قرآن مجید اللہ تعالی کی وہ مقدس کتاب ہے جس میں انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات کو انسانیت کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے بیان فرمایا گیا حضرت یونس علیہ السلام ان جلیل القدر انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں مختلف مقامات پر نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا آپ کی حیات مبارکہ صبر دعوتِ دین اللہ تعالی پر کامل بھروسہ اور توبہ و استغفار کا عظیم نمونہ ہے قرآن مجید میں آپ علیہ السلام کے واقعات کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ ہر دور کا انسان اس سے ہدایت نصیحت اور ایمان افروز اسباق حاصل کر سکتا ہے خصوصاً مچھلی کے پیٹ میں آپ کی دعا اللہ تعالی کے قرب و بندگی کی حقیقت اور مشکل گھڑی میں اللہ تعالی کی طرف رجوع کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔

(1)حضرت یونس علیہ السلام کی دعوت دین کا ذکر:اللہ تعالی نے حضرت یونس علیہ السلام کو موصل کے علاقہ نینویٰ کی طرف رسول بنا کر بھیجا آپ علیہ السلام ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرنے کی دعوت دیتے رہے لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اور شرک سے باز نہ آئے قرآن مجید میں آپ علیہ السلام کی دعوت دینے کو کچھ اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ۔

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ ( پارہ 23،صافات، آیت نمبر 139 )

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے جب دعوت قبول نہ کی نصیحت نہ مانی اور کفر پر قائم رہے اور اپنی قوم سے ناراض ہو کر علاقہ سے باہر تشریف لے گئے اور ہجرت کرنے میں جلدی کی تو قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مختلف مقامات پر ان القاب سے ذکر فرمایا: وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے ۔(پارہ 17،الانبیاء،آیت نمبر 87)

اور دوسرے مقام پر ذکر فرمایا:وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ

ترجمہ کنزالعرفان:اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا۔(پارہ29،القلم،آیت نمبر 48)

(2)حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں:جب حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے آپ کی نصیحت نہ مانی تو آپ علیہ السلام بھری کشتی میں سوار ہو گئے اور کشتی دریا کے درمیان میں رک گئی ملَّاحوں نے کہا کہ کوئی غلام اپنے آقا سے بھاگا ہوا ہے تو انہوں نے قرعہ اندازی کرتے ہوئے قُرعہ ڈالا تو اس میں حضرت یونس علیہ السلام کے نام کا قُرعہ نکلا انہوں نے تین بار قرعہ ڈالا اور تین بار آپ علیہ السلام کا نام نکلا اور پھر حضرت یونس علیہ السلام نے دریا میں چھلانگ لگا دی تو آپ علیہ السلام کو اللہ تعالی کے حکم سے مچھلی نے نگل لیا اس واقعہ کو قرآن کریم نے اس طرح بیان فرمایا :اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (پارہ 23،صافات،آیت نمبر140تا 142 )

حضرت یونس علیہ السلام کی اللہ تعالی سے بخشش طلب کرنا:حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم سے ناراض ہو کر بستی سے باہر تشریف لے گئے آپ کی تبلیغ کے باوجود کفار و مشرکین ضلالت اور گمراہی کی راہ سے نہ ہٹے اس پر حضرت یونس علیہ السلام پریشان ہوئے اور اپنی فکری اجتہاد کی بنا پر اللہ کے حکم کا انتظار کیے بغیر اپنے لیے ہجرت کو جائز قرار دیا جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو لطیف انداز میں سمجھانے کے لیے مچھلی کے پیٹ میں قید کر دیا ان اندھیروں اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی میں حضرت یونس علیہ السلام نے پروردگار عالم سے اس طرح دعا کی اے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہر عیب سے پاک ہے بے شک مجھ سے بے جا ہوا ہے قرآن مجید میں اس کا بیان اس طرح آیا ہے:وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (پارہ17،الانبیاء،آیت نمبر 87)

(3)حضرت یونس علیہ السلام کی نجات:جب حضرت یونس علیہ السلام نے دعا کی تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہم نے آپ کی پکار سن لی اور اسے تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی مصیبتوں اور تکلیفوں سے نجات دیتے ہیں جب وہ ہم سے فریاد کریں : فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (پارہ 17،الانبیاء،آیت نمبر 88)

قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کی فریاد سنتا ہے توبہ قبول فرماتا ہے اور مشکلات کے اندھیروں میں بھی نجات کی راہیں پیدا فرماتا ہے اس لیے قرآن کریم میں آپ علیہ السلام کا ذکر اہل ایمان کے لیے باعث تسلی امید اور روحانی تربیت قرار دیا گیا ہے۔