حضرت یونس
علیہ السلام کا ذکر خیران مندرجہ ذیل سورتوں میں تفصیلا آیا ہے ۔
(1)سورۃ یونس:آیت
نمبر 98
(2)سورۃ
انبیاء:آیت نمبر 87,88
(3)سورۃ
صافات: آیت نمبر 139تا148
(4)سورۃ قلم
: آیت نمبر 48تا 50
آپ علیہ
السلام پر کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا البتہ وحی کے ذریعے احکام نازل ہوئے اللہ
تعالیٰ نے آپ پر بہت سے انعامات کیےاللہ
تعالیٰ نےآپ کی دعا قبول فرمائی اور رجوع بھی قبول فرما یا اور مچھلی کے پیٹ میں
بھی عبادت کی توفیق عطا کی اور خاص فضل فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا فرمائی ۔
اللہ تعالیٰ
نے ارشاد فرمایا :
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:
اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر
تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ الانبیاء 87)
اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان
والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (سورۃ الانبیاء:88)
آپ علیہ
السلام نے جو تسبیح مچھلی کے پیٹ میں پڑھی اسکی فضیلت احادیث میں بھی موجود ہے ۔
حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ
میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات
کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی،
کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵
/ ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)
Dawateislami