اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بہت سے انبیاءِ کرام علیہم السلام کے واقعات بیان فرمائے ہیں تاکہ انسان ان سے نصیحت حاصل کرے اور اپنی زندگی کو بہتر بنا سکے۔ انہی عظیم انبیاء میں ایک جلیل القدر نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں۔آپ علیہ السلام کا واقعہ صبر، توبہ، اللہ پر بھروسہ اور رحمتِ الٰہی کا عظیم درس دیتا ہے۔ قرآنِ پاک میں مختلف مقامات پر آپ کا ذکر نہایت حکمت اور محبت کے ساتھ کیا گیا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نینویٰ کی قوم کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا۔ آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی دعوت دی، لیکن قوم نے نافرمانی اور انکار کا راستہ اختیار کیا۔ بار بار سمجھانے کے باوجود جب وہ لوگ ایمان نہ لائے تو حضرت یونس علیہ السلام ناراض ہو کر وہاں سے چلے گئے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (سورۃ الصافات: 139)

یہ آیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ رسول تھے جنہیں انسانوں کی رہنمائی کے لیے بھیجا گیا تھا۔جب حضرت یونس علیہ السلام کشتی میں سوار ہوئے تو سمندر میں طوفان آ گیا۔ قرعہ اندازی میں آپ کا نام نکلا اور آپ سمندر میں چلے گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ لیکن یہ اللہ کی طرف سے آزمائش تھی، ہلاکت نہیں۔قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ الصافات: 142)

مچھلی کے پیٹ کی تاریکی، سمندر کی گہرائی اور رات کے اندھیرے میں بھی حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے امید نہ چھوڑی۔ آپ نے عاجزی کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں دعا کی:

لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء: 87)

یہ دعا قرآنِ مجید کی عظیم ترین دعاؤں میں شمار ہوتی ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان جب سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے توبہ اور دعا کرے تو اللہ اس کی مشکل آسان فرما دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور انہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا فرمائی۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء: 88)

اس واقعے میں ہم سب کے لیے بہت بڑا سبق موجود ہے۔ اگر انسان مشکل حالات میں بھی اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھے، صبر کرے اور سچی توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ وہ توبہ قبول فرمانے والا اور مشکلات کو دور کرنے والا ہے۔ اسی لیے ایک مسلمان کو کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔آخر میں ہمیں چاہیے کہ ہم حضرت یونس علیہ السلام کی سیرت سے صبر، عاجزی، دعا اور اللہ پر بھروسے کا سبق حاصل کریں اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ پاک کو سمجھنے اور انبیاءِ کرام علیہم السلام کے واقعات سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔