حضرت یونس علیہ السلام کا اصل نام یونس بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت (یعنی مچھلی والے) ہے۔ آپ علیہ السَّلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بستی نینویٰ کے نبی تھے جو موصل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ آپ علیہ السَّلام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السَّلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے ، تب آپ علیہ السَّلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے۔ قوم نے علامات عذاب کا مشاہدہ کر کے بارگاہ الہی میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔ مزید تفصیل درج ذیل آیات میں ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام اور ان کی قوم:حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے لوگ موصل کے علاقے نینوی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السَّلام کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ آپ نے انہیں ایک عرصے تک بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، لیکن یہ لوگ دعوت قبول کرنے سے انکار اور حضرت یونس علیہ السلام کی تکذیب کی راہ پر ہی گامزن رہے۔ طویل عرصے تک پوری کوشش کے باوجود جب لوگ راہِ راست پر نہ آئے تو آپ علیہ السَّلام نے بارگاہ الہی میں دعا کی: اے اللہ! قوم مجھے جھٹلانے پر ہی قائم ہے، پس تو ان پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ اس پر ان سے فرمایا گیا: آپ انہیں خبر دے دیں کہ تین دن بعد صبح کے وقت ان پر عذاب نازل ہو جائے گا۔ چنانچہ آپ علیہ السَّلام نے قوم کو نزول عذاب کی خبر دے دی۔(روح البیان، یونس، تحت الآیۃ)

قوم یونس کی توبہ اور رفع عذاب:نزول عذاب کی خبر سن کر لوگوں نے آپس میں کہا: حضرت یونس علیہ السلام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی تو حضرت یونس علیہ السَّلام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہو گئے، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کیا لیکن آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا۔ یہ سب دیکھ کر وہ لوگ اپنی عورتوں، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہو گئے اور سب نے بارگاہ الٰہی میں گریہ وزاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جو دین حضرت یونس علیہ السلام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھر کسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کر دیا۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں تو پروردگارِ عالم نے ان پر رحم کیا ، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ،۹۸، ۲/ ۳۳۵ - ۳۳۶)

قرآن کریم میں ہے: فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پ:11، سورۃ یونس، آیت:۹۸)

حضرت یونس علیہ السلام کا دریائی سفر اور مچھلی کا نگلنا:دوسری طرف حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کی توبہ سے باخبر نہیں تھے اور جب انہوں نے دیکھا کہ قوم کو عذاب آنے کی جو خبر دی تھی اس میں تاخیر ہو گئی ہے تو آپ علیہ السلام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت نازل ہوئے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دیئے اور آپ علیہ السَّلام نے یہ خیال کیا کہ الله تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گا اور نہ ہی اس فعل پر مجھ سے کوئی باز پرس ہو گی۔ حضرت یونس علیہ السلام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے، آپ علیہ السلام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ علیہ السلام نے وحی الہی سے ہی انہیں بتایا کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عزوجل کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اس لیے آپ قتل کے اندیشے سے وہاں سے چل دیئے حالانکہ آپ علیہ السلام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی متعین وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ علیہ السلام کو معاذ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔

حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِی اللہ عنہما کا قول ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا، جب اس میں تاخیر ہوئی تو(قتل سے بچنے کیلئے) آپ علیہ السَّلام ان سے سے چھپ کر نکل گئے، آپ علیہ السَّلام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہو گئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ، قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں آپ علیہ السَّلام ہی کا نام نکلا، اس پر آپ علیہ السَّلام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کا دستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کر دیا جائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔ (مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰،ص ۱۰۰۹)

جب حضرت یونس علیہ السلام دریا میں ڈال دیئے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ علیہ السَّلام کا حال یہ تھا کہ آپ خود کو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو الہام فرمایا: میں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔(روح البيان، الصافات، تحت الآیۃ : ۱۴۲، ۴۸۷/۷)

قرآن کریم میں ہے: وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (پ23، سورۃ الصافات، آیت 139 تا 142)

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لائے تو انہیں کئی قسم کی تاریکیوں کا سامنا ہوا، جیسے دریا کی تاریکی، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی، ان اندھیروں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار عزوجل سے اس طرح دعا کی: اے میرے رب ! عزوجل، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہر عیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بےجا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔ (مدارک، الانبياء، تحت الآیۃ : ۸۷، ص ۷۲۴)

قرآن پاک میں ہے: وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (پ17، سورۃ الانبیاء، آیت 87)

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا کی قبولیت:اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی پکار سن لی اور ان کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازا، چنانچہ انہیں تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس علیہ السلام کو دریا کے کنارے آکر اپنے پیٹ سے نکال دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (پ17، سورۃ الانبیاء، آیت:88)

ذکر الہی اور تسبیح کی برکت:مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ السلام نے ذکر الٰہی کی کثرت کی اور یہ پڑھا،

لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔

اس کی برکت سے انہیں نجات ملی، اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ضرور قیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔

ارشاد باری تعالی ہے: فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (پ23، سورۃ الصافات، آیت 143، 144)

مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف آوری:جب حضرت یونس علیہ السلام نے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ سے نکال کر میدان میں ڈال دیا اور مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ ایسے کمزور ، دبلے پتلے اور نازک ہوگئے تھے جیسے بچہ پیدائش کے وقت ہوتا ہے، آپ علیہ السلام کے جسم کی کھال نرم ہو گئی تھی اور بدن پر کوئی بال باقی نہ رہا تھا۔

ارشاد باری تعالی ہے: فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (پ:23، سورۃ الصافات، آیت 145)

حضرت یونس علیہ السلام کے لیے سائے اور غذا کا قدرتی انتظام:جس جگہ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے وہاں کوئی سایہ نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ کرنے اور انہیں مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن حضرت یونس علیہ السلام کے دہن مبارک میں دے کر آپ علیہ السلام کو صبح و شام دودھ پلاجاتی یہاں تک کہ جسم مبارک کی جلد شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال اگ آئے اور جسم میں توانائی آئی۔

قرآن پاک میں ہے: وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس پرکدو کا پیڑ اگادیا۔ (پ23، سورۃ الصافات، آیت 146)

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم میں تشریف آوری:اللہ تعالی نے حضرت یونس علیہ السلام کو پہلے کی طرح موصل کی سرزمین میں قوم نینویٰ کے ایک لاکھ اور اس سے کچھ زیادہ آدمیوں کی طرف انتہائی عزت و احترام کے ساتھ بھیجا، انہوں نے عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کرلی تھی، پھر حضرت یونس علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے پر باقاعدہ آپ علیہ السلام پر ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ نے قوم کو ان کی آخری عمر تک آسائش کے ساتھ رکھا۔

ارشاد باری تعالی ہے: وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔ (پ23، سورۃ الصافات، آیت:147، 148)

مگر اسی حالت میں آپ نے جب آیت کریمہ کا یہ پڑھی اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں بھی زندہ و سلامت رکھا اور پھلی کے پیٹ سے انہیں ایک میدان میں پہنچا دیا اور پھر انہیں تندرستی و سلامتی کے ساتھ اُن کی قوم اور وطن میں پہنچا دیا۔ اور ان کی تبلیغ کی بدولت ایک لاکھ سے زائد آدمیوں کو ہدایت مل گئی۔

اللہ پاک ہم سب کو حضرت یونس علیہ السلام کی طرح ہر مشکل و آزمائش میں صبر و استقامت کرنے کی توفیق کے ساتھ ساتھ اپنا ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔