سجاد
علی (درجہ سابعہ مرکز ی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ ،کراچی،پاکستان)
اللہ پاک
نے انسانوں کی رشد و ہدایت کے لئے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم
السلام کو مبعوث فرمایا تاکہ انسان کفر و شرک کی اندھیری گھاٹیوں سے نکل کر ایمان
سے روشن و منور راہوں پر گامزن ہوں ۔ ان انبیاء کرام علیھم السلام میں اللہ پاک کے
پیارے نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں ، آپ علیہ السلام کو قرآن کریم میں
"ذوالنون" و "صاحب الحوت ( مچھلی والے)" کے القابات سے یاد کیا
گیا ہے کیونکہ آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تھے ۔ اللہ پاک نے
حضرت یونس علیہ السلام کو بہت سے انعامات سے نوازا جنہیں اللہ پاک اپنے پاک کلام
قرآن مجید میں بیان فرمایا ۔ تو آئیے قرآن مجید سے حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر
سنتے ہیں ۔
(1) برگزیدہ ہستیوں کے ساتھ ذکر:اللہ پاک
نے انبیاء کرام علیہم السلام پر نزول وحی ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔
اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے
بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور
ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی
اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (
پارہ 6 ، سورۃ النساء ، آیت نمبر 163)
(2) حضرت یونس علیہ السلام کا ایمان :اللہ پاک نے آپ علیہ
السلام کو قوم کی ہدایت و رہنمائی کے لیے بھیجا وہ لوگ آپ علیہ السلام کی تبلیغ کے
باوجود ایمان نہ لائے اور کفر و شرک پر اڑے رہے ، اس پر آپ علیہ السلام نے ان کے
لئے بددعا فرمائی جب ان پر عذاب کے آثار ظاہر ہوئے تو ایمان لے آئے ۔ اس واقعے کو
اللہ نے قرآن مجیدمیں یوں بیان فرمایا :فَلَوْ لَا كَانَتْ
قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ
اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ
مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب
ایمان
لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں
فائدہ اٹھانے دیا۔ ( پارہ 11 ، سورۃ یونس ، آیت 98)
(3) حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے
پیٹ میں : جب آپ علیہ السلام نے قوم کے خلاف دعا فرمائی تو ان کو چھوڑ کر سمندر کے
کنارے تشریف لے گئے اور ایک کشتی میں سوار ہو گئے ، لیکن کشتی والوں نے آپ علیہ
السلام کو بھاگا ہوا غلام سمجھ کر سمندر میں ڈال دیا جس کی وجہ سے آپ مچھلی کے پیٹ
میں تشریف لے گئے ۔ اس واقعے کو اللہ پاک نے ان الفاظ سے بیان فرمایا ہے ۔
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ
فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ اور بیشک یونس ضرور
رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ ( پارہ
23 ، سورۃ الصافات ، آیت 139 تا 142)
(4) حضرت یونس علیہ السلام کی دعا :جب مچھلی
نے آپ علیہ السلام کو نگل لیا تو آپ علیہ السلام کو اندھیرے کی وجہ سے گھبراہٹ ہوئی
تو آپ علیہ السلام نے اللہ پاک سے دعافرمائی جس کو اللہ پاک نے یوں بیان فرمایا :
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون
کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ
کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ ( پارہ 17 ، سورۃ الانبیاء ،
آیت 87)
اس میں
ہمارے لیے بڑا درس ہے کہ جب کوئی غم یا مصیبت پہنچے تو اس پر آہ وبکا کرنےکی بجائے
صبر و تحمل کا دامن تھامتے ہوئے اللہ سے دعا کرنی چاہیے ۔
(5) حضرت یونس علیہ السلام کی مچھلی
کے پیٹ سے نجات :جب آپ علیہ السلام نے اللہ کی تسبیح اور دعا مانگی تو اللہ پاک نے مچھلی سے
نجات عطا فرمائی ، اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ کے ساتھ ہے ۔
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ
بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے
پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔ (پارہ23 ،
سورۃ الصافات ، آیت 143 تا 146)
اس کے بعد
اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کو دوبارہ اسی قوم کے ایک لاکھ یا اس سے بھی زائد
لوگوں کے پاس بھیجا اور وہ آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے
کہ رب لم یزل ہم سے ہمیشہ راضی رہے اور ہمیں اپنی پسند کا بندہ بنائے آمین۔
Dawateislami