قرآنِ حکیم کے روشن صفحات پر انبیاء کرام علیہم السلام کے قصص محض قصے نہیں، بلکہ ہدایت کے وہ آفتاب ہیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کے اندھیروں کو مٹاتے رہیں گے۔ انہی قدسی صفات ہستیوں میں ایک معتبر نام حضرت یونس علیہ السلام کا ہے، جنہیں بارگاہِ الٰہی سے "ذوالنون" اور "صاحب الحوت" جیسے پُرنور خطابات عطا ہوئے۔ آپ علیہ السلام کا تذکرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب عاجزی اور بندگی اپنے عروج پر پہنچتی ہے، تو سمندر کی گہرائیاں بھی جائے نماز بن جاتی ہیں۔

سوزِ بندگی اور مقامِ التجا:جب اللہ کی مشیت سے آپ علیہ السلام مچھلی کے شکم میں تشریف لے گئے، تو وہ مقام بظاہر قید تھا، مگر حقیقت میں وہاں بندگی کا وہ مقام بلند ہوا جس کی خوشبو آج بھی تائب دلوں کو معطر کرتی ہے۔ اس کٹھن گھڑی میں آپ کی زبانِ اقدس پر جو کلمات جاری ہوئے، انہیں قرآن نے ہمیشہ کے لیے لازوال بنا دیا:

فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء، آیت 87)

اس دعا میں جلالِ الٰہی کی تسبیح بھی ہے اور اپنی بندگی کا اعتراف بھی۔ یہ ادبِ نبوی ہی تھا کہ آپ نے اپنی طرف "ظلم" (بے جا ہونے) کی نسبت کر کے اللہ کی تقدیس بیان فرمائی۔

بارگاہِ صمدیت سے جوابِ کرم:جب پکار سچے دل اور کمالِ ادب سے نکلتی ہے، تو عرشِ بریں پر فوراً قبولیت کا شرف پاتی ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے برگزیدہ نبی کی اس عاجزی کو یوں شرفِ قبولیت بخشا:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 88)

تسبیحِ الٰہی: نجات کا وسیلہ حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی کا یہ پہلو ادب کا متقاضی ہے کہ اللہ کے پیارے بندے ہر حال میں اپنے رب کی یاد میں محو رہتے ہیں۔ مچھلی کے پیٹ جیسی تنگ و تاریک جگہ پر بھی آپ کی تسبیح جاری رہی، جس کے بارے میں خالقِ کائنات فرماتا ہے:

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔( سورہ الصافات، آیات 143-144)

حضرت یونس علیہ السلام کا ذکرِ خیر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مصیبت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، مایوسی کفر ہے۔ اگر انسان اپنے رب کی بارگاہ میں سراپا ادب بن کر جھک جائے اور اپنی خطاؤں کا اعتراف کر لے، تو اللہ تعالیٰ سمندروں کے سینے چاک کر کے بھی اسے زندگی اور عزت عطا فرماتا ہے۔قومِ یونس وہ خوش نصیب قوم ٹھہری جس نے عذاب کو سر پر دیکھ کر توبہ کی اور اللہ کی رحمت نے انہیں گلے لگا لیا۔ آج بھی "آیتِ کریمہ" کی صورت میں حضرت یونس علیہ السلام کا یہ وظیفہ ہر پریشان حال مومن کے لیے جائے پناہ اور نورِ مبین ہے۔