تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام عَلَیْهِمُ السَّلَام کو مبعوث فرمایا اور ان کے مبارک واقعات کو قرآنِ مجید میں ہمارے لیے نصیحت و عبرت کا ذریعہ بنایا۔ ان مقدس ہستیوں میں حضرت یونس علیہ السَّلَام بھی ایک عظیم المرتبت نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت، صبر، تسبیح اور دعا کی برکت سے عظیم مقام عطا فرمایا۔حضرت یونس علیہ السَّلَام کا واقعہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ بندہ کسی بھی پریشانی میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بلکہ سچے دل سے توبہ، صبر اور دعا کا راستہ اختیار کرے۔ قرآنِ پاک میں آپ علیہ السَّلَام کا ذکرِ خیر مختلف مقامات پر موجود ہے جس میں ایمان، تسبیح، صبر اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کی عظیم تعلیمات پوشیدہ ہیں۔

زیرِ نظر مضمون میں حضرت یونس علیہ السَّلَام کا قرآنِ مجید کی روشنی میں اجمالی و تفصیلی تذکرہ پیش کیا گیا ہے تاکہ ہمیں ان کے مبارک واقعات سے نصیحت اور عمل کی ترغیب حاصل ہو۔

آپ علیہ السلام اور قرآن:حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کااجمالی ذکرِ خیر سورۃ النساء ،آیت:163 اور سورۃ اَلانعام ،آیت:86 میں ہے، جبکہ تفصیلی تذکرہ درج ذیل سورتوں میں ہے:

(1) سورۃ یونس ،آیت:98۔ (2) سورۃالانبیاء ،آیت:87،88۔ (3) سورۃ القلم ،آیت:48 تا 50۔ (4) سورۃ الصّٰٓفّٰت ،آيت:139 تا 148۔

اجمالی ذکر:(1)آپ عَلَیْہِ السَّلَام پرجداگانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا،البتہ وحی کے ذریعے آپ عَلَیْہِ السَّلَام پر بعض احکام نازل ہوئے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ:

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (النساء:163)

(2)دوسرے مقام پر انبیائے اکرام علیہم السلام کی افضلیت پر موجود آیت کے ضمن میں آپ علیہ السلام کا تزکرہ ہوا،ارشاد بارى تعالىٰ:وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔ (الانعام:86)

تفصیلی تذکرہ :(1)فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (يونس:98)

(2) وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷) ترجمۂ کنز الایمان :اور ذوالنون کو (یاد کرو)جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بےشک مجھ سے بے جا ہوا۔(الانبياء:87)

(3) فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (الانبياء:88)

(4) فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) ‏

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔ (القلم:48)

(5) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹)

‏ترجمۂ کنز الایمان :اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیاہوا۔ (القلم:49)

(6) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

‏ترجمۂ کنز الایمان : تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے حقداروں میں کرلیا۔ (القلم:50)

سورۂ الصّٰٓفّٰت" کی ذیل آیات (139 تا 148) میں حضرت یونس علیہ السلام کا سابقہ مذکور آیات کی مناسبت زیادہ طویل تذکرہ ہے:

(7) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ ‏کنز الایمان : اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(الصّٰٓفّٰت:،139140)

(8) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (الصّٰٓفّٰت:142،141)

(9) فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) ترجمۂ کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (الصّٰٓفّٰت:143تا145)

(10) وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔ (الصّٰٓفّٰت:146)

(11) وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔ (الصّٰٓفّٰت:148،147)