیاس آرائیوں سے بچاتی ہے۔ یہ علم کو گمان کے اندھیروں سے نکال کر یقین کی روشنی میں لاتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ علم میں "تخمینہ" نہیں بلکہ "تحقیق" اصل بنیاد ہے۔

کتابیں اگر عقل و شعور کے قفل ہیں، تو لغت ان قفلوں کو کھولنے والی بنیادی چابی ہے۔ مطالعہ کی عادت لغت کے بغیر ادھوری، بے رنگ اور سست رو رہتی ہے۔ جو شخص اپنے مطالعہ کی میز پر کتاب کے ساتھ لغت کو بھی جگہ دیتا ہے، وہ کبھی علم کے سفر میں تھکتا نہیں اور نہ ہی کبھی گمراہ ہوتا ہے۔ لغت دراصل لفظوں کی عدالت ہے جہاں ہر لفظ اپنے پورے سچ، تشخص اور وقار کے ساتھ زندہ رہتا ہے، اور پڑھنے والے کو دانشمندی کی نئی منزلوں سے ہمکنار کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں مطالعہ کرنے اور علم دین حاصل کرنے کی کوشش اور توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔