محمد
زبیر عطاری(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد،کراچی،پاکستان)
لغت کسی
بھی زبان کا خزانہ ہوتی ہے۔ مطالعہ کے دوران لغت کا استعمال علم کو گہرا، درست اور
مؤثر بناتا ہے۔
(1) الفاظ کے درست معنی سمجھنا :جب آپ کوئی
کتاب، مضمون یا تحریر پڑھتے ہیں تو ہر لفظ کا وہی مطلب لینا ضروری ہے جو مصنف نے
مراد لیا ہے۔ لغت آپ کو لفظ کے بنیادی اور اصطلاحی معنی، محاورے اور استعمال کا سیاق
و سباق بتاتی ہے۔ اس سے غلط فہمی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
(2) ذخیرہ الفاظ میں اضافہ :مطالعہ کے
دوران نئے الفاظ ملتے ہیں۔ لغت سے ان کے مترادف، متضاد اور مشتقات دیکھنے سے آپ کا
لغوی ذخیرہ بڑھتا ہے۔ یہی ذخیرہ لکھنے اور بولنے میں روانی لاتا ہے۔
(3) زبان پر گرفت مضبوط ہونا :لغت
گرامر، تلفظ اور استعمال کے فرق کو واضح کرتی ہے۔ اس سے آپ کی زبان پر عبور بڑھتا
ہے اور آپ پیچیدہ تحریروں کو بھی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔
(4)تنقیدی اور تحقیقی مطالعہ میں
مدد :تحقیق، ترجمہ، ادب اور دینی علوم میں ایک لفظ کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ لغت
کے بغیر اصل مفہوم تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن و حدیث کے مطالعہ
میں عربی لغت ناگزیر ہے۔
(5)خود اعتمادی اور خود مطالعہ :جب آپ کے
پاس اچھی لغت ہو تو ہر چھوٹے مسئلے کے لیے کسی اور پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔ آپ
خود سیکھ سکتے ہیں، اور مطالعہ کا شوق بڑھتا ہے۔
اللہ پاک
سے دعا ہے کہ ہمیں بھی مطالعہ کرنے کا ذوق و شوق عطا فرمائے۔ اور مطالعہ کر کے اسے
سمجھنے اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
Dawateislami