انسان کی زندگی میں علم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔(سنن ابن ماجة جلد 1 صفحة 151 حديث 224 دار الرسالة العالمية)

علم وہ نور ہے جو جہالت کے اندھیروں کو مٹاتا ہے اور شعور کی راہیں کھولتا ہے۔ کسی بھی فرد کی ذاتی ترقی اور قوم کا عروج علم کے بغیر ناممکن ہے۔ علم حاصل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ مطالعہ ہے، لیکن مطالعہ اسی وقت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جب انسان الفاظ کی گہرائی اور ان کے حقیقی معانی کو صحیح طور پر سمجھ سکے۔

اس مقصد کے لیے لغت (ڈکشنری) نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لغت محض ایک کتاب کا نام نہیں، بلکہ یہ الفاظ کا وہ سمندر ہے جس میں معانی، تلفظ، املا اور الفاظ کے درست استعمال کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ یہ طالبِ علم کے لیے ایک خاموش لیکن انتہائی قابلِ اعتماد استاد کی حیثیت رکھتی ہے۔

​اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں علم اور اہل علم کی فضیلت کو انتہائی خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ

ترجمۂ کنز الایمان: تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان ۔( سورۃ الزمر: 9)

اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات میں علم رکھنے والوں کا مقام بہت بلند ہے۔ چونکہ لغت علم کے حصول اور فہمِ کلام کا ایک بہترین ذریعہ ہے، اس لیے اس کی علمی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ اسی طرح، حضور جان عالم ﷺ نے علم و حکمت کی جستجو کو مسلمان کا بنیادی مقصد قرار دیتے ہوئے فرمایا:

(حکمت اور دانائی کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے، وہ اسے جہاں بھی پائے، وہ اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔(جامع ترمذی جلد 4 صفحة 620 حديث 2882 دار الرسالة العالمية)۔

​دورانِ مطالعہ اکثر ایسے ثقیل اور مشکل الفاظ سامنے آتے ہیں جو عبارت کے مجموعی مفہوم کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ لغت ان مشکل الفاظ کے معنی واضح کر کے پڑھنے والے کے لیے علم کی راہ آسان بنا دیتی ہے۔ لغت کا مسلسل استعمال انسان کے ذخیرۂ الفاظ (Vocabulary) کو وسیع کرتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی گفتگو اور تحریر میں کی پختگی، فصاحت اور بلاغت پیدا ہوتی ہے۔

لغت ہمیں اس قابل بناتی ہے کہ ہم اساتذہ کے مشکل اور عمیق ادبی کلام کو بھی آسانی سے سمجھ سکیں۔

​لغت صرف طلبہ ہی کے لیے نہیں، بلکہ تحقیق اور تصنیف کے میدان میں بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے علماء، مصنفین اور شعراء اپنی تحریروں میں الفاظ کے درست اور برمحل استعمال کے لیے ہمیشہ لغات سے رجوع کرتے رہے ہیں۔ اگر لفظ کا صحیح مفہوم معلوم نہ ہو، تو تحریر کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ دینی علوم، خاص طور پر قرآنِ مجید کی تفسیر اور احادیثِ مبارکہ کی تشریح میں لغت کی اہمیت ناگزیر ہے۔ قرآن کے کئی الفاظ اپنے اندر گہرے فکری و لغوی مفاہیم رکھتے ہیں، جنہیں عربی لغت کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح اردو، فارسی اور انگریزی جیسی زبانوں میں مہارت حاصل کرنے کے لیے لغت کا دامن تھامنا لازم ہے۔

​آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور نے لغت کے استعمال کو بھی انتہائی آسان اور تیز رفتار بنا دیا ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر ہزاروں آن لائن لغات موجود ہیں جو چند سیکنڈز میں الفاظ کے معنی اور درست تلفظ (Audio Pronunciation) فراہم کر دیتی ہیں۔ اس ڈیجیٹل انقلاب سے طلبہ کا مطالعہ زیادہ مؤثر اور سہل بن گیا ہے۔ مختصر یہ کہ لغت مطالعہ کی جان اور علم کا روشن چراغ ہے۔ یہ نہ صرف مشکل الفاظ کے پردے ہٹاتی ہے بلکہ انسان کی علمی، فکری اور ادبی صلاحیتوں کو جِلا بخشتی ہے۔ علم کی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہر طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ لغت سے دوستی قائم کرے اور مطالعہ کے دوران اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔

الله کریم ہمیں علم نافع عطا فرمائے اور علم غیر نافع سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین ۔