عصمت
اللہ ستی(درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام ان انبیاءِ کرام علیہم السلام میں سے ہیں جن کا ذکر قرآنِ مجید میں
نہایت وضاحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قومِ نینویٰ کی
طرف مبعوث فرمایا جو موصل کے علاقے میں ایک بڑی بستی تھی۔ اس قوم کی تعداد ایک
لاکھ سے زائد تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام نے انہیں اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی
اور بت پرستی سے منع فرمایا لیکن ابتدا میں انہوں نے انکار کیا۔اللہ تعالیٰ ارشاد
فرماتا ہے:
وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا
فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی
طرف بھیجا بلکہ زیادہ۔ تو وہ ایمان لے آئے
تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔ (سورۃ
الصافات، آیت 147-148)
حضرت یونس
علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو عذاب سے ڈرایا اور وہ ایمان نہ لائے تو آپ علیہ
السلام وہاں سے روانہ ہو گئے۔ بعد میں جب عذاب کے آثار ظاہر ہوئے تو پوری قوم خوف
زدہ ہو گئی اور سب نے مل کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ
نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور ان سے عذاب کو دور فرما دیا۔قرآنِ مجید میں ارشاد
ہے:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم۔(سورۃ یونس، آیت 98)
حضرت یونس
علیہ السلام جب اپنی قوم سے جدا ہو کر کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی دریا کے درمیان
رک گئی۔ قرعہ اندازی میں آپ علیہ السلام کا نام آیا اور آپ کو دریا میں ڈال دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ علیہ السلام کو نگل لیا لیکن اللہ تعالیٰ
نے اپنے نبی کی حفاظت فرمائی۔قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ
الصافات، آیت 142)
مچھلی کے
پیٹ کی تاریکیوں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عظیم
دعا کی:
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ
ترجمۂ
کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 87)
اللہ تعالیٰ
نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور انہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا
فرمائی۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے اور بندہ
جب سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ ضرور معاف فرماتا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام
کا واقعہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے،
مصیبت میں دعا اور استغفار اختیار کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ
رکھنا چاہیے۔
Dawateislami