پیارے پیارے اسلامی بھائیو! کسی بھی قوم کی تعمیر ، ترقی اور روحانی و فکری ارتقاء(Development) میں علم کا اہم ترین عمل دخل ہوتا ہے ، جبکہ حصولِ علم کا ایک اہم ذریعہ مطالعہِ کتب ہے۔ وسیع اور دقیق مطالعہ کے بغیر انسان کا ذہن، ادراک کی اس سطح تک رسائی نہیں پا سکتا، جہاں سے وہ مفید و مضر، نیز اعلیٰ وادنی کے درمیان فرق جان سکے، دینی مدارس، اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز، طالب علم کو علم و دانش کی دہلیز پر لاکھڑا کرتے ہیں، لیکن علم کی طلب کا اصل سفر اس کے بعد شروع ہوتا ہے ، جو ایک طالب علم کو اپنے شوق اور ذوق مطالعہ سے پورا کرنا ہوتا ہے اور مطالعہ مفید و کار آمد تب ہوتا ہے جب اس کے تمام پہلو سمجھ آئیں اور تمام پہلو سمجھنے کے لیے ان تمام الفاظ کے معانی (Meanings) کا ادراک(آگاہی) ضروری ہے اور ان تمام معانی کا ادراک لغت(Dictionary) کے ذریعے ہوگا اور مطالعہ کا مقصد صرف الفاظ کو دیکھنا نہیں بلکہ ان کے مفہوم کو سمجھنا ہوتا ہے۔ اسی سمجھ بوجھ کو بہتر بنانے میں لغت (Dictionary) نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مطالعہ میں لغت کی اہمیت:(1)لغت الفاظ کے درست معنی فراہم کرتی ہے۔ بہت سے الفاظ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے ایک سے زائد معنی ہوتے ہیں، یا وہ مختلف مواقع پر مختلف معانی رکھتے ہیں۔ اگر قاری لغت کی مدد نہ لے تو وہ مفہوم کو غلط سمجھ سکتا ہے، جس سے پوری عبارت(Sentence) کا مطلب بدل سکتا ہے۔ اس لیے لغت کا استعمال مطالعہ کو درست سمت دیتا ہے۔

(2)لغت کے ذریعے مطالعہ صرف سطحی نہیں رہتا بلکہ گہرا اور بامقصد ہو جاتا کیونکہ ادبی ، سائنسی اور عربی کتُب وغیرہ کے کچھ الفاظ عام فہم نہیں ہوتے۔ لغت ان الفاظ کی وضاحت کر کے قاری کو موضوع کی گہرائی تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔

(3)آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ لغت خود اعتمادی پیدا کرتی ہے اور لغت مطالعہ کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ نہ صرف الفاظ کے معنی بتاتی ہے بلکہ فہم، زبان دانی اور علمی ترقی میں اہم بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے ہر طالب علم اور قاری کو چاہیے کہ وہ مطالعہ کے ساتھ لغت کے استعمال کو اپنی عادت بنا لے تاکہ وہ علم کے میدان ممتاز حیثیت پا سکے۔اللہ کریم ہمیں کما حقہ حصولِ علمِ دین کا جذبہ عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ