محمد
مزمل باروی (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد ،کراچی ،پاکستان)
علم حاصل
کرنے کے لیے مطالعہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اگر طالبِ علم الفاظ کے معانی سے
واقف نہ ہو تو مطالعہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لغت کو علم کی کنجی کہا
جاتا ہے۔ لغت انسان کو الفاظ کے صحیح معنی، ان کے استعمال اور زبان کی خوبصورتی سے
آشنا کرتی ہے۔
جب طالبِ
علم کسی کتاب کا مطالعہ کرتا ہے تو اس میں بہت سے ایسے الفاظ آتے ہیں جو اس کے لیے
نئے ہوتے ہیں۔ اگر وہ لغت سے مدد نہ لے تو نہ عبارت صحیح سمجھ میں آتی ہے اور نہ ہی
مضمون کا اصل مفہوم واضح ہوتا ہے۔ لیکن جو طالبِ علم لغت استعمال کرنے کا عادی ہو،
وہ مشکل سے مشکل عبارت کو بھی آسانی سے سمجھ لیتا ہے۔
لغت صرف
الفاظ کے معنی نہیں بتاتی بلکہ انسان کے علم میں وسعت پیدا کرتی ہے، زبان کو مضبوط
بناتی ہے اور گفتگو و تحریر میں پختگی پیدا کرتی ہے۔ عربی، اردو یا انگریزی ہر
زبان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے لغت سے تعلق ضروری ہے۔ بڑے بڑے علماء اور ادباء
بھی مطالعہ کے دوران لغت سے رجوع کرتے تھے۔
آج کے دور
میں بہت سے طلبہ صرف سرسری مطالعہ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی علمی بنیاد کمزور
رہتی ہے۔ اگر طالبِ علم روزانہ چند نئے الفاظ یاد کرے اور ان کے استعمال کی مشق
کرے تو اس کی زبان، تحریر اور فہم میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ مطالعہ کے ساتھ لغت کو اپنا ساتھی بنائیں، کیونکہ لغت علم کے خزانوں تک
پہنچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ جو شخص لغت سے دوستی کر لیتا ہے وہ کہں مار نہیں کھاتا۔
Dawateislami