محمد
منیب الرحمن عطاری(درجہ سابعہ جامعۃ المدینۃ اپر مال روڈ، لاہور،پاکستان)
آخر لغت کیوں ضروری ہے: انسان جب
مطالعہ کیلیے بیٹھتا ہے تو اسکے سامنے الفاظوں کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے ۔ اب جن
الفاظوں کی پہچان اسے ہے انکو سمجھنا مشکل نہیں البتہ وہ الفاظ جن کو اس نے پہلے
محسوس نہ کیا ہو اسکے لیے اسکو صعوبت(مشکل) اٹھانی پڑے گی ۔ کیونکہ ہر لکھاری کا
انداز ِ تحریر مختلف ہوتا ہے بعض حضرات آسان فہم الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں جبکہ بعض
فصاحت و بلاغت پر مبنی الفاظ کو ترجیح دیتے ہیں ۔ایسی صورت میں اگرقاری الفاظ کی
پہچان اور اس پر مضبوطی رکھتا ہوگا پھر تو اسکے لیے کوئی مشکل نہیں لیکن اگر وہ
الفاظ کے بارے میں معلومات نہیں رکھتا ایسی صورت میں اسکے لیے مشکل لاحق ہوسکتی ہے
لہذا لغت پر مضبوطی بےحد ضروری ہے ۔
لغت کا استعمال: لغت کا
استعمال قاری اور لکھاری دونوں کیلیے مفید و ضروری ہے کیونکہ جب تک لکھاری الفاظوں
کو اپنے مطالعہ میں رکھے گا اور انہیں اپنی تحریروں میں موتیوں جیسا پروئے گا اس
وقت تک اسکی تحریر کو اہمیت کے دائرے میں سمایا جائے گا اور اسے قدر کی نگاہ سے
دیکھا جائے گا ۔ جتنی لغت ایک لکھاری کے لیے مفید و ضروری ہے اتنی ہی ایک قاری کے
لیے بھی ضروری ہے کہ وہ الفاظ کو اپنی نظروں میں رکھے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ بعض
اوقات آسان فہم الفاظ کو تو بندہ سمجھ لیتا ہے مگر مشکل الفاظ کی جب باری آتی ہے
اس وقت انسان کو تکلیف کا سامنا کر نا پڑھ سکتا ہے لہذا مستقبل میں مصیبت سے بچنے
کے لیے اگر ابھی سے ہی لغات پر قدم جما لے گا تو نہ صرف کتابوں میں بلکہ اپنی بول
چال میں بھی بڑا فرق محسوس کرے گا ۔
لغت کی اہمیت و افادیت :
(1)قرآنی الفاظ کا فہم:عربی لغت
کے بغیر قرآن کے دقیق الفاظ کا مفہوم سمجھنا ناممکن ہے۔
مثال: لفظ "الصمد" کا گہرا
علمی مفہوم لغت کی مدد سے ہی واضح ہوتا ہے (وہ ہستی جو سب سے بے نیاز ہو)۔
(2)درست فہم و ادراک :لغت ہمیں
کسی لفظ کا اصل اور درست مطلب سمجھاتی ہے جس سے تحاریر اور تقاریر میں واضح ابلاغ
ممکن ہے ۔
(3)ذخیرہ الفاظ میں اضافہ:لغت کا
استعمال نئے الفاظ سکھاتی ہے جو زبان پر عبور حاصل کرنے اور تحریری صلاحیتوں کو
نکھارنے کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ مثلاً اگر آپ صرف لفظ "خوبصورت"جانتے ہیں، تو لغت آپ کو "حسین، جمیل، رعنا، اور
دلکش" جیسے نئے الفاظ دے کر آپ کی گفتگو کو بہتر بناتی ہے۔
(4)تلفظ کی درستگی:لغت میں
اعراب اور صوتی علامات دی گئی ہوتی ہیں جن کی مدد سے الفاظ کا تلفظ درست کیا جا
سکتا ہے ۔ مثلا ً لفظ غَلَطْ خود غَلْطْ ہے ۔
(5)زبان کی حفاظت اور ارتقاء:لوگ کسی
زبان کی تاریخی سرمائے کو محفوظ رکھتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ
الفاظ کے معنی میں کیا تبدیلی آئی ہے۔
(6)مترادف اور متضاد الفاظ:کسی بھی
زبان میں روانی اور خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے لغت مترادفات اور متضاد الفاظ تلاش
کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔مثلا ً "الجون" اسکا معنی سفید بھی
ہے اور سیاہ بھی ۔
(7)صرف و نحو (واحد جمع):لغت بتاتی
ہے کہ "خلق" کی جمع "اخلاق" ہے اور "امر" کی جمع "امور" ہے، جس سے تحریر میں قواعد کی غلطی نہیں ہوتی۔
(8)سیاق و سباق کا فہم:لفظ "لگنا" کے کئی استعمال ہیں: جیسے "پھل لگنا"، "دل لگنا"، یا
"چوٹ لگنا"۔ لغت ان کے فرق کی مثالیں دیتی ہے۔
(9)تاریخی پس منظر (ماخذ):لغت یہ
معلومات دیتی ہے کہ لفظ "چائے" چینی زبان سے آیا ہے اور "کیمرہ" لاطینی لفظ "کیمرا" (کمرہ) سے نکلا ہے۔
(10)اعراب کے فرق سے معنی کی تبدیلی
(عربی مثال):عربی میں صرف ایک زبر یا زیر بدلنے سے معنی زمین آسمان کا فرق آ جاتا ہے۔ مثال: لغت بتاتی ہے کہ "جَنَّة" (جیم پر زبر) کا مطلب جنت/باغ
ہے، جبکہ "جِنَّة" (جیم کے نیچے زیر) کا مطلب جنون یا جنات ہے،اور جُنَّۃ کا
معنی ڈھال ہے ۔
(11)اشتقاق (Derivation) کا علم:عربی لغت یہ بتاتی ہے کہ ایک لفظ سے دوسرے الفاظ کیسے بنتے ہیں۔
مثال: "نصر" (مدد کرنا) سے "ناصر" (مدد کرنے والا) اور "منصور" (جس کی مدد کی گئی)۔
(12)جڑ یا مادے کا علم : لغت
الفاظ کے مادے تک پہنچاتی ہے۔مثال: لفظ "کتاب"، "مکتوب" اور "کاتب" سب ایک ہی مادے (ک-ت-ب )سے نکلے ہیں۔ یہ علم لغت کے
بغیر ممکن نہیں۔
چند کتب جو
عربی لغت تلاش کرنے کے لیے مفید ثابت ہوں گیں:
(1)کتاب
العین (عربی لغت پر لکھی جانے والی پہلی کتاب)
مؤلف
:امام خلیل بن احمد/اللیث بن مظفر (مؤلف میں اختلاف دونو ں طرفوں کے اپنے اپنے
دلائل)
(2)الجمھرۃ:مؤلف
: ابوبکر محمد بن الحسن بن درید الازدی (المتوفیٰ321ھ/325ھ)
(3)المحکم:مؤلف
:ماہر اللغت ابوالحسن علی بن اسمٰعیل (المتوفیٰ458ھ)
(4)البارع:مؤلف
:ماہر اللغت ابو علی اسمٰعیل بن القاسم بن عیذون بن بن ہارون بن عیسیٰ بن محمد
القالی البغدادی (المتوفیٰ356یا 366ھ)
(5)تاج اللغۃ وصحاح العربیۃ:مؤلف :ابو نصر اسمٰعیل بن حماد الجوہری
الفارابی(المتوفیٰ 398ھ/393ھ/400ھ)
(6)لسان
العرب:مؤلف:ابو الفضل جمال الدین محمد بن مکرم الافریقی المصری الانصاری الخضرجی
الرویفعی (المتوفیٰ 711ھ)
(7)القاموس
المحیط:مؤلف: مجدالدین ابو طاہر محمد بن یعقوب بن ابراہیم الفیروز آبادی ہیں
(المتوفیٰ 827ھ)
(8)تاج العروس:مؤلف: محب الدین ابو الفیض سید محمد مرتضی الحسینی
الواسطی الزبیدی ہے (المتوفیٰ 1205ھ)
اللہ رب
العاملین ہم سب کو علم دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائےآمین۔
Dawateislami