اللہ تعالیٰ
نے حضرت یونس علیہ السلام کو ایسی قوم کی طرف بھیجا جو دریائے دجلہ کے پاس موصل کے
علاقے نینویٰ میں رہتی تھی، اور یہ جگہ آج بھی عراق میں واقع ہے۔
اللہ تعالیٰ
نے قرآنِ پاک میں حضرت یونس علیہ السلام کی رسالت اور آپ کی قوم کا واقعہ بیان
فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:وَ اِنَّ یُوْنُسَ
لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالعرفان:اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف نکل
گیا۔(سورۃ الصافات: 139-140)
دوسرے
مقام پر آپ کی قوم کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی
کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (سورۃ یونس: 98)
حضرت یونس علیہ السلام کے القاب:قرآنِ پاک
میں آپ کو ذوالنون اور صاحبُ الحوت کے القاب سے یاد کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا
ہے:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ
الانبیاء: 87)
اور فرمایا:
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ
نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبرکر و اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب
اس نے اس حال میں پکارا کہ وہ بہت غمگین
تھا۔(سورۃ القلم: 48)
قرآنِ پاک
کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی رسالت، آپ کے القاب اور
آپ کی قوم کے واقعے کو بیان فرمایا ہے۔آئیے! ہم حضرت یونس علیہ السلام کی سیرت، آپ
کی قوم کے واقعے، بعض معترضین کے اعتراضات اور ان کے جوابات، نیز اس واقعے سے حاصل
ہونے والے اسباق کا مطالعہ کرتے ہیں۔
حضرت یونس علیہ السلام اور قومِ نینویٰ:اللہ تعالیٰ
نے جب آپ کو قومِ نینویٰ کی طرف نبی بنا کر بھیجا تو آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا
اور آپ کی دعوت قبول نہ کی۔ آپ اپنی قوم کے اس طرزِ عمل سے دل برداشتہ ہوئے اور
جلال میں آکر وحی نازل ہونے سے پہلے ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔
حضرت فضل
بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ دعا کی:
اللّٰهُمَّ اِنَّ ذُنُوْبَنَا قَدْ عَظُمَتْ وَجَلَّتْ وَاَنْتَ اَعْظَمُ
مِنْهَا وَاَجَلُّ، اِفْعَلْ بِنَا مَا اَنْتَ اَهْلُهٗ وَلَا تَفْعَلْ بِنَا مَا
نَحْنُ اَهْلُهٗ۔
ترجمہ:اے
اللہ! ہمارے گناہ بہت بڑے ہوگئے ہیں، لیکن تو ان سے زیادہ بڑا اور عظمت والا ہے۔
ہمارے ساتھ وہ معاملہ فرما جس کا تو اہل ہے اور ہمارے ساتھ وہ نہ فرما جس کے ہم
مستحق ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور ان سے عذاب دور کردیا۔مروی
ہے کہ یہ جمعہ اور عاشورہ (10 محرم) کا دن تھا۔(تفسیرِ کبیر، تحت الآیۃ 98، سورۃ یونس،
جلد 17)
اللہ تعالیٰ
نے مچھلی کو حکم فرمایا:لَا تَكْسِرِيْ مِنْهُ عَظْمًا
وَلَا تَقْطَعِيْ لَهٗ وَصْلًاترجمہ :ان کی کوئی ہڈی نہ توڑنا اور
نہ ان کا گوشت کاٹنا۔پھر مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو ایک ویران میدان میں
اگل دیا۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:
فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)
ترجمۂ
کنزالایمان: پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (سورۃ صافات:145)
"عراء" ایسی زمین کو کہتے ہیں جہاں کوئی درخت یا سایہ دار چیز نہ ہو۔ حضرت یونس
علیہ السلام بہت کمزور ہوچکے تھے اور آپ کی جلد نومولود بچے کی جلد کی طرح نازک
ہوگئی تھی۔اللہ تعالیٰ نے آپ پر کدو کا درخت اگایا۔ قرآنِ پاک میں ہے:وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔(سورۃ
صافات:146)
اگرچہ عام
طور پر کدو بیل کی صورت میں ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو سایہ فراہم کرنے کے
لیے بطورِ معجزہ کدو کا درخت اگایا۔(تفسیرِ کبیر، تحت الآیات 139-142)
معترضین
کے اعتراضات اور ان کے جوابات:
اعتراض:
قرآنِ پاک
میں ہے:فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ
بعض لوگ
اس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ “حضرت یونس علیہ السلام نے گمان کیا کہ اللہ ان پر
قدرت نہ رکھے گا، حالانکہ یہ معنی نبی کی شان کے خلاف ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء
علیہم السلام خطا سے معصوم نہیں۔
الجواب:یہ
معنی بالکل غلط ہے۔ یہاں "نقدر" کا معنی "تنگی کرنا" ہے، نہ
کہ "قدرت نہ رکھنا"۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:اَللّٰهُ
یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَقْدِرُ لَهٗترجمۂ کنزالعرفان:اللہ
اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہتا ہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ
کردیتا ہے۔(سورۃ العنکبوت: 62)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جب اس آیت کے
متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:هٰذَا مِنَ الْقَدْرِ
لَا مِنَ الْقُدْرَةِیعنی یہاں “قدر” سے مراد تنگی ہے، نہ کہ قدرت۔(تفسیرِ کبیر، تحت الآیۃ 87،
سورۃ الانبیاء)
قصۂ یونس علیہ السلام سے حاصل ہونے
والے اسباق:
(1) صبر
کرنا۔
(2) تنگی
اور مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔
(3)اللہ
تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔
(4) اللہ
تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا۔
(5) جلد
بازی سے بچنا۔
(6) اللہ
تعالیٰ کی رحمت کا وسیع ہونا۔
Dawateislami