شوہر کو
راضی رکھنے کے طریقے از بنت محمد شہباز،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
1۔ بیوی کو چاہئے کہ وہ شوہر کے حقوق ادا
کرنے میں کوئی کمی نہ آنے دے، چنانچہ معلّم انسانیت ﷺ نے فرمایاکہ جب شوہر بیوی کو
اپنی حاجت کے لئے بلائے تو وہ فوراً اس کے پاس آجائے اگرچہ تنّور پر ہو۔ (ترمذی،2/386،
حدیث: 1163)
2۔ شوہر
کام کاج سے گھر واپس آئے توگندے کپڑے، الجھے بال اور میلے چہرے کے ساتھ اس کا
استقبال اچھا تأثر نہیں چھوڑتا بلکہ شوہر کیلئے بناؤ سنگار بھی اچھی اور نیک بیوی
کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے اوراپنے شوہر کے لئےبناؤ سنگار کرنا اس کے حق میں نفل
نماز سے افضل ہے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے: عورت کا اپنے شوہر کےلئے گہنا
(زیور)پہننا، بناؤ سنگارکرنا باعث اجر عظیم اور اس کے حق میں نماز نفل سے افضل ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، 22/126)
3۔ بیوی
کو چاہئے کہ شوہر کی حیثیت سے بڑھ کر فرمائش نہ کرے، اس کی خوشیوں میں شریک ہو،
پریشانی میں اس کی ڈھارس بندھائے،اس کی طرف سے تکلیف پہنچنے کی صورت میں صبر کرے اور
خاموش رہے، بات بات پر منہ نہ پھلائے، برتن نہ پچھاڑے، شوہر کا غصّہ بچوں پر نہ
اتارے کہ اس سے حالات مزید بگڑیں گے، اسے دوسروں سے حقیر ثابت کرنے کی کوشش نہ کرے
،اس پر اپنے احسانات نہ جتائے،کھانے پینے ،صفائی ستھرائی اور لباس وغیرہ میں اس کی
پسند کو اہمیت دے ،الغرض اسے راضی رکھنے کی کوشش کرے، فرمان مصطفےٰ ﷺ ہے: جو عورت
اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو وہ جنت میں داخل ہوگی۔ (ترمذی، 2/386،
حدیث: 1164)
ہرجائز
کام میں شوہر کی اطاعت کرنا: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضور ﷺ نے
فرمایا:عورت جب پانچوں نمازیں پڑہے اور ماہ رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عفّت کی
محافظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔ (حلیۃ
الاولیاء، 6/336، حدیث: 8830)
شوہر جسے
ناپسند کرتا ہواسے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینا : شوہر کا بیوی پر یہ بھی
حق ہے کہ وہ اس کے گھر میں اسے داخل نہ ہونے دے جسے اس کا شوہر ناپسند کرتا ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی بھی عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ خاوند کی موجودگی
میں (نفلی) روزہ رکھے لیکن اس کی اجازت سے رکھ سکتی ہے، اورکسی کوبھی اس کے گھرمیں
داخل ہونے کی اجازت نہ دےلیکن اس کی اجازت ہو توپھر داخل کرے۔ (بخاری، 3/462،
حدیث: 5195)
ان کے
شوہر کو راضی رکھنے مزید چند امور درج ذیل ہیں:
(1) ازدواجی
تعلقات میں مطلقاً شوہر کی اطاعت کرنا (2) اس کی عزت کی سختی سے حفاظت کرنا (3) اس
کے مال کی حفاظت کرنا (4) ہر بات میں اس کی خیر خواہی کرنا (5) ہر وقت جائز امور
میں اس کی خوشی چاہنا (6) اسے اپنا سردار جاننا (7) شوہر کونام لے کر نہ پکارنا
(8) کسی سے اس کی بلا وجہ شکایت نہ کرنا (9) اور خداتوفیق دے تو وجہ ہونے کے باجود
شکایت نہ کرنا (10) اس کی اجازت کے بغیر آٹہویں دن سے پہلے والدین یا ایک سال سے
پہلے دیگر محارم کے یہاں نہ جانا (11) وہ ناراض ہو تو اس کی بہت خوشامد کرکے
منانا۔ (فتاویٰ رضویہ، 24/371 ملخصاً)
اللہ پاک
سے دعا ہے کہ وہ رشتوں کا ادب و احترام اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
شوہر کو
راضی رکھنے کے طریقے از ہمشیرہ حافظ اسامہ،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
شوہر کو راضی
رکھنے کے چند اہم نکات اور طریقے درج ذیل ہیں:
1۔
احترام اور محبت: شوہر
کے ساتھ عزت و محبت کا رویہ رکھیں۔ ان کی باتوں کو غور سے سنیں اور ان کے جذبات کی
قدر کریں۔
2۔
مخلصانہ بات چیت: اگر
کوئی مسئلہ یا غلط فہمی ہو تو کھل کر، مگر نرم لہجے میں، بات کریں۔ مسائل کو دبانے
کے بجائے انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔
3۔
شکرگزاری کا اظہار: شوہر کی کوششوں، محبت اور محنت کی تعریف کریں۔ ان
کے اچھے کاموں کو سراہیں اور ان کا شکریہ ادا کریں۔
4۔
احساسات کی قدر: شوہر
کے مزاج اور جذبات کا خیال رکھیں۔ اگر وہ تھکے ہوئے ہوں یا پریشان ہوں تو ان کو
سکون فراہم کریں۔
5۔
اپنے رویے میں نرمی: نرم مزاجی اور خوش اخلاقی سے بات کریں۔ سخت لہجے یا
تلخ الفاظ سے گریز کریں۔
6۔
وقت کا خیال رکھیں: شوہر کے ساتھ وقت گزاریں۔ ان کی دلچسپیوں میں شریک
ہوں اور ان کی پسند و ناپسند کو مدنظر رکھیں۔
7۔
گھر کو سکون کا گہوارہ بنائیں: گھر کا ماحول خوشگوار رکھیں تاکہ شوہر
گھر میں آرام اور سکون محسوس کریں۔
8۔
اپنی ذمہ داریوں کا خیال رکھیں: اپنے فرائض پورے کریں اور شوہر کی
ضروریات کا خیال رکھیں، جیسے ان کے لباس، کھانے اور دیگر ضروریات کی دیکھ بھال۔
9۔
دعا اور صبر: اللہ
سے دعا کریں کہ آپ کے درمیان محبت اور اتفاق قائم رکھے۔ بعض اوقات صبر اور وقت
مسائل کا بہترین حل ہوتا ہے۔
10۔
تعمیری رویہ اپنائیں: شوہر کی کمزوریوں پر تنقید کرنے کے بجائے ان کی مدد
کریں تاکہ وہ بہتر بن سکیں۔
یاد رکھیں کہ
خوشگوار ازدواجی زندگی محبت، اعتماد اور احترام پر مبنی ہوتی ہے۔ ان اصولوں پر عمل
کرتے ہوئے آپ شوہر کو راضی رکھنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔
شوہر کو راضی
رکھنے کے لیے درج ذیل باتیں اہم ہیں:
1۔
محبت اور توجہ: شوہر
کو یہ محسوس کروائیں کہ آپ ان سے محبت کرتی ہیں اور ان کی اہمیت کو سمجھتی ہیں۔ ان
کے جذبات کا احترام کریں اور ان کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کریں۔
2۔
تعریف اور حوصلہ افزائی: ان کے اچھے کاموں کی تعریف کریں۔ حوصلہ
افزائی شوہر کو خوش اور پراعتماد بناتی ہے۔
3۔
خوش اخلاقی: نرم
مزاجی اور خوش اخلاقی سے دل جیتا جا سکتا ہے۔ سخت رویہ مسائل کو بڑھا سکتا ہے، اس
لیے نرمی اپنائیں۔
4۔
اپنے رویے کی جانچ: خود احتسابی کریں۔ اگر آپ کے رویے میں کوئی کمی ہے
تو اسے درست کرنے کی کوشش کریں۔
5۔
ان کی پسند کا خیال رکھیں: شوہر کی پسندیدہ چیزیں جیسے کھانے،
لباس، یا شوق پر توجہ دیں۔ ان کی خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔
6۔
گھر کو سکون دہ جگہ بنائیں: شوہر کے لیے گھر کو ایسی جگہ بنائیں
جہاں وہ خوشی اور سکون محسوس کریں۔ صاف ستھرا ماحول اور خوشگوار گفتگو اس میں
مددگار ہوسکتی ہے۔
7۔
بحث سے گریز: چھوٹے
مسائل پر جھگڑنے کے بجائے صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ غیر ضروری بحث سے رشتے میں
کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔
8۔
اعتماد پیدا کریں: شوہر کے ساتھ اپنے تعلق میں اعتماد کو بنیاد
بنائیں۔ شک اور غلط فہمیوں سے پرہیز کریں۔
9۔
دعا اور روحانی مدد: اللہ سے دعا کریں کہ آپ کے درمیان محبت اور ہم
آہنگی پیدا کرے۔ نماز اور دعا کی پابندی رشتے میں برکت لاتی ہے۔
10۔
ذاتی وقت دیں: ان
کے ساتھ وقت گزاریں اور ان کی باتوں کو سنیں۔ شوہر کے مسائل میں دلچسپی لینا اور
ان کا حل ڈھونڈنے میں مدد دینا ان کو خوشی دے سکتا ہے۔
یہ تمام نکات
آپ کے شوہر کے دل میں آپ کے لیے محبت اور قربت بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
شوہر کو
راضی رکھنے کے طریقے از بنت ذوالفقار انور، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
شادی کے
بعدزندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے، اسے پرسکون اور خوشحال بنانے میں میاں
بیوی دونوں کا کردار اہم ہے،چنانچہ انہیں ایک دوسرے کا خیرخواہ، ہمدرد،سخن
فہم(یعنی بات کو سمجھنے والا)،مزاج آشنا(مزاج کو جاننے والا)، غم گساراور دلجوئی
کرنے والا ہونا چاہئے۔کسی ایک کی سستی و لاپرواہی اور نادانی گھرکا سکون برباد
کرسکتی ہے۔دین اسلام نے میاں اور بیوی کے جدا جدا حقوق ہمیں تعلیم فرمائے ہیں۔آج
ہم شوہروں کو راضی رکھنے کی اہمیت اور اس کے طریقے قرآن و سنت کی روشنی میں جاننے
کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی حولے سے اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ کے عطا کردہ چند مدنی
پھول پیش خدمت ہیں:
(1) ہر جائز
کام میں شوہر کی اطاعت کرنا: شوہر حاکم ہوتا ہے اوربیوی محکوم،اس کے الٹ کا خیال
بھی کبھی دل میں نہ لائیے، لہٰذا جائز کاموں میں شوہرکی اطاعت کرنا بیوی کو شوہر
کی نظروں میں عزت بھی بخشے گا اور وہ آخرت میں انعام کی بھی حقدار ہوگی،لہذا حدیث
مبارکہ میں ہے : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضور ﷺ نے فرمایا: عورت جب
پانچوں نمازیں پڑھے اور ماہ رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عفّت کی محافظت کرے اور
شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔ (حلیۃ الاولیاء، 6/336، حدیث:
8830)
(2) بدکلامی
نہ کرے: اگر کسی بات پر شوہر کو غصہ آجاتا ہے اور وہ بیوی کو کچھ بول دیتا ہے تو
بیوی پر لازم ہے کہ وہ شوہر کو پلٹ کر جواب نہ دے نہ ہی اس سے بدکلامی کرے کہ شوہر
کے ناراض ہونے کا خطرہ ہے۔کبھی کبھار معاذاللہ بات اتنی بڑھ جاتی ہے کہ طلاق تک
نوبت آجاتی ہےاور شوہر کی ناراضگی خدا کی ناراضگی ہے۔
جنتی
عورت کی شان : شوہر
ناراض ہو جائے تو اس حدیث پاک کو اپنے لئے مشعل راہ بنائے جس میں جنتی عورت کی یہ
خوبی بھی بیان کی گئی ہے کہ جب اس کا شوہر اس سے ناراض ہوتو وہ کہتی ہے: میرایہ
ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے، جب تک آپ راضی نہ ہوں گے میں سوؤں گی نہیں۔ (معجم صغیر، 1/46)
اس کے علاوہ
شوہر کے بہت سی ایسی اہم باتیں ہیں جو عورت پر لازم ہیں بس بیوی کو یہ حدیث پاک
یاد رکھنی چاہیے کہ اگر شوہر کے نتھنوں سے خون اور پیپ بہہ کر اس کی ایڑیوں تک جسم
بھر گیا ہو اور عورت اپنی زبان سے چاٹ کر اسے صاف کرے تو اس(شوہر)کا حق ادا نہ
ہوگا۔ (ارشادات اعلیٰ حضرت، ص 55)
(3)شوہر کی
حاجت کو پورا کرے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ ﷺ فرمایا:
شوہر نے عورت کو بلایا اس نے انکار کر دیا اور غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک
اس عورت پر فرشتے لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ (بخاری، 2/388، حدیث: 3237)
(4)شوہر کے
لئے بناو سنگار کرے: شوہر کام کاج سے گھر واپس آئے تو گندے کپڑے، الجھے بال اور
میلے چہرے کے ساتھ اس کا استقبال اچھا تاثر نہیں چھوڑتا بلکہ شوہر کیلئے بناؤ
سنگار بھی اچھی اور نیک بیوی کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے اور اپنے شوہر کے لئے
بناؤ سنگار کرنا اس کے حق میں نفل نماز سے افضل ہے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے:
عورت کا اپنے شوہر کے لئے گہنا (زیور) پہننا، بناؤ سنگار کرنا باعث اجر عظیم اور
اس کے حق میں نماز نفل سے افضل ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 22/126)
(5)شوہر کی
اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے: عورت پر حق ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ
نکلے اگر اس نے ایسا کیا تو واپس لوٹنے یا توبہ کرنے تک فرشتے اس پرلعنت بھجتے
رہیں گے۔ (احیاء العلوم، 2/217)
(6)شوہر کو
کسی بھی طرح کی تکلیف نہ دے: حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں: جب عورت اپنے شوہر کو دنیا
میں ایذا دیتی ہے تو حور عین کہتی ہیں خدا تجھے قتل کرے اسے ایذا نہ دے یہ تو تیرے
پاس مہمان ہے عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آئے گا۔ (ترمذی، 2/392، حدیث:
177)
(7)قبولیتِ
نماز کے لیے شوہر کو راضی رکھنے کی تاکید : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین شخص ہیں
جن کی نماز قبول نہیں ہوتی اور ان کی کوئی نیکی بلند نہیں ہوتی: (۱)بھاگا ہوا غلام جب تک اپنے آقاؤں کے
پاس لوٹ نہ آئے اور اپنے کو ان کے قابو میں نہ دے دے۔اور(۲)وہ
عورت جس کا شوہر اس پر ناراض ہے اور (۳)نشہ
والا جب تک ہوش میں نہ آئے۔ (شعب الایمان، 6/417، حدیث: 8727)
فتاوی رضویہ
سے لئے گئے شوہر کے چند حقوق اختصاراً پیش خدمت ہیں: (1)ازدواجی تعلقات میں مطلقاً
شوہر کی اطاعت کرنا (2) اس کی عزت کی سختی سے حفاظت کرنا (3) اس کے مال کی حفاظت
کرنا (4) ہر بات میں اس کی خیر خواہی کرنا (5) ہر وقت جائز امور میں اس کی خوشی
چاہنا (6) اسے اپنا سردار جاننا (7) شوہر کونام لے کر نہ پکارنا (8) کسی سے اس کی
بلا وجہ شکایت نہ کرنا (9) اور خداتوفیق دے تو وجہ ہونے کے باجود شکایت نہ کرنا
(10) اس کی اجازت کے بغیر آٹہویں دن سے پہلے والدین یا ایک سال سے پہلے دیگر محارم
کے یہاں نہ جانا (11) وہ ناراض ہو تو اس کی بہت خوشامد کرکے منانا۔ (فتاویٰ رضویہ،
24/371 ملخصاً)
ہر شوہر بعض
چیزوں کو پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند نیک بیوی کی شان یہ ہونی چاہیے کہ اس کے
جذبات خیالات میں اس کے موافق ہونے کی پوری پوری کوشش کرے اور جو اللہ و رسول نے
شوہر کے حقوق بیان کیے ہیں اگر ان کو پورا کرے تو ان شاء الله الکریم میاں بیوی کے
درمیان پیار محبت اور اتفاق پیدا ہو جائے گا اور شوہر بھی راضی رہے گا اور اسکے
الله و رسول ﷺ بھی اس عورت سے راضی رہیں گے۔
اللہ پاک ہمیں
اپنے گھریلو معاملات بھی شریعت کے مطابق چلانے کی توفیق عطا فرمائے ۔
شوہر کو
راضی رکھنے کے طریقے از بنت وسیم علی، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
اسلام نے میاں
بیوی کے تعلق کو محبت، رحمت اور سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ شوہر اور بیوی کا رشتہ
باہمی احترام، اعتماد اور محبت پر مبنی ہونا چاہیے۔ ایک نیک بیوی کے لیے ضروری ہے
کہ وہ اپنے شوہر کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرے، کیونکہ اس سے گھریلو زندگی
خوشگوار اور پرسکون بنتی ہے۔
ایک نیک بیوی
وہ ہے جو اپنے شوہر کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرے، اس کے حقوق کا خیال رکھے
اور اسے محبت اور عزت دے۔ قرآن و حدیث میں بیوی کے لیے شوہر کی اطاعت اور اس کے
ساتھ حسن سلوک کرنے کے بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ ان تعلیمات پر عمل کر کے
ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔
قرآن
مجید میں شوہر اور بیوی کے تعلق کے اصول:
1۔
محبت اور رحمت: اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے: وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا
لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةًؕ- (پ
21، الروم: 21) اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے
جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت
پیدا کی۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی کا رشتہ محبت اور رحمت پر قائم
ہونا چاہیے۔
2۔
اطاعت اور نرمی: اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے: فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا
حَفِظَ اللّٰهُؕ- (پ 5، النساء: 34) ترجمہ کنز العرفان:
تو نیک عورتیں اطاعت کرنے والی اور انکی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت و توفیق سے
حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔ اس آیت میں نیک بیویوں کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں، جو
شوہر کی اطاعت گزار اور وفادار ہوتی ہیں۔
حدیث
شریف میں بیوی کے فرائض:
1۔
شوہر کی اطاعت کا اجر: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کی اطاعت
کرتی ہے، پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہے، رمضان کے روزے رکھتی ہے اور اپنی عزت و عفت
کی حفاظت کرتی ہے، تو اسے کہا جائے گا: جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ۔ (حلیۃ
الاولیاء، 6/336، حدیث: 8830)
2۔
شوہر کو خوش رکھنے کی فضیلت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو
حکم دیتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ
کرے۔ (ابن ماجہ، 2/411، حدیث: 1853) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کا مقام
کتنا بلند ہے اور بیوی کو اس کی عزت اور اطاعت کرنی چاہیے۔
شوہر
کو راضی رکھنے کے عملی طریقے:
1۔
خوش اخلاقی اور نرمی: نرمی اور محبت سے بات کرنا ایک بیوی کا سب سے
خوبصورت وصف ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: مسلمان عورتوں میں سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے
شوہر کے لیے خوشبو لگائے اور اس کے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔
2۔
صفائی اور زینت: شوہر
کو خوش رکھنے کے لیے بیوی کو اپنے لباس، صفائی اور خوشبو کا خاص خیال رکھنا چاہیے
تاکہ شوہر کو ذہنی اور روحانی سکون ملے۔
3۔
احترام اور عزت: شوہر
کی عزت کرنا، اس کے فیصلوں کا احترام کرنا اور اس کے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک
کرنا ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے میں مدد دیتا ہے۔
4۔
کھانے پینے کا اہتمام: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بیوی شوہر کی خدمت میں جو
بھی خرچ کرتی ہے، وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔ شوہر کے لیے اچھے کھانے کا انتظام کرنا
محبت کے اظہار کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
5۔
گھر کا سکون بنانا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دنیا ایک دولت ہے اور بہترین
دولت نیک بیوی ہے۔ (ابن ماجہ، 2/412، حدیث: 1855) بیوی کو چاہیے کہ وہ گھر کے
ماحول کو سکون بخش اور خوشگوار بنائے تاکہ شوہر باہر کی پریشانیوں سے محفوظ رہے۔
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ وہ ہر شوہر کو بیوی کے لیے اور ہر بیوی کو شوہر کے لیے باعث سکون و راحت
بنائے اور دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
شوہر کو راضی رکھنے کے طریقے از ہمشیرہ عتیق، جامعۃ
المدینہ جوہر آباد خوشاب
شادی کے بعد
زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے، اسے پرسکون اور خوشحال بنانے میں میاں بیوی
دونوں کا کردار اہم ہے،چنانچہ انہیں ایک دوسرے کا خیر خواه، ہمدرد، سخن فہم (یعنی
بات کو سمجھنے والا)، مزاج آشنا (مزاج کو جاننے والا)، غم گساراور دلجوئی کرنے
والا ہونا چاہیئے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ
لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- (پ 5،
النساء: 34) ترجمہ کنز العرفان: تو نیک عورتیں اطاعت کرنے والی اور انکی عدم
موجودگی میں اللہ کی حفاظت و توفیق سے حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔
شوہر
کو راضی رکھنے کے متعلق حدیث مبارکہ: نبی کریم ﷺنے فرمایا: جس عورت کا اس
حال میں انتقال ہوا کہ اس کا شوہر اس سے راضی تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔ (احیاء
العلوم، 2/215)
رسول اللہ ﷺ نے
اس حدیث پاک میں ایک ذمّہ دار بیوی کی بہت اہم خصوصیات بیان فرمائی ہیں: (1) حکم
ماننے والی (2) شوہر کو خوش رکھنے والی (3) مال و عزّت کی حفاظت کرنے والی۔
شوہر
کو ناراض کرنے کی وعید پر حدیث مبارکہ: بیوی
کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ شوہر کے احسانات کی ناشکری سے بچے کہ یہ بری عادت نہ صرف
اس کی دنیوی زندگی میں زہر گھول دے گی بلکہ آخرت بھی تباہ کرے گی، جیسا کہ نبیّ
برحق ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے جہنّم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی۔ وجہ پوچھی گئی
تو فرمایا: وہ شوہر کی ناشکری اور احسان فراموشی کرتی ہیں۔ (بخاری،3/463،
حدیث:5197)
شوہر کام کاج
سے واپس آئے تو گندے کپڑے، الجھے بال اور میلے چہرے کے ساتھ اس کا استقبال اچھا
تأثر نہیں چھوڑتا بلکہ شوہر کیلئے بناؤ سنگار بھی اچھی اور نیک بیوی کی خصوصیات
میں شمار ہوتا ہے اوراپنے شوہر کے لئےبناؤ سنگار کرنا اس کے حق میں نفل نماز سے
افضل ہے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے: عورت کا اپنے شوہر کےلئے گہنا (زیور)پہننا،
بناؤ سنگارکرنا باعث اجر عظیم اور اس کے حق میں نماز نفل سے افضل ہے۔ (فتاویٰ
رضویہ، 22/126)
شوہر کو راضی
رکھنے کیلئے فتاویٰ رضویہ سے لئے گئے شوہر کے چند حقوق اختصاراً پیش خدمت ہیں: (1)ازدواجی
تعلقات میں مطلقاً شوہر کی اطاعت کرنا، (2) اس کی عزت کی سختی سے حفاظت کرنا، (3)اس
کے مال کی حفاظت کرنا، 4)ہر بات میں اس کی خیر خواہی کرنا، (5) ہر وقت جائز امور
میں اس کی خوشی چاہنا، (6) اسے اپنا سردار جاننا، (7) شوہر کو نام لے کر نہ پکارنا،
(8) کسی سے اسکی بلاوکہ شکایت نہ کرنا، (9)وہ ناراض ہو تو اس کی بہت خوشامد کے کے
منانا، (10)خداتوفیق دے تو وجہ ہونے کے باجود شکایت نہ کرنا، (11) اس کی اجازت کے
بغیر آٹھویں دن سے پہلے والدین یا ایک سال سے پہلے دیگر محارم کے یہاں نہ جانا۔
(فتاویٰ رضویہ، 24/371 ملخصاً)
مثالی
بیوی: مثالی
بیوی بننے کے لیے عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے جسم، لباس اور گھر کی صفائی ستھرائی
کا خیال رکھے۔ حدیث پاک میں شوہر کو خوش کرنے والی عورت کو بہترین قرار دیا گیا ہے
چنانچہ پیارے آقا ﷺ نے نیک بیوی کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی بیان فرمائی کہ
اگر اس کا شوہر اسے دیکھے تو وہ (اپنے ظاہری اور باطنی حسن و جمال سے) اسے خوش کر
دے۔ (ابن ماجہ، 2/414، حدیث:2857)
نیک
عورت کی 6 نشانیاں: خاوند کی مدد گار، اپنی عزت کی حفاظت کرنے والی،
نماز کی پابند،
شوہر کی
فرمانبردار، خوش اخلاق، صبر اور شکر کرنے والی۔ لہذا عورت کی خصوصیات میں سے ہے کہ
وہ اپنے شوہر کے حقوق کا خیال رکھتی ہے اور بروقت اسکی ضروریات کو پورا کرنے کے
لیے کوشاں رہتی ہے۔ چاہیے کہ شوہر کے حقوق ادا کر کے الله پاک کی رضا کی حقدار
بنے۔
اسلام
میں چھینک کو صرف ایک جسمانی عمل نہیں بلکہ اللہ پاک کی نعمت اور رحمت کا اظہار
سمجھا گیا ہے۔ چھینک کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کے
متعلق واضح تعلیمات دی ہیں جو نہ صرف شکرگزاری سکھاتی ہیں
بلکہ باہمی خیرخواہی اور دعاؤں کا تبادلہ بھی بناتی ہیں۔
چھینک
کے متعلق آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
کا فرمان ہے کہ: اللہ پاک چھینک کو پسند اور جماہی کو ناپسند کرتا ہے، تو جب تم
میں سے کوئی چھینکے اور اللہ کی حمد کرے تو ہر سننے والے مسلمان پر حق ہے کہ اسے
چھینک کا جواب دے یعنی ”یرحمک اللہ“ کہے۔
(بخاری، 4/163، حدیث:6226)
چھینک
کے متعلق معلومات فراہم کرنے اور اس کی اہمیت بتانے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت
حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقان رسول کو اس ہفتے 16 صفحات کا رسالہ ”چھینک کے آداب“ پڑھنے/سننے
کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعائے عطار
یاربّ
کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”چھینک کے آداب“ پڑھ یا سُن لے اُسےاپنی رضا پر راضی رہنے کی
سعادت دے اور ماں باپ سمیت اس کی بے حساب مغفرت فرما۔ اللّٰھم اٰمین بجاہِ خاتَم النبیّن
صلی اللہ علیہ
و سلم
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
حضور ﷺ کی
اپنی نواسیوں سے محبت از بنتِ از بنتِ محمد انور،جھمرہ سٹی فیصل آباد
حضور نبی رحمت ﷺ کے دریائے رحمت سے بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں
نے بھی بہت فیض لیا۔آپ بچوں پر بہت شفقت فرماتے،انہیں اپنے پاس بلاتے،گود میں
اٹھاتے،سر پر ہاتھ پھیرتے،دعائيں دیتے،دینی، دنیوی اور اخلاقی تربیت فرماتے،سواری
پر ساتھ سوار فرماتے اور والدین کو بھی بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے ، اچھی تربیت
کرنے اور ان کی آخرت سنوارنے کی تعلیمات دیتے۔
بچے اللہ پاک کی نعمت ہوتے ہیں۔ان سے پیار اور الفت بھرا
برتاؤ (Behave) ہی کرنا چاہیے۔بچے
اپنے ہوں یا دوسروں کے بچے بچے ہی ہوتے ہیں۔ ان سے ہمیشہ ، مہربانی سے پیش آنا
چاہیے۔جو بچوں سے شفقت سے پیش آتے ہیں اللہ پاک انہیں جنت میں گھر سے نوازے گا۔ چنانچہ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں،رَسُولُ
الله ﷺ نے ار شاد فرمایا:بے شک جنت میں ایک گھر ہے جسے دارُ الفرح کہا جاتا ہے۔اس میں وہی لوگ داخل ہوں گے جو
بچوں کو خوش کرتے ہیں۔
(جامع صغیر،ص 140 ،حدیث:2321)
بچوں کی حضورِ اکرم ﷺ کی نگاہ میں کیا حیثیت ہے اس کا
اندازہ اس مبارک فرمان سے لگا يئے کہ مسلمانوں کے بچے جنت کی چڑیاں ہیں
۔ ( مسلم،ص 1086 ،حدیث:6701)
حضرت انس رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ بچوں پر مہربان تھے۔(مسلم،ص 974،حدیث:6026)
آئیے!حضور ﷺ کی اپنی نواسیوں سے محبت کے بارے میں سنتی ہیں۔چنانچہ
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی کا نام امامہ تھا۔حضور ﷺ کو اپنی سب سے بڑی نواسی حضرت امامہ
رضی اللہ عنہا سے بڑی محبت تھی۔ چنانچہ
سرکار ﷺ کی اپنی نواسی سے شفقت:حضرت ابو قتادہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے
تو آپ(اپنی نواسی)امامہ بنتِ ابو العاص رضی اللہ عنہا کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے
تھے۔پھر آپ نماز پڑھانے لگے تو رکوع میں جاتے وقت انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے
ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے۔( بخاری، 4/100، حدیث:5996)
حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ
پاک کے تحت فرماتے ہیں:یہ عمل حضور ﷺ کی خصوصیت میں سے ہے، ہمارے لیے مفسدِ نماز
ہے کیونکہ نماز میں بچی کو اتار نا چڑھانا اور روکنا عملِ کثیر سے خالی نہیں۔ ( مراۃ
المناجیح،2 /133)
حضرت امامہ رضی اللہ عنہا سے حضور ﷺ کو بڑی محبت تھی۔آپ ان کو اپنے دوش مبارک پر بٹھا کر مسجد
نبوی میں تشریف لے جاتے تھے۔
روایت ہے کہ ایک مرتبہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے آپ کی خدمت
میں بطور ہدیہ ایک حلہ بھیجا جس کے ساتھ سونے کی ایک انگوٹھی بھی تھی جس کا نگینہ
حبشی تھا۔حضور ﷺ نے یہ انگوٹھی حضرت امامہ رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائی۔(سیرتِ مصطفیٰ،
ص 693)
سونے کا
خوبصورت ہار:اسی طرح ایک مرتبہ کسی نے حضور اکرم ﷺ کو ایک بہت ہی
خوبصورت سونے کا ہار تحفے میں پیش کیا،جس کی خوبصورتی دیکھ کر تمام ازواجِ
مطہرات رضی اللہ عنہن حیران رہ گئیں۔حضور ﷺ
نے اپنی پاکیزہ بیویوں سے فرمایا کہ میں یہ ہار اس کو دوں گا جو میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ پیاری ہے۔تمام
اَزواجِ مُطَہرات رضی اللہ عنہن نے یہ خیال کر لیا کہ یقیناً یہ ہار اب حضرت بی بی
عائشہ رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائیں گے مگر حضور ﷺ نے حضرت بی بی امامہ رضی اللہ عنہا
کو قریب بلایا اور اپنی پیاری نواسی کے گلے میں اپنے مبارک ہاتھ سے یہ ہار ڈال دیا۔(شرح
زرقانی علی المواہب،4 / 321 -مسند امام احمد ،9 / 399 ، حدیث : 24758)
یہ فطری بات ہے کہ انسان جس کے ساتھ جیسا رویہ اختیار کرتا
ہے اس کے ساتھ بھی ویسا ہی انداز اختیار کیا جاتا ہے۔جو بچوں سے پیار کرتا ہے تو
بچے بھی اس سے پیار کرتے ہیں ۔لہٰذا بچوں پر شفقت کیجیے دنیا و آخرت میں خوب برکتیں
حاصل ہوں گی۔اللہ پاک ہمیں پیارے آقا ﷺ کی
سنتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
حضور ﷺ کی
اپنی نواسیوں سے محبت از بنتِ از بنتِ مشتاق احمد ،سناواں کوٹ ادو
حضور نبی رحمتﷺ کے دریائے رحمت سے بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں
نے بھی بہت فیض لیا۔ آپ بچوں پر بہت شفقت فرماتے،انہیں اپنے پاس بلاتے،گود میں
اٹھاتے،سر پر ہاتھ پھیرتے،دعائیں دیتے، دینی، دنیوی اور اخلاقی تربیت فرماتے،سواری
پر ساتھ سوار فرماتے اور والدین کو بھی بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے ،اچھی تربیت
کرنےاور ان کی آخرت سنوارنے کی تعلیمات دیتے۔
بچوں کی حضورِ اکرمﷺ کی نگاہ میں کیا حیثیت ہے؟اس کا اندازہ
اس فرمانِ مبارک سے لگائیے کہ مسلمانوں کے بچے جنت کی چڑیاں ہیں۔(مسلم،ص1086،حدیث:6701)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ
بچوں پر مہربان تھے۔
(مسلم،ص974،حدیث:6026)
دیگر بچوں کے ساتھ تو رحمۃ اللعالمینﷺ محبت و شفقت فرماتے ہی
تھے ساتھ میں اپنی پیاری پیاری نواسیوں سے بھی بے حد محبت کا اظہار فرماتے تھے۔آئیے!جانتی ہیں کہ حضورﷺ کی کتنی نواسیاں تھیں۔
حضور پاکﷺ کی 4 نواسیاں تھیں ۔حضورﷺ کی سب سے بڑی شہزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی
اولاد میں ایک لڑکی حضرت امامہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ (زرقانی،3/197)
ننھی بچی کو قیمتی ہار پہنا دیا:حضورﷺ اپنی ننھی نواسی حضرت امامہ رضی اللہ عنہا سے
بے حد پیارے فرماتے اور آپ نے ہی ان کی پرورش فرمائی۔ایک مرتبہ بارگاہِ رسالت میں ہدیہ پیش کیا گیا جس میں ایک
قیمتی ہار بھی تھا،آپ ﷺ نے فرمایا: یہ میں اسے دوں گا جو مجھے بہت پیارا ہے۔پھر آپ
نے حضرت امامہ رضی اللہ عنہا کے گلے میں پہنا دیا۔(مسند امام احمد،41/232،حدیث:24704)
اپنی نواسیوں میں سے حضرت امامہ رضی اللہ عنہا سے
حضورﷺ کو بڑی محبت تھی۔آپ ان کو اپنے دوش مبارک پر بٹھا کر مسجدِ نبوی لے جاتے
تھے۔
روایت ہے کہ ایک مرتبہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے حضورﷺ کی خدمت میں بطورِ ہدیہ ایک حلہ بھیجا جس کے ساتھ
سونے کی ایک انگوٹھی بھی تھی جس کا نگینہ حبشی تھا۔حضورﷺ نے یہ
انگوٹھی حضرت امامہ رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائی۔(شرح زرقانی،3/197)
حضورﷺ کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی شہزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ
عنہا کی اولادِ کریمہ میں تین صاحبزادیاں حضرت
زینب، حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہن حضورﷺ کی نواسیاں تھیں۔
حضورﷺ کی نواسی رقیہ رضی اللہ عنہا تو بچپن میں ہی وفات پا
گئی تھیں۔سیدہ زینب رضی اللہ
عنہا حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اور
سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں آئیں اور ان کی اولاد
باقی نہ رہی۔اگرچہ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا
حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے ایک فرزند پیدا ہوا اور ان کا نام زید
تھا۔(مدارج النبوة مترجم،2/622)
یاد رکھیے!بچوں کے ساتھ بڑا بن کر رہنا کمال نہیں ہے بلکہ
بچوں کے ساتھ بچہ بن کے رہنا اور ان میں گھل مِل جانا ہی کمال ہےجو کہ حضورﷺ کی
ذاتِ مبارکہ میں ایک عملی نمونہ ہے!
حضور ﷺ کی
اپنی نواسیوں سے محبت از بنتِ از بنتِ مدثر، فیضان فاطمۃ الزہراء ،صدر راولپنڈی
نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی کے بارے میں قرآنِ کریم فرماتا
ہے:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ(پ21،الاحزاب:21) ترجمۂ کنز الایمان:بے شک تمہیں رسول اللہ
کی پیروی بہتر ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب شانِ حبیب الرحمن میں اس آیت
پر بہت پیارا کلام فرمایا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سرکارِ ابدِ قرار ﷺ کی مبارک
ذات ہردرجے اور ہر مرتبے کے انسان کے لئے نمونہ ہے۔ مزید لکھتے ہیں:اگر کسی کی
زندگی اہل و عیال کی زندگی ہے تو وہ یہ خیال کرے کہ میری تو ایک یا دو یا زیادہ سے
زیادہ چار بیویاں ہیں اور کچھ اولاد مگر محبوب ﷺ کی 9 بیویاں ہیں،اولاد اور اولاد
کی اولاد،غلام باندیاں،متوسلین اور مہمانوں کا ہجوم ہے،پھر کس طرح ان سے برتاؤ
فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ کس طرح رب کی یاد فرمائی۔ (شانِ حبیب الرحمن، ص160-158 ملخصاً)
سب کو ان کے مقام و مرتبے کے اعتبار سے شفقتوں سے
نوازاخصوصا بیٹیوں کے فضائل بیان فرما کر عرب کے معاشرے کو وحشت و بربریت سے نکالا
اور عملی طور پر بھی اس کا مظاہرہ فرمایا۔اپنی شہزادیوں بلکہ نواسیوں کو بھی پیار
و محبت عطاسے نوازا۔سیرتِ نبی کی کتب میں نبی کریم ﷺ کی چار نواسیوں کا ذکر ملتا
ہے: سیدہ امامہ،سیدہ زینب،سیدہ امِّ کلثوم اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہن۔سیدہ امامہ
رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی بڑی شہزادی حضرت بی بی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی ہیں
جبکہ بقیہ تینوں خاتونِ جنت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولادِ پاک ہیں۔آئیے!آخری
نبی ﷺ کے گلشنِ نبوت کی مہکتی کلیوں کے ساتھ محبت و شفقت بھرے انداز کی کچھ جھلکیاں
ملاحظہ کیجئے۔چنانچہ
تحفہ عطا فرمایا:ایک مرتبہ نجاشی بادشاہ نے سرورِ کائنات ﷺ کی خدمتِ بابرکت میں کچھ زیورات کی
سوغات بھیجی اس میں ایک بیش قیمت حبشی نگینے
والی انگوٹھی بھی تھی۔ اللہ پاک کے پیارے نبی،مکی مدنی ﷺ نے اُس انگوٹھی کو چھڑی یا
مبارک انگلی سے مس کیا یعنی چھوا اور اپنی بڑی شہزادی زینب رضی اللہ عنہا کی پیاری بیٹی یعنی اپنی نواسی حضرت امامہ
رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا:اے
چھوٹی بچی!اسے تم پہن لو۔
(ابو داود،4/125، حدیث:2225)
اسی طرح ایک مرتبہ ایک بہت ہی خوبصورت سونے کا ہار کسی نے
حضور اقدس ﷺ کو نذر کیا جس کی خوبصورتی کو دیکھ کر تمام ازواجِ مطہرات رضی
اللہ عنہن حیران رہ گئیں۔آپ نے اپنی مقدس
بیویوں سے فرمایا کہ میں یہ ہار اس کو دوں گا جو میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ
محبوب ہے۔تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن
نے یہ خیال کر لیا کہ یقیناً یہ ہار حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائیں گے مگر حضور ﷺ نے حضرت
امامہ رضی اللہ عنہا کو قریب بلایا اور
اپنی پیاری نواسی کے گلے میں اپنے دستِ مبارک سے یہ ہار ڈال دیا۔ (شرح زرقانی،3/197)
کندھوں پر
سوار فرمالیا:حضرت ابو قتادہ رضی
اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : اللہ پاک کے
محبوب ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ اپنی
نواسی امامہ بنتِ ابوالعاص رضی اللہ عنہا
کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے۔پھر آپ نماز پڑھانے لگے تو رکوع میں جاتے
وقت انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے۔( بخاری،2/100،حدیث:5996)
سبحان اللہ! کیا پیار ومحبت بھرا انداز ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کی
حیاتِ طیبہ کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ وصالِ ظاہری شریف کے بعد بھی واقعۂ
کربلا میں اس کی جھلک نظر آتی ہے۔
آقاکریم ﷺ بطور نانا جان اپنی شہزادیوں کے بچوں سے بہت محبت فرماتے تھے۔نواسے
تو اپنے نانا جان ﷺ کے لختِ جگر تھے ہی لیکن نواسیاں بھی اپنے نانا جان ﷺ کی محبت
و شفقتیں لینے میں پیچھے نہ تھیں۔
اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ کی چار نواسیاں تھیں:حضرت امامہ،حضرت بی بی رقیہ،حضرت
زینب،حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہن۔سب کی سب اپنے نانا جانﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھیں۔آئیے!پیارے
نانا جان ﷺکی اپنی نواسیوں سے محبت بھرے اندازِ مبارک کی جھلکیاں ملاحظہ کیجئے۔چنانچہ
نواسی اپنے نانا جان ﷺکے مبارک کندھے پر:شہزادیِ رسول
حضرت بی بی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی کا نام اُ مامہ تھا،حضورﷺکو اپنی سب سے بڑی
نواسی حضرت بی بی اُمامہ رضی اللہ عنہا سے
بڑی محبت تھی۔ آپ ان کو اپنے دوش(یعنی مبارک کندھوں Shoulders)پر بٹھا کر مسجد ِنبوی میں تشریف لے جاتے تھے۔حضرت ابوقتا دہ رضی
اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:اللہ پاک کے محبوب ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ(اپنی نواسی)
اُمامہ بنتِ ابوالعاص رضی اللہ عنہا کو اپنے مبارَک کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے ۔
پھر آپ نماز پڑھانے لگے تو رکوع میں جاتےوقت انہیں اُتار دیتے اور جب
کھڑے ہوتے تو انہیں اُٹھا لیتے۔
(بخاری،4/100،حدیث:5996)
سونے کا خوبصورت ہار:اسی طرح ایک مرتبہ کسی نے حضور اَکرَم ﷺ کو سونے کا ایک بہت
ہی خوبصورت ہار تحفے میں پیش کیاجس کی
خوبصورتی دیکھ کر تمام اَزواجِ مُطَہَّرات
رضی اللہ عنہنَّ حیران رہ گئیں۔حضور ﷺ نے اپنی پاکیزہ بیویوں سے فرمایا کہ میں یہ ہار اس کو دوں گا جو میرے گھر
والوں میں مجھے سب سے زیادہ پیاری ہے۔تمام اَزواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ
عنہنَّ نےیہ خیال کرلیا کہ یقینا ًیہ ہار
اب حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائیں گے مگر حضور ﷺ نے حضرت بی بی اُ مامہ رضی اللہ عنہا کو قریب بُلایا
اور اپنی پیاری نواسی کے گلے میں اپنے مبارک ہاتھ سے یہ ہار ڈال دیا۔(زرقانی علی المواہب، 4/321-مسند امام احمد،
9/399، حدیث : 24758)
لاڈلی شہزادی کی لاڈلی بیٹیاں:آقا کریم ﷺ کی
لاڈلی شہزادی خاتونِ جنت فاطمۃ الزاہرا رضی اللہ عنہا کی تین صاحبزادیاں تھیں۔حضرت
زینب ام المصائب رضی اللہ عنہا سب
سے بڑی شہزادی تھیں جنہوں نے واقعۂ کربلا کے بعد بہت مصائب برداشت کیے تھے ۔دوسری
صاحبزادی حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا تھیں اور سب سے چھوٹی شہزادی حضرت ام
کلثوم رضی اللہ عنہا تھیں۔آقا کریم ﷺ کو
اپنی ان تینوں نواسیوں سے بے حد محبت و الفت تھی۔(شانِ خاتونِ جنت،ص253،252)
نواسی کو انگوٹھی عطا فرمائی:اُمُّ الْمومنین حضرت عائشہ
صِدّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نَجّاشی بادشاہ نے سرورِ کائنات ﷺ کی خدمتِ
بابرکت میں کچھ زیورات کی سوغات بھیجی جن میں ایک حبشی نگینے والی انگوٹھی بھی تھی
۔ اللہ پاک کے پیارے نبی، مکّی مَدَنی ﷺ
نے اُس انگوٹھی کو چھڑی یا مبارَک اُنگلی سے مَس کیا (یعنی چُھوا )اور اپنی بڑی
شہزادی زینب رضی اللہ عنہا کی پیاری بیٹی یعنی اپنی نواسی اُمامہ رضی اللہ
عنہا کو بلایااور فرمایا: اے چھوٹی بچَّی ! اسے تم پہن لو ۔(ابوداود،4/125، حدیث:4235 )
یہ سب واقعات ان لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو اپنی گھر کی بچیوں،نواسیوں،پوتیوں
سے محبت نہیں کرتے اور ان کے ساتھ شفقت بھرا رویہ اختیار نہیں کرتے ۔ہم سب کو چاہیے
کہ خاتم النبیین ﷺ کی سیرتِ مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں،نواسیوں اور پوتیوں
کو شفقتوں اور محبتوں کے مہکتے گلشن میں پروان چڑھائیں۔
اے عاشقانِ صحابہ و اہل ِبیت!اللہ پاک کے پیارے پیارے آخری
نبی، مکی مدنی،محمدِعربیﷺ کے کئی نواسے اور نواسیاں تھیں مگر سب سے زیادہ مشہور
حسنین کریمین رضی اللہ عنہما ہیں۔
حضرت سفیان بن عینیہ رحمۃ اللہ علیہ کے اس ارشادنیک لوگوں
کے ذکر کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے(حلیۃ الاولیاء،7/225،رقم:10450)کو سامنے رکھتے
ہوئے ربِّ کریم کی رحمتوں کے حصول اور اپنی معلومات میں اضافے کیلئے پیارے آقاﷺکی
نواسیوں کا تذکرہ سنتی ہیں۔
سب سے بڑی نواسی:حضرت بی بی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی کا نام اُ مامہ تھا،حضور ﷺ کو اپنی سب
سے بڑی نواسی حضرت بی بی اُمامہ رضی اللہ عنہا سے بڑی محبت تھی۔آپ ان کو اپنے دوش (یعنی مبارک کندھوں)پر بٹھا کر مسجد
ِنبوی میں تشریف لے جاتے تھے۔روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کی خدمتِ سَراپا عَظَمت میں ایک
مرتبہ حَبْشَہ شریف کے بادشاہ نَجاشی رحمۃ ُاللہ علیہ نے بطورِ ہَدیَّہ حُلّہ بھیجا جس کے ساتھ سونے کی ایک انگوٹھی بھی تھی،اُس کا
نگینہ حَبشی تھا۔ اللہ پاک کے پیارے پیارے آخِری نبی ﷺ نے یہ انگوٹھی حضرت بی بی اُمامہ رضی اللہ
عنہا کوعنایت فرمائی۔ (سیرتِ مصطفیٰ ، ص 693)
اسی طرح ایک مرتبہ کسی نے حضور اَکرَم ﷺ کو ایک بہت ہی خوبصورت سونے کا ہار تحفے میں پیش کیاجس کی خوبصورتی دیکھ کر تمام اَزواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ عنہنَّ حیران رہ گئیں۔ حضور ﷺ نے اپنی پاکیزہ بیویوں سے فرمایا کہ میں یہ
ہار اس کو دوں گا جو میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ پیاری ہے۔تمام اَزواجِ
مُطَہَّرات رضی اللہ عنہنَّ نےیہ خیال کرلیا کہ یقینا ًیہ ہار اب حضرت ِبی
بی عائشہ رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائیں
گےمگر حضور ﷺ نے حضرت بی بی اُمامہ رضی اللہ عنہا کو قریب بُلایا اور اپنی پیاری
نواسی کے گلے میں اپنے مبارک ہاتھ سے یہ ہار ڈال دیا۔(زرقانی علی
المواہب،4/321۔مسند امام احمد،9/399،حدیث: 24758)
حضرت بی بی فاطمۃُ
الزہرا رضی اللہ عنہا کی بڑی شہزادی حضرت سیِّدَہ بی بی زینب رضی اللہ عنہا کی کنیت اُمُّ الحسن تھی اور واقعہ ٔکربلا کے بعد ان کی کنیت اُمُّ المصائب مشہور ہو گئی تھی۔ (شانِ خاتونِ جنت، ص 261)
انہوں نے بہت مصیبتیں
برداشت کیں، بہت صبر کیا اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا،یہ ایسی صابرہ تھیں کہ ان کے اپنے چھوٹے چھوٹے شہزادے محمد اور عَون رضی اللہ عنہما نے بھی کربلا کے میدان میں تلوار پکڑی اور یزیدیوں کے مقابلے میں نکل گئے، آخرِ کار جامِ
شَہادت نوش کرلیا۔ (اسد الغابہ، 7/146)
حضرت خاتونِ جنت ،شہزادیِ کونین بی بی فاطمہ زہرا
رضی اللہ عنہا کی سب سے چھوٹی صاحبزادی حضرت بی بی اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا اپنی بڑی بہن حضرت بی بی زینب رضی
اللہ عنہا کے مُشابِہ تھیں۔مسلمانوں کے
دوسرے خلیفہ حضرت عُمَر فاروق اعظم رضی اللہ
عنہ نے حضرت بی بی اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ آپ نے مولا علی،شیرِ
خدا رضی اللہ عنہ کو نکاح کا پیغام بھیجا اور کہا:اے علی!آپ اپنی شہزادی کا نکاح
مجھ سے کر دیجئےکیونکہ میں نےرسولُ اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کل بروز ِقیامت
ہر نَسَب اورہر رشتہ ختم ہو جائے گا سوائے میرے نسب اور میرے رشتے کے۔(الاستیعاب،4/509-تاریخ ابن عساکر، 19/482-اصابہ،8/464،رقم:12237)
پیارے آقا ﷺ کی نواسیوں کی کل تعداد چار ہے جن کے اسمائے
گرامی یہ ہیں:حضرت امامہ بنتِ ابو العاص،حضرت رقیہ بنتِ علی، حضرت امِّ کلثوم بنتِ
علی اور حضرت زینب بنتِ علی رضی اللہ عنہن۔
حضرت امامہ رضی اللہ عنہا حضور ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب رضی
اللہ عنہا کی شہزادی ہیں جبکہ باقی شہزادیاں بی بی فاطمہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا
کی اولاد ہیں۔آپ کو ان سب سے بے انتہا محبت تھی۔
حضرت امامہ رضی اللہ عنہا سے حضور ﷺ کو بڑی محبت تھی اور آپ
ان کو اپنے دوش مبارک پر بٹھا کر مسجدِ نبوی میں تشریف لے جاتے تھے ۔
روایت
ہے کہ ایک مرتبہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور ہدیہ ایک حلہ بھیجا
جس کے ساتھ سونے کی ایک انگوٹھی بھی تھی جس کا نگینہ حبشی تھا،حضور ﷺ نے یہ انگوٹھی
حضرت امامہ رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائی ۔ (سیرتِ مصطفیٰ ، ص 693)
اسی طرح
ایک مرتبہ بہت ہی خوبصورت سونے کا ہار کسی نے حضور اقدس ﷺ کو نذر کیا جس کی
خوبصورتی کو دیکھ کر تمام ازواجِ مطہرات حیران رہ گئیں،آپ نے اپنی مقدس بیویوں سے
فرمایا کہ میں یہ ہار اس کو دوں گا جو میرے گھر والوں میں مجھے سب سے ذیادہ محبوب
ہے۔تمام ازواجِ مطہرات نے یہ خیال کرلیا کہ یقیناً یہ ہار حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی
اللہ عنہا کو عطا فرمائیں گے مگر حضور ﷺ نے حضرت امامہ رضی اللہ عنہا کو قریب بلایا
اور اپنی پیاری نواسی کے گلے میں اپنے دستِ مبارک سے یہ ہار ڈال دیا۔
(شرح زرقانی،3 /197)
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے
ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ حضرت
امامہ بنتِ ابو العاص رضی اللہ عنہا کو کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے۔سیدہ امامہ رضی
اللہ عنہا کی والدہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہاہیں۔سیدہ
امامہ رضی اللہ عنہا ابھی چھوٹی بچی تھیں،وہ آپ کے کندھے پر تھیں، جب آپ رکوع کرتے
تو انہیں اٹھا لیتے،اسی طرح کرتے ہوئے آپ نے اپنی نماز ادا کی۔
(بخاری،4/100،حدیث:5996)
بی بی فاطمہ خاتونِ
جنت رضی اللہ عنہا کی تین صاحبزادیوں میں بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا تو بچپن میں ہی
وفات پا گئیں تھی،حضرت ام کلثوم بنتِ علی رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عمر فاروق رضی
اللہ عنہ سے ہوا جن کے شکم سے ایک صاحبزادے حضرت زید بن
عمر رضی اللہ عنہما اور ایک صاحبزادی حضرت رقیہ بنتِ عمر رضی اللہ عنہما کی پیدائش
ہوئی اور بی بی فاطمہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کی تیسری صاحبزادی حضرت زینب بنتِ
علی رضی اللہ عنہا ان کی شادی حضرت
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔
(مدارج النبوت،2 /460
)
اس سے ثابت ہوا کہ حضور ﷺ اپنی پیاری نواسیوں سے بے پناہ
محبت کرتے تھے۔
Dawateislami