آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے،
آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔قرآن
مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب بندوں کا ذکر فرمایا ہے خاص طور پر انبیاء علیہم
السلام جس میں حضرت یونس علیہ السلام کا باقاعدہ نام لے کر ذکر فرمایا اور کچھ
خصوصیات سے بھی نوازا جو ان کے علاوہ کسی کو عطا نہیں فرمائی ۔قرآن مجید سے حضرت یونس
علیہ السلام کی دلیل نبوت ۔
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ (سورۃ الصفت:139)
حضرت یونس
علیہ السلام نے چالیس سال اپنی قوم کو بت پرستی سے رکنے اور اللہ پر ایمان لانے کی
دعوت دی لیکن انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو جھٹلایا آپ کے نبی و حق ہونے کا
بھی انکار کیا اور مزید مخالفت کرتے ہوئے شرک میں مبتلا ہو گئے جس پر اللہ تعالیٰ
نے ان کو تین دن کی مہلت دی حضرت یونس علیہ السلام نے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے
آنے والے عذاب کے بارے میں ان کو مطلع کیا ان کی قوم کا یہ معمول تھا کہ جو جھوٹ
بولتا اسے وہ قتل کر دیتےتو عذاب آنے کی اطلاع تو دی مگر وقت بیان نہ کیا تو وہ بھی
حضرت یونس علیہ السلام کو جھوٹا سمجھنے لگے اور معاذاللہ قتل کرنے کا بھی ارادہ کر
بیٹھےتو ان معمولات اور ارادہ کی وجہ سے آپ علیہ السلام ان پر غضبناک بھی ہوئے اور
وہاں سے نکل دئیے یعنی ہجرت فرما گئے بہرحال اس سے آگے پورا واقعہ ہے اور سورت یونس
میں ان کی قوم کے ایمان لانے کا ذکر ہوا اس کو بھی ملاحظہ فرماتے ہیں:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃ یونس:98)
حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ حضرت یونس علیہ السلام جھوٹ نہیں
بولتے اور جو کہیں وہ پورا ہوتا ہے جب اللہ تعالٰی کے حکم سے جب لوگوں کو عذاب کی
خبر دی تو لوگوں نے آپس میں بات کی کہ اگر یونس علیہ السلام یہاں رہے تو عذاب نہیں
آئے گا اگر چلے گئے تو عذاب آئے گا حضرت یونس علیہ السلام رات کو وہاں سے نکل گئے
اور صبح کچھ آثار نمودار ہونے لگے تو قوم ہیبت میں پڑ گئی اور وہ اپنا سامان بال
بچوں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے آسمان کالا ہونے گھٹا چھا جانے کی وجہ سے ان کے
مالاور بال بچے کھو گئے تو پھر اس قوم نے سچی پکی توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی
توبہ قبول فرمائی اور ان کو عذاب سے نجات عطا فرمائی اور یہ ایمان لے آئے یہ واحد
قوم تھی جو عذاب سے بچ گئی فرعون کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے عذاب دیاآپ کی زبان سے
نکلی ہوئی دعا " لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَ " کو "آیتِ کریمہ" کا درجہ ملا اور قیامت تک کے لیے غمزدہ
دلوں کا وظیفہ بن گئی۔
اللہ تعالیٰ
نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی حضرت یونس علیہ السلام مستجاب
الدعوات تھے ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان
والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (سورۃ
الانبیاء:88)
تفسیر
صراط الجنان:فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ:تو ہم نے اس کی پکار سن لی۔ ارشاد
فرمایا کہ ہم نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پکار سن لی اور اسے
تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریا کے کنارے پر پہنچا دیا اور ہم ایمان والوں کو ایسے
ہی مصیبتوں اور تکلیفوں سے نجات دیتے ہیں جب وہ ہم سے فریاد کریں اور دعا کریں۔(
مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۷۲۵، ابو سعود، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳
/ ۵۳۳، ملتقطاً)
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
دعامسلمانوں کے لیے بھی ہے:حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’کیا میں تمہاری اللہ تعالیٰ کے اس اسمِ اعظم کی طرف
رہنمائی نہ کروں جس کے ساتھ جب بھی دعاکی جائے تو وہ قبول ہوجائے اورجب سوال کیاجائے
توعطاہوجائے، وہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے جو انہوں نے اندھیروں میں تین
بار کی تھی ۔ایک شخص نے عرض کی: یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ خاص تھی
یاتمام مسلمانوں کے لیے ہے ؟ آپ ﷺ نے
ارشادفرمایا’’ کیاتم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادنہیں سنا’’وَ
نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘اور اسے
غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں۔(مستدرک ، کتاب
الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ ، ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔
الخ ، ۲ / ۱۸۳ ، الحدیث: ۱۹۰۸)
مراد یہ ہے کہ یہ دعا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لیے
خاص نہیں مسلمانوں کے لیے بھی ہے، جب وہ ان الفاظ کے ساتھ دعامانگیں گے تو ان کی
دعا بھی قبول ہو گی۔ پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی اللہ تعالیٰ سے خوب دعائیں
مانگنی چاہیے حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ عام انبیاء کے قصوں سے کچھ مختلف ہے۔ یہ
صبر اور جلد بازی، غم اور دعا، مایوسی اور امید، قہر اور رحمت کے درمیان ایک ایسی
کہانی ہے جو ہر دور کے انسان کو جھنجھوڑتی ہے۔
قرآن سے ملنے والے اسباق:
(1) اللہ
کی رحمت: سچی توبہ سے عذاب بھی ٹل جاتا ہے، جیسے قومِ یونس کا۔
(2) صبر:
نبی کو بھی جلد بازی سے منع کیا گیا۔
(3) دعا کی
طاقت: " لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ " غم سے نجات کی دعا ہے۔
(4) ناامید
نہ ہونا: مچھلی کے پیٹ کے اندھیروں میں بھی اللہ نے سن لیا۔
(5) داعی
کا اخلاق :دعوت میں صبر اور حکمت کی ضرورت۔
(6) اللہ
کی رحمت کی وسعت : توبہ کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا
(7)آزمائش
میں دعا کی طاقت : اندھیروں میں بھی امید کی کرن۔
Dawateislami