قرآن کریم
قصصِ انبیاء کے ذریعے انسان کو ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام
کا واقعہ بھی انہی سبق آموز قصوں میں سے ایک ہے۔ قوم کی نافرمانی پر آپ کا مچھلی
کے پیٹ میں جانا اور پھر خالص توبہ سے نجات پانا اللہ عزوجل کی رحمت اور قدرت کی
نشانی ہے۔ قرآن نے اس واقعے کو سورۃ یونس، الانبیاء اور الصافات میں نہایت بلیغ
انداز میں بیان کیا ہے۔ اس قصے سے ہمیں صبر، توبہ اور اللہ عزوجل پر کامل یقین کا
درس ملتا ہے۔
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔( صافات:143)
اس آیت
اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام ذکر اِلٰہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے
والے نہ ہو تے تو ضرور قیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔
حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت کے بارے میں مختلف
اَقوال ہیں۔ اُسی دن یا 3 دن یا 7 دن یا 20 دن یا 40 دن کے بعد آپ مچھلی کے پیٹ
سے نکالے گئے ۔(تفسیر صراط الجنان، جلد8، تحت الایۃ 143)
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔
(صافات:139،140)
یہاں سے
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے،
آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور
اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے
کی خبردی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو عذاب آنے کی
جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی
قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی
اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گااور نہ ہی
اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے
ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے
جس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یقینی طور پر
سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی انہیں بتایا
کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن
چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف
تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا
تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں
بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ
سکتی۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول
ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا
تھا، جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریائی
سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو
ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ ملاحوں نے کہا: اس کشتی
میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ
وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
ہی کانام نکلا، اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ
غلام ہوں۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ
ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس
وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔ علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللّٰه تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں :’’حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے
کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ
انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو
جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ
گناہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی
مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار کرتے“۔(تفسیر صراط الجنان، جلد 8، تحت الایۃ الصفت 139،140).
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے
ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ
اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (صافات:141،142)
جب حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے
نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ
خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے
میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو
اِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے
غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی
کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا“۔(تفسیر صراط الجنان ، جلد 8، تحت
الایۃ141،142)
اللہ پاک
میری اس کوشش کو اپنی پاک بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔
Dawateislami