حضرت یونس
علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی تھے آپ کے والد کا نام ''متّٰی'' تھا۔ حضرت یونس
علیہ الصلوۃ والسلام جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے
تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، آپ کی قوم ایک لاکھ سے زیادہ
افراد پرمشتمل تھی جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی
طرف بھیجا بلکہ زیادہ۔ (سورۃ الصفت:147)
قرآن پاک
میں کافی مقامات پر حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام کا ذکر ملتا ہے۔ آپ علیہ الصلوۃ
والسلام کے متعلق ایک طویل قصہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے کہ آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا ارشاد فرمایا:فَالْتَقَمَهُ
الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(سورۃ
الصفت:142)
قرآن عظیم
میں آپ کو دو القابات سے یاد کیا گیا ہے دونوں کا معنی ہے "مچھلی والے"۔
ایک "ذوالنون" چناچہ سورۃ الانبیاء میں ارشاد باری ہے: وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا
دوسرا
"صاحب الحوت " چناچہ سورۃ القلم کی آیت 48 میں فرمایا : وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ
حضرت یونس
علیہ السلام نے مچھلی کےپیٹ میں جو دعا مانگی تھی اسکے بارے میں رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ
میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات
کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔ ( ترمذی،
کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵
/ ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)
ایک اور
مقام پر اللہ تعالٰی نے فرمایا: وَ اِنَّ یُوْنُسَ
لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (سورۃ الصفت:139)
اللہ پاک
سے دعا ہے ہمیں تمام انبیاء و اولیاء کرام کا ادب اور محبت نصیب فرمائے۔
Dawateislami