ابو
صَفی محمد علی(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی رضی اللہ عنہ ،کراچی،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام ان جلیل القدر انبیائے کرام میں سے ہیں جن کا ذکر قرآنِ مجید میں نہایت
حکمت آموز انداز میں کیا گیا ہے۔ آپ کی زندگی صبر، توکل، توبہ اور اللہ تعالیٰ کی
رحمت کے حسین مظاہر سے بھرپور ہے۔ آپ کو نینویٰ کی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا، مگر
جب قوم نے سرکشی اختیار کی تو آپ ناراض ہو کر بستی سے نکل گئے، جس کے نتیجے میں ایک
عظیم آزمائش پیش آئی۔ مچھلی کے پیٹ میں پہنچنا بظاہر مصیبت تھی مگر درحقیقت یہ
اللہ تعالیٰ کی طرف سے تربیت اور رحمت کا ایک خاص انداز تھا، جس سے ہمیں عاجزی،
رجوع الی اللہ اور امید کا درس ملتا ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ:اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے ۔(انبیاء:87)
اس آیت میں حضرت یونس علیہ السلام کے اس واقعے
کو بیان کیا گیا ہے جب وہ اپنی قوم سے ناراض ہو کر نکل گئے اور پھر آزمائش میں
مبتلا ہوئے۔
مچھلی کے پیٹ میں دعا:اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے:
فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا
ہوا۔
یہ دعا
حضرت یونس علیہ السلام کی عاجزی اور اللہ کی بارگاہ میں رجوع کا بہترین نمونہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نجات:اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے:
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان:
تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔(سورۃا لانبیاء:88)
قومِ یونس کی توبہ:اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے: فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے۔(سورۃ یونس :98)
یہ آیت اس
بات کی دلیل ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان
پر سے عذاب ٹال دیا۔
حضرت یونس علیہ السلام کی دعا کی فضیلت:رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا: دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ دَعَا
وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ لَمْ يَدْعُ بِهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِي شَيْءٍ قَطُّ
إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ یعنی ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی
دعا… کوئی مسلمان جب بھی اس کے ساتھ دعا کرے گا اللہ اسے قبول فرمائے گا۔ (سنن
الترمذی، کتاب الدعوات، حدیث نمبر 3505)۔
حضرت یونس
علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ آزمائشیں اللہ کی طرف سے اصلاح اور
بلندیٔ درجات کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ جب انسان اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے عاجزی کے
ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے اس
واقعے کو بیان کر کے ہمیں امید، صبر اور توبہ کا درس دیا ہے کہ چاہے حالات کتنے ہی
مشکل کیوں نہ ہوں، اگر بندہ اخلاص کے ساتھ اللہ کو پکارے تو وہ اسے ہر اندھیرے سے
نکال کر روشنی میں لے آتا ہے۔ یہی وہ ایمان افروز حقیقت ہے جو دلوں کو نرم کرتی
اور روح کو تازگی عطا کرتی ہے، اور جسے پڑھ کر ہر صاحبِ دل بے اختیار رشک کرنے
لگتا ہے۔
Dawateislami