دانیال
سہیل عطاری مدنی(ناظم جامعۃ المدینہ دومیل اٹک راولپنڈی ،پاکستان)
مطالعہ
انسان کی ذہنی نشوونما اور علمی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے اور مطالعہ کو مؤثر بنانے
میں لغت کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔لغت دراصل الفاظ کے معانی، استعمال اور درست
تلفظ تک رسائی کا بہترین وسیلہ ہے۔جب کوئی طالب علم یا قاری کسی نئی کتاب کا
مطالعہ کرتا ہے تو اسے بے شمار ایسے الفاظ ملتے ہیں جو اس کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔اگر
وہ ان الفاظ کو نظر انداز کر دے تو مطالعہ ادھورا رہ جاتا ہے اور مفہوم پوری طرح
واضح نہیں ہو پاتا۔
لغت کی افادیت:یہی وہ
مقام ہے جہاں لغت رہنمائی فراہم کرتی ہے اور قاری کو صحیح معنی تک پہنچاتی ہے۔لغت
کا استعمال مطالعہ کو سطحی نہیں بلکہ گہرا اور بامعنی بنا دیتا ہے۔لغت کے ذریعے
الفاظ کے اصل معنی، مترادفات اور متضاد الفاظ معلوم ہوتے ہیں جس سے زبان پر عبور
حاصل ہوتا ہے۔جو طالب علم لغت کے ساتھ مطالعہ کرنے کی عادت اپناتا ہے وہ آہستہ
آہستہ مضبوط ذخیرۂ الفاظ کا مالک بن جاتا ہے۔
ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ:ذخیرۂ
الفاظ کی وسعت انسان کے اظہار کو خوبصورت اور مؤثر بناتی ہے۔لغت مطالعہ کے دوران
ذہنی الجھن کو دور کرتی ہے اور قاری کو خود اعتمادی عطا کرتی ہے۔جب مشکل الفاظ کے
معنی فوراً معلوم ہو جائیں تو پڑھنے میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے اور یکسوئی پیدا ہوتی
ہے۔لغت نہ صرف زبان سکھاتی ہے بلکہ سوچنے کا انداز بھی بہتر بناتی ہے۔
فہم و تدبر میں معاونت:اس کے ذریعے
جملوں کی ساخت اور الفاظ کے صحیح استعمال کا شعور پیدا ہوتا ہے۔لغت مطالعہ کو محض
الفاظ کی پہچان سے نکال کر فہم اور تدبر تک لے جاتی ہے۔ایک اچھا قاری ہمیشہ لغت کو
اپنا مستقل ساتھی بناتا ہے۔تعلیمی میدان میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کی ایک
نمایاں عادت لغت کا باقاعدہ استعمال ہوتی ہے۔
تحقیق اور تحریر میں کردار:یہ عادت
انہیں تحقیق اور تحریر دونوں میں برتری عطا کرتی ہے۔لغت سے رجوع کرنے والا طالب
علم خود سیکھنے کا عادی بن جاتا ہے۔یہ خود انحصاری اس کی شخصیت کو مضبوط بناتی
ہے۔مطالعہ میں لغت کا استعمال وقت کے ساتھ تیز رفتاری بھی پیدا کرتا ہے کیونکہ بار
بار دیکھے گئے الفاظ ذہن نشین ہو جاتے ہیں۔اس طرح قاری کا اعتماد اور رفتار دونوں
بڑھتے ہیں۔
زبان کی باریکیاں:لغت انسان
کو زبان کی باریکیوں سے آشنا کرتی ہے۔یہ مطالعہ کو محض معلومات تک محدود نہیں رہنے
دیتی بلکہ فہم و شعور میں اضافہ کرتی ہے۔لغت کا استعمال علمی ذوق کو پروان چڑھاتا
ہے اور تحقیق کا دروازہ کھولتا ہے۔جو قومیں لغت اور مطالعہ سے مضبوط تعلق رکھتی ہیں
وہ علمی میدان میں آگے بڑھتی ہیں۔اسی لیے اساتذہ ہمیشہ طلبہ کو لغت کے استعمال کی
ترغیب دیتے ہیں۔
لغت علم کی کنجی:لغت دراصل
علم کی کنجی ہے جو بند دروازے کھول دیتی ہے۔اگر مطالعہ کے ساتھ لغت کو شامل کر لیا
جائے تو سیکھنے کا عمل کئی گنا مؤثر ہو جاتا ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ لغت کے بغیر
مطالعہ ادھورا اور لغت کے ساتھ مطالعہ مکمل اور بامقصد بن جاتا ہے۔مطالعہ کی دنیا
میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو الفاظ کی طاقت کو سمجھتا ہے۔الفاظ ہی خیالات کی
ترجمانی کرتے ہیں اور خیالات ہی علم کی بنیاد ہوتے ہیں۔
تحریر و تقریر میں بہتری:جب الفاظ
واضح ہوں تو خیالات بھی روشن ہو جاتے ہیں۔لغت اس روشنی کو بڑھانے کا بہترین ذریعہ
ہے۔لغت کے ذریعے زبان کے درست اور غلط استعمال میں فرق سمجھ آتا ہے۔یہ فرق انسان کی
تحریر اور تقریر دونوں کو بہتر بناتا ہے۔جو طلبہ لغت کے استعمال سے دور رہتے ہیں
وہ اکثر مشکل نصاب سے گھبرا جاتے ہیں۔اس کے برعکس لغت کے عادی طلبہ ہر مشکل متن کو
اعتماد سے پڑھ لیتے ہیں۔
ادبی ذوق اور ثقافتی آگاہی: لغت قاری
کو تحقیق کے راستے پر گامزن کرتی ہےجب کسی لفظ کا پس منظر معلوم ہوتا ہے تو اس کے
ساتھ جڑی تاریخ اور ثقافت بھی سامنے آتی ہے۔یوں مطالعہ محض الفاظ نہیں رہتا بلکہ ایک
مکمل تجربہ بن جاتا ہے۔لغت کے ذریعے زبان کی خوبصورتی اور لطافت کو سمجھا جا سکتا
ہے۔یہ انسان کے ادبی ذوق کو جلا بخشتی ہے۔
اندازِ بیان میں نکھار:اچھی تحریر
لکھنے والے افراد عموماً لغت کے مستقل صارف ہوتے ہیں۔لغت تحریر میں تکرار سے بچاتی
ہے اور نئے الفاظ کا خزانہ فراہم کرتی ہے۔اس سے اندازِ بیان میں تنوع پیدا ہوتا
ہے۔لغت انسان کو علمی گفتگو میں اعتماد دیتی ہے۔جب الفاظ کا درست استعمال آ جائے
تو بات زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے۔
لغت ذہن
کو متحرک اور جستجو کو زندہ رکھتی ہے۔یہ سیکھنے کے عمل کو مسلسل جاری رکھنے میں
مدد دیتی ہے۔لغت کے ذریعے مختلف زبانوں کے درمیان تعلق کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔یہ
عمل ذہنی وسعت کا سبب بنتا ہے۔لغت نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ اور محققین کے لیے بھی یکساں
اہم ہے۔ہر وہ شخص جو علم سے محبت رکھتا ہے لغت سے ضرور فائدہ اٹھاتا ہے۔لغت مطالعہ
کے سفر میں رہنما چراغ کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ اندھیرے راستوں کو روشن کر دیتی ہے
اور قاری کو منزل تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ لغت کے بغیر
مطالعہ ادھورا ہے اور لغت کے ساتھ مطالعہ مکمل اور بامقصد بن جاتا ہے۔لہٰذا ہر
طالب علم کو چاہیے کہ وہ لغت کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائے اور علم کے سفر کو
آسان اور خوشگوار بنائے۔
Dawateislami