علی
بخش عطاری(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
قرآن کریم
اللہ تبارک و تعالیٰ کی آسمانی کتابوں میں سے سب سے زیادہ فضل و شرف والی کتاب ہے
جو رب العزت نے اپنے پیارے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پر نازل
فرمائی ۔اللہ پاک نے قرآن مجید میں بے شمار چیزوں مثلاً اوامر و نواہی، وعظ و نصیحت
اور واقعات کا ذکر فرمایا ہے تاکہ قرآن کریم کے قارئین ان اوامر پر عمل کریں ، ان
نواہی سے بچیں اور ان واقعات سے عبرت و نصیحت حاصل کریں۔انہی واقعات میں سے ایک
بہت ہی خوبصورت قصہ حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ ہے جس کو رب العالمین نے قرآن مجید
میں صراحتاً بیان فرمایا ہے۔
اس قصہ یونس
علیہ السلام سے قارئین متعدد نکات حاصل کر سکتے ہیں ۔
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے معصوم انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام میں سے ایک
نبی ہیں ، جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے بستی نینویٰ کی طرف مبعوث فرمایا تاکہ
حضرت یونس علیہ السلام کے ذریعے اس بستی نینویٰ کے باشندوں کو راہ حق سے آشنا
فرمائے۔قرآن کریم سے حضرت یونس علیہ السلام کا تذکرہ:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس:98)
حضرت یونس علیہ السلام کا مختصر
تعارف:حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور
صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ
کے کنارے پر واقع تھی۔(صراط الجنان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹)
حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا
واقعہ :چنانچہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے
کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ
تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے
انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت
یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے
حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں
رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے
کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے
تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت
ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں
یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ
لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن
کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے
بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں
نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے
حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ
پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں
توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔(
صراط الجنان، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸)
فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ
اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون
کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح
فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے
قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی
توبہ کر لی تھی ۔ (صراط الجنان، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ) اس کا
مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف
علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد توبہ قبول ہوسکتی ہے۔
حاصل کلام
یہ کہ قرآن کریم میں حضرت یونس علیہ السلام کا تذکرہ انفرادی طور پر اور دیگر انبیاء
کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے ساتھ بار بار مذکور ہوا ہے ،مزید یہ کہ اس واقعے اور
تحریر میں کئی باتیں قابلِ سبق و نصیحت تھیں مثلاً جب تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے
بندے کو چاہیے جلد از جلد اپنے رب کریم کی طرف رجوع کرے اور گناہوں سے بچتے ہوئے
رب العزت عزوجل کی رضا پر زندگی گزارے ، وغیرہ۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بھی
قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور
مرتے دم تک توبہ پر استقامت عطا فرمائے اور خصوصاً خاتمہ بالخیر فرمائے ۔(آمین یارب
العالمین)۔
Dawateislami