کتابوں سے دوستی انسان کو ایک الگ ہی دنیا کی طرف گامزن کرتی ہے۔ مطالعہ صرف صفحات پلٹنے یا لفظوں کو ایک نظر دیکھنے کا نام نہیں ہے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم ایک بہترین کتاب پڑھ تو رہے ہوتے ہیں، کہانی یا مضمون اپنے پورے عروج پر ہوتا ہے، اور اچانک ایک ایسا مشکل لفظ سامنے آ جاتا ہے جو پورے جملے کا توازن بگاڑ دیتا ہے۔ ایسے میں اگر ہم اس لفظ کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جائیں، تو وہ خوبصورت خیال ادھورا رہ جاتا ہے۔ یہیں پر ہمیں ایک ایسی چیز اور رہنما کی ضرورت ہوتی ہے، جسے ہم 'لغت' یا 'ڈکشنری' کہتے ہیں۔

(1)مفہوم کی درستی اور گہرائی:کسی بھی تحریر کا اصل لطف تب ہی آتا ہے جب مصنف کا اصل پیغام پڑھنے والے تک پہنچے۔ لغت ہمیں نہ صرف لفظ کا سیدھا سادہ مطلب بتاتی ہے، بلکہ اس کے مختلف پہلوؤں سے بھی پردہ اٹھاتی ہے۔ اس سے ہم تحریر کے ظاہری الفاظ کے پیچھے چھپے گہرے فلسفے کو سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔

(2)ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ:اکثر کہا جاتا ہے کہ ایک اچھا پڑھنے والا ہی ایک اچھا متکلم یا مصنف بنتا ہے۔ جب ہم مطالعہ کے دوران لغت کا استعمال کرتے ہیں، تو روزانہ کئی نئے الفاظ ہمارے ذہن کا حصہ بنتے ہیں۔ یہ الفاظ کا زخیرہ ہماری اپنی گفتگو اور تحریر کو خوبصورت، جاندار اور اثر انگیز بنا دیتا ہے۔

(3)زبان دانی میں خود اعتمادی:جب آپ کے پاس لغت کی مدد سے سیکھا ہوا علم ہوتا ہے، تو آپ کسی بھی مشکل کتاب کو پڑھنے سے گھبراتے نہیں ہیں۔ یہ عادت انسان کے اندر ایک علمی خود اعتمادی پیدا کرتی ہے، اور وہ ہر طرح کے ادب کا مطالعہ کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

مطالعہ کے دوران اپنے پاس لغت رکھنا (خواہ وہ کتابی صورت میں ہو یا موبائل ایپ کی صورت میں) ایک سنجیدہ پڑھنے والے کی نشانی ہے۔ یہ ہمیں لفظوں کا محتاج نہیں نہیں بلکہ ان ذوق رکھنے والا بناتی ہے۔ اگر آپ اپنے مطالعے کے سفر کو واقعی بامقصد اور بنانا چاہتے ہیں، تو کتاب کے ساتھ لغت کو بھی اپنا ہمسفر بنا لیجئے۔ کیونکہ لغت کے بغیر مطالعہ ایسا ہی ہے۔جیسے : کوئی بغیر چراغ کے اندھیری راہوں پر نکل کھڑا ہو۔

اللہ پاک میری اس کوشش کو اپنی پاک بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔