غلام
محمد (دورۃ الحدیث جامعۃ المدینہ فیضان
غوث اعظم ،کراچی،پاکستان)
لغت (Dictionary) کسی بھی زبان کو سیکھنے اور سمجھنے کا ایک نہایت اہم ذریعہ ہے۔ اسلامی
نقطۂ نظر سے لغت کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ اسلام کی بنیاد ہی وحی
(قرآن و حدیث) کو صحیح طرح سمجھنے پر ہے۔قرآنِ مجید عربی زبان میں نازل ہوا ہے، اس
لیے اس کے الفاظ کے درست معنی جاننے کے لیے لغت ضروری ہے۔ ایک لفظ کا معمولی فرق
بھی مفہوم بدل سکتا ہے۔
چنانچہ خاتم المحدثین حضرت علامہ جلال الدین سیوطی
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:مجاہد نے کہا ہے کہ کسی ایسے شخص کے لیے جو خدا تعالیٰ
اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئےیہ بات حلال نہیں کہ جب تک وہ لغاتِ
عرب کا عالم نہ ہو اُس وقت تک کتاب اللہ کے بارے میں کچھ کلام کرے۔ "اور امام
مالک کا قول اس بارے میں پہلے بیان ہو چکا ہے۔ اور مفسر کے حق میں تھوڑی سی لغت کا
جاننا ہرگز کافی نہیں ہوتا اس لیے کہ بعض اوقات کوئی لفظ مشترک ہوتا ہے اور اُس
(شخص) کو ایک ہی معنی معلوم ہیں حالانکہ اُس سے مراد وہ دوسرے معنی ہے۔(الاتقان فی
علوم القرآن ج2 ص407)
عجمی ہونے
کی وجہ سے لغت ہمارے لیے ایک پل (bridge) کی حیثیت رکھتی ہے، جو ہمیں
عربی زبان اور اسلامی تعلیمات کے اصل مفہوم تک پہنچاتی ہے۔ اس کے بغیر دین کو
گہرائی سے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
لغت کی اہمیت :
(1)الفاظ کے معانی جاننا:مثال کے طور پر ہم اردو بولتے اور سنتے
آرہے ہیں مگر جب ہم اردو لیکچر پڑھتے ہیں یا کسی عالم دین سے ہم کلام ہوتے ہیں تو
کئی بار اردو کے وہ الفاظ سنتے جو ہمارے لئے بلکل نئے ہوتے ہیں یہ لغت سے دوری کا
نتیجہ ہے لہذا لغات ہر زبان کے لئے اہم ہے
یہ ہمیں نئے اور مشکل الفاظ کے درست معنی فراہم کرتی ہے، جس سے زبان کو بہتر
سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
(2)درست استعمال سیکھنا:ہر لفظ کو
جملے میں صحیح طریقے سے استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لغت اس کے استعمال، تلفظ اور
کبھی کبھار مثالیں بھی دیتی ہے۔
(3)ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ:لغت کے ذریعے
انسان اپنے الفاظ کا ذخیرہ (Vocabulary) بڑھا سکتا ہے، جو بولنے اور
لکھنے دونوں میں بہت مددگار ہوتا ہے۔
(4)املا (Spelling) کی درستگی:صحیح ہجے سیکھنے کے لیے لغت ایک
مستند ذریعہ ہے، خاص طور پر اردو یا انگریزی جیسی زبانوں میں۔
(5) زبان کی مہارت میں بہتری:طلبہ،
اساتذہ، لکھاری اور عام افراد سب کے لیے لغت زبان پر عبور حاصل کرنے میں مدد دیتی
ہے۔
(6) مترادفات اور متضاد الفاظ:لغت میں
اکثر ہم معنی (Synonyms) اور متضاد (Antonyms) الفاظ بھی ملتے ہیں، جو تحریر
کو بہتر اور مؤثر بناتے ہیں۔
(7) قرآن کو سمجھنے کی ضرورت:قرآنِ مجید
عربی میں نازل ہوا، اور عجمی (غیر عربی) افراد عربی کے پیدائشی ماہر نہیں ہوتے۔ اس
لیے لغت کے ذریعے الفاظ کے صحیح معنی سیکھ کر قرآن کو بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔
(8)حدیث کا فہم حاصل کرنا:احادیث
نبویہ بھی عربی میں ہیں۔ لغت کی مدد سے عجمی شخص حضور ﷺ کے ارشادات کا اصل مفہوم
سمجھ سکتا ہے۔
(9) عبادات میں درستگی:نماز، دعا
اور دیگر عبادات میں عربی الفاظ پڑھے جاتے ہیں۔ لغت کے ذریعے ان کے معانی جاننے سے
عبادت میں خشوع اور سمجھ پیدا ہوتی ہے۔
(10) دین میں غلطی سے بچاؤ:اگر عجمی
شخص بغیر سمجھے الفاظ کا مطلب لے، تو غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ لغت اسے صحیح
مفہوم تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔
(11) دینی علوم تک رسائی:اسلامی
علوم جیسے تفسیر اور فقہ کو سمجھنے کے لیے لغت بنیادی کردار ادا کرتی ہے، خاص طور
پر ان لوگوں کے لیے جو عربی کے ماہر نہیں۔
عجمی (غیر
عربی) ہونے کی وجہ سے لغت ہمارے لیے ایک پل (bridge) کی حیثیت رکھتی ہے، جو ہمیں عربی زبان اور اسلامی تعلیمات کے اصل
مفہوم تک پہنچاتی ہے۔ اس کے بغیر دین کو گہرائی سے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
Dawateislami