انسان کو رب تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ،پھر اگر اللہ جَلَّ شَانُہ چاہتا تو بغیر کسی واسطے کے خود اپنی معرفت کا علم عطا فرماتا مگر اللہ پاک نے اپنی معرفت ایسی ہستی کے ذریعے کروائی جن کو اللہ پاک اپنا محبوب رکھتا ہے ان کے مقام و مرتبے کو بیان فرماتا ہے انہی میں سے ایک کا ذکر قرآن مجید میں کئی مقامات پر فرمایا ہے جن کا نامِ مبارک حضرت یونس علیہ السلام ہے۔

آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مختصر تعارف :آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام مبارک یونس بن متی ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، اور یہ اس وجہ سے ہو کیونکہ آپ مچھلی کے پیٹ میں چالیس دن رہے تھے۔

آپ علیہ السلام اور قوم:حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیا تو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھر کسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲ / ۳۳۵-۳۳۶)

حضرت یونس علیہ السلام اور ذکر الٰہی کی برکت:

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر ِالٰہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے والے نہ ہو تے تو ضرورقیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۳-۱۴۴، ۴ / ۲۷)

دعا قبول ہونے کا وظیفہ: حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ دعا مانگی: ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ اور جو مسلمان اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے گا تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔( ابن عساکر، حرف السین فی آبائہم، عمر بن سعد بن ابی وقاص۔۔۔ الخ، ۴۵ / ۳۸)

مفسرین فرماتے ہیں : ’’تم آسانی کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو تو وہ تمہیں تمہاری سختی اور مصیبت کے وقت یاد کرے گا کیونکہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے تھے، جب وہ مچھلی کے پیٹ میں گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔(سورۃ الصفت:143،144)

اس کے برعکس فرعون ساری زندگی تو سرکش، نافرمان اور اللہ تعالیٰ کو بھولا رہا لیکن جب وہ ڈوبنے لگا توخدا کو یاد کرکے کہنے لگا:’’اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: میں اِس بات پر ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں ۔ (یونس:۹۰)

تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:’’ آ لْــٴٰـنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اُسے کہا گیا)کیا اب (ایمان لاتے ہو؟)۔(یونس:۹۱)

حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمان رہا۔( تفسیرکبیر، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۳-۱۴۴، ۹ / ۳۵۷)

تو پیارے قارئینِ کرام حضرت یونس علیہ السلام کی سیرت کے اس گوشہ سے ہمیں رجوع الی اللہ،دعاکی اہمیت، ذکر الٰہی کی تاثیر، اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا درس ملتا ہے۔ہم اللہ سے دعا گوہ ہیں کہ اللہ پاک ہمیں اپنے برگزیدہ بندوں کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔