حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے ان برگزیدہ انبیاء میں سے ہیں جن کا ذکر قرآنِ کریم میں انتہائی سبق آموز اور بصیرت افروز انداز میں کیا گیا ہے۔ آپ علیہ السلام کو 'صاحب الحوت' (مچھلی والا) اور 'ذوالنون' کے القاب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید کی سورۃ یونس آپ ہی کے نام سے منسوب ہے، جبکہ دیگر سورتوں جیسے سورۃ الصافات، سورۃ الانبیاء اور سورۃ القلم میں بھی آپ کے قصے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ آپ کی زندگی کا واقعہ انسانیت کے لیے صبر، استقامت، توبہ کی قبولیت اور اللہ کی رحمت کی وسعت کا ایک عظیم الشان استعارہ ہے۔

اللہ تعالیٰ سورہ الصافات میں فرماتا ہے:اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ الصفت:140)

کشتی میں سوار ہونے کے بعد جب سمندر میں کشتی رک گئی تو قرعہ اندازی کی گئی تاکہ کسی ایک شخص کو سمندر میں ڈال دیا جائے۔ تینوں بار حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکلا، جس پر آپ کو سمندر میں ڈال دیا گیا اور اللہ کے حکم سے ایک عظیم مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی لغزش کا احساس کیا اور اللہ کی تسبیح و تقدیس شروع کی۔ قرآن اس عاجزانہ منظر کو سورۃ الانبیاء میں یوں بیان کرتا ہے:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء:87)

اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس مخلصانہ توبہ اور پکار کو شرفِ قبولیت عطا فرمایا اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ساحل پر اگل دے۔ اس وقت آپ انتہائی نقاہت کی حالت میں تھے، چنانچہ اللہ نے وہاں سائے کے لیے کدو کی بیل اگا دی۔ دوسری طرف آپ کی قوم نے جب عذاب کے آثار دیکھے تو وہ صدقِ دل سے توبہ کر کے میدانوں میں نکل آئے، جس پر اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔ قرآن اس انفرادیت کا ذکر سورۃ یونس میں کرتا ہے:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃ یونس:98)

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مصیبت کی تاریکیوں میں صرف اللہ کی تسبیح اور اپنی عاجزی کا اعتراف ہی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ آپ کا قصہ اللہ کی صفتِ غفور و رحیم کا عظیم الشان مظہر ہے کہ اس نے نہ صرف اپنے نبی کو مچھلی کے پیٹ کی قید سے نجات دی بلکہ ایک پوری قوم کو اجتماعی توبہ پر معاف فرما کر عذاب سے بچا لیا۔ یہ واقعہ مبلغین کے لیے صبر اور عام انسانوں کے لیے امید کی عظیم علامت ہے کہ اللہ ہر حال میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہے اور اس کی رحمت ہر چیز پر محیط ہے۔ اس قصے سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ انسان کو اپنی خطاؤں کا اعتراف کر کے ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ وہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔