محمد
کاشف رضا عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ
فیضان غوث الاعظم ، کراچی،پاکستان)
انسانی
زندگی میں علم و آگہی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اور علم کے حصول کا سب سے اہم ذریعہ
زبان ہے۔ زبان نہ صرف اظہارِ خیال کا وسیلہ ہے بلکہ فہم و ادراک کی کنجی بھی ہے۔
کسی بھی علم کو سمجھنے کے لیے الفاظ اور ان کے معانی سے واقفیت ناگزیر ہے۔ یہی وجہ
ہے کہ لغت (ڈکشنری) کو تعلیم و مطالعہ میں مرکزی مقام حاصل ہے۔ ایک طالبِ علم کے لیے
لغت کا استعمال نہ صرف اس کے علم میں اضافہ کرتا ہے بلکہ اس کی فکری صلاحیتوں کو
بھی جِلا بخشتا ہے۔ اس مضمون میں ہم مطالعہ میں لغت کی اہمیت کو مختلف پہلوؤں سے
واضح کریں گے۔
زبان کی اہمیت: لغت کی اہمیت سمجھنے سے
پہلے زبان کی اہمیت کو جاننا ضروری ہے۔ انسان کو "حیوانِ ناطق" کہا جاتا
ہے، یعنی ایسا جاندار جو بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ زبان اللہ تعالیٰ کی
عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے جس کے ذریعے انسان اپنے خیالات، جذبات اور احساسات کا
اظہار کرتا ہے۔ اگر زبان نہ ہو تو انسان کے ذہن میں موجود خیالات کا اظہار ممکن نہ
ہو۔ زبان ہی کے ذریعے انسان دوسروں سے رابطہ قائم کرتا ہے، علم حاصل کرتا ہے اور
اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھتا ہے۔
لغت کی اہمیت: مطالعہ میں لغت کی اہمیت
نہایت بنیادی ہے۔ لغت ایک ایسا ذریعہ ہے جو مشکل الفاظ کے معانی واضح کرتی ہے۔ اسے
ایک خوردبین سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جو چھوٹی سے چھوٹی چیز کو نمایاں کر دیتی ہے۔
اسی طرح لغت بھی الفاظ کے پوشیدہ معانی اور مفاہیم کو واضح کرتی ہے۔ جب کوئی طالب
علم کسی لفظ کا معنی تلاش کرتا ہے تو اکثر اسے ایک لفظ کے کئی معانی معلوم ہوتے ہیں،
جس سے اس کے علم میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔لغت صرف معانی بتانے تک محدود نہیں بلکہ یہ
انسان کے اندر تحقیق اور غور و فکر کی عادت بھی پیدا کرتی ہے۔ مسلسل لغت کے
استعمال سے طالب علم میں فکری پختگی پیدا ہوتی ہے۔
عربی زبان میں لغت کی اہمیت: عربی
زبان قرآن و حدیث اور علومِ شریعت کی بنیاد ہے۔ اس لیے عربی سیکھنے میں لغت کا
کردار بہت اہم ہو جاتا ہے۔ قرآنِ کریم کے الفاظ کے درست معانی سمجھنے کے لیے مستند
لغات کا سہارا لینا ضروری ہے۔ اسی طرح حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم میں بھی لغت
بنیادی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔تاہم لغت کی ضرورت صرف عربی تک محدود نہیں بلکہ ہر
زبان میں اس کی اہمیت مسلم ہے، چاہے وہ اردو ہو یا انگریزی۔ زبانوں کے درمیان
ترجمہ اور مفاہیم کی درست ادائیگی کے لیے لغت کا استعمال لازمی ہے۔
الفاظ کی اصل اور تحقیق:لغت کے ذریعے
صرف الفاظ کے معانی ہی معلوم نہیں ہوتے بلکہ ان کی اصل (اشتقاق) اور تاریخ کا بھی
پتہ چلتا ہے۔ ایک لفظ کس زبان سے آیا، کس طرح اس میں تبدیلیاں آئیں، اور آج وہ کس
مفہوم میں استعمال ہو رہا ہےیہ سب معلومات لغت کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس
عمل سے طالب علم میں تحقیق کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ صرف سطحی معلومات تک محدود
نہیں رہتا بلکہ گہرائی میں جا کر علم حاصل کرتا ہے۔
درست تلفظ کی اہمیت:لغت کا ایک
اہم فائدہ درست تلفظ کی رہنمائی ہے۔ بہت سی لغات میں الفاظ کے ساتھ صوتی علامات (phonetic
symbols) یا اعراب دیے جاتے ہیں، جن کی مدد سے لفظ کو صحیح انداز میں پڑھا
جا سکتا ہے۔ اگر تلفظ درست نہ ہو تو معنی بدل سکتے ہیں اور بات سمجھنے میں مشکل پیش
آ سکتی ہے۔درست تلفظ نہ صرف ذاتی علمی ترقی میں مدد دیتا ہے بلکہ معاشرتی طور پر
بھی انسان کو باوقار بناتا ہے۔ جو شخص صاف اور درست انداز میں گفتگو کرتا ہے، اسے
سنجیدہ اور مہذب سمجھا جاتا ہے۔
اغلاط سے بچاؤ: بعض الفاظ کے ہجے ایک جیسے
ہوتے ہیں مگر تلفظ اور معنی مختلف ہوتے ہیں۔ لغت ان الفاظ کے درمیان فرق واضح کرتی
ہے، جس سے غلطی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ اس طرح لغت انسان کو لسانی اغلاط سے محفوظ
رکھتی ہے۔
علم میں اضافہ اور روانی:لغت کے
مسلسل استعمال سے طالب علم کا ذخیرۂ الفاظ بڑھتا ہے۔ جب وہ کسی لفظ کا معنی تلاش
کرتا ہے تو اس کے ساتھ متعلقہ دیگر الفاظ بھی سامنے آ جاتے ہیں۔ اس طرح اس کی زبان
پر گرفت مضبوط ہوتی جاتی ہے اور اس کی گفتگو میں روانی آتی ہے۔
معاشرتی اثرات :درست زبان اور صحیح تلفظ معاشرے میں مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ جو شخص لغت کے ذریعے
اپنی زبان کو بہتر بناتا ہے، وہ دوسروں پر اچھا تاثر چھوڑتا ہے۔ ایسے افراد کو علمی
اور مہذب سمجھا جاتا ہے، اور ان کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے۔
مختصراً یہ
کہ لغت مطالعہ کا ایک لازمی جز ہے۔ یہ نہ صرف الفاظ کے معانی واضح کرتی ہے بلکہ
درست تلفظ، تحقیق کی صلاحیت، اور فکری وسعت بھی عطا کرتی ہے۔ لغت کے ذریعے زبان میں
مہارت حاصل ہوتی ہے اور انسان اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
خاص طور پر قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے لغت کا استعمال نہایت ضروری ہے۔ لہٰذا ہر
طالب علم کو چاہیے کہ وہ لغت کے استعمال کو اپنی عادت بنا لے تاکہ وہ علم کے میدان
میں ترقی کر سکے اور اپنی زبان کو معیاری اور مؤثر بنا سکے۔
Dawateislami