علم ایک ایسا سمندر ہے جس کی غواصی کے لیے انسان کو مطالعہ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ مطالعہ ذہن کے بند جھروکوں کو کھولتا اور انسان کو تہذیب و تمدن سے روشناس کراتا ہے۔ لیکن کسی بھی کتاب، خاص طور پر دینی، علمی اور ادبی کتب کے مطالعے سے حقیقی فائدہ اٹھانے اور مصنف کے اصل مدعا تک پہنچنے کے لیے جس آلے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، اسے "لغت" (Dictionary/Lexicon) کہتے ہیں۔ لغت کے بغیر علمی مطالعہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص بغیر رہنما کے کسی تپتے صحرا میں نکل پڑے۔

زبانیں وقت کے ساتھ بدلتی ہیں، اور ایک ہی لفظ کے کئی حقیقی، مجازی، اصطلاحی اور عرفی معانی ہوتے ہیں۔ اگر کوئی طالب علم لغت کی مدد کے بغیر محض اپنے گمان سے مطالعہ کرے گا، تو وہ سخت لغزش کا شکار ہو سکتا ہے۔ لغت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کو "تحریفِ معنوی" (غلط مطلب نکالنے) سے بچاتی ہے۔

مثال کے طور پر، عربی اور اردو میں اعراب (زبر، زیر، پیش) کی معمولی تبدیلی سے معنی زمین سے آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔ جیسے لفظ "جَنَّۃ" (جیم پر زبر) کا مطلب باغ یا بہشت ہے، "جِنَّۃ" (جیم کے نیچے زیر) کا مطلب جنات کی جماعت ہے، اور "جُنَّۃ" (جیم پر پیش) کا مطلب ڈھال ہے۔ لغت کا مطالعہ انسان کو ان باریک فرقوں سے آگاہ کرتا ہے۔ (المنجد (عربی اردو لغت)، معجم لغوی، لاہور (مقدمہ فی اہمیت علم اللغۃ)

قرآنِ مجید عربی زبان میں نازل ہوا اور احادیثِ نبوی بھی اسی زبان میں ہیں۔ ائمہ دین اور علمائے کبار نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ لغت کے قواعد پر عبور حاصل کیے بغیر قرآن و حدیث کی تشریح کرنا گمراہی کا سبب بن سکتا ہے۔

امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:"اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص لایا جائے جو عربی لغت اور زبان کے قواعد سے واقف نہ ہو اور وہ قرآن کی تفسیر کر رہا ہو، تو میں اسے سخت سزا دوں گا۔"( الاتقان فی علوم القرآن، امام جلال الدین سیوطی، اردو ترجمہ، مطبوعہ کراچی )

فقہِ اسلامی کے عظیم قوانین، جیسے دعوتِ اسلامی کے جامعات میں پڑھائی جانے والی مایہ ناز کتاب "بہارِ شریعت"، ان کے احکام کا دارومدار بھی لغوی ابحاث پر ہوتا ہے۔ جب تک کسی لفظ کا حقیقی اور مجازی معنی لغت کی رو سے واضح نہ ہو، فقہی مسئلہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ بہارِ شریعت (جلد سوم، حصہ شانزدہم: مکتوبات اور الفاظ کے معانی کا بیان)، مفتی امجد علی اعظمی، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

(1) وسعتِ الفاظ (Vocabulary): لغت کے ساتھ مطالعہ کرنے والے کے پاس الفاظ کا ذخیرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے اس کی اپنی تحریر اور تقریر جاندار، فصیح اور اثر انگیز ہو جاتی ہے۔

(2) غلط العوام سے پاکیزگی: لغت دیکھنے والا شخص سست روی کا شکار نہیں ہوتا بلکہ وہ معاشرے میں رائج غلط تلفظ اور غلط محاورات کی اصلاح کرنے کے قابل ہوتا ہے۔

دعوتِ اسلامی کا علمی اسلوب:دعوتِ اسلامی کے تعلیمی ادارے (جامعات المدینہ) کے نصاب میں علمِ صرف، علمِ نحو، اور عربی و اردو لغات (جیسے القاموس الجدید، المنجد وغیرہ) کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ امیرِ اہل سنت مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنے مدنی مذاکروں میں اکثر لغوی کتب کے حوالے دیتے ہیں اور الفاظ کے درست مخرج و تلفظ پر سخت تاکید فرماتے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ علمِ دین کے صحیح مطالعے کے لیے لغت کی اہمیت مسلمہ ہے۔ (علمی و ادبی مضامین، المدیۃ العلمیہ (دعوتِ اسلامی)، مطبوعہ کراچی (مختلف درسی کتب کے علمی مقدمات)

لغت محض کتاب نہیں بلکہ علم کی چابی ہے۔ دورِ حاضر کے طلبہ اور مضمون نگاروں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے مطالعے کی میز پر ایک مستند لغت ضرور رکھیں تاکہ ان کی علمی تحقیق مستند اور خطاؤں سے پاک ہو۔

ہمیں چاہیے کہ لغت کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد احادیث و فقہ مسائل بیان کریں ۔ورنہ گمراہی و گناہ کا سخت خطرہ ہے۔