محمد
احمد جاوید (درجہ سادسہ جامعۃالمدینہ فیضان ضیائے مدینہ، کراچی، پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام اور قرآن:آپ علیہ السلام کا نام " یونس بن متی " جبکہ آپ کا
لقب "ذوالنون " اور "صاحب الحوت" ( یعنی مچھلی والے ) ہے۔ آپ
علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ علیہ السلام بستی نینوی
کے نبی تھے ، آپ علیہ السلام نے چالیس سال لوگوں کو بت برستی
چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اپنے
شرک سے باز نہ آئے تب آپ علیہ السلام نے
اللہ کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقہ سے باہر تشریف لے گئے ،قوم نے
جب علاماتِ عذاب کا مشاہدہ کیا تو بارگاہِ ا
لٰہی میں سچی توبہ کی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا ۔ (سیرت الانبیاء ،ص 491)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم
نے ان سے
رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورہ یونس
،آیت 98)
نکتہ: اس
مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں
ذکر فرمایا کہ اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی
توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ
انہوں توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول
فرمالی تو دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے ؟
امام فخر
الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم کی توبہ میں واضح فرق ہے اور وہ یہ
ہے کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس علیہ
السلام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہرہوئیں جو
عذاب کے قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کو دیکھنے سے پہلے اسی وقت
ہی توبہ کرلی تھی ۔( تفسیر کبیر،یونس،تحت الآیۃ:98
,353/6 )
حضرت یونس علیہ السلام اور مچھلی کا نگلنا:حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم
کی توبہ سے باخبر نہیں تھے جب آپ نے دیکھا کہ قوم کو عذاب آنے کی جو خبر دی تھی اس
میں تاخیر ہوگئی ہے تو اللہ کی طرف سے اجازت نازل ہوئے بغیر ہجرت کے ارادے سے
چل دیے آپ نے دریائی سفر کا ارادہ کیا اور کشتی پر سوار ہوگئے جب
کشتی دریا کے درمیان میں پہنچی تو ٹہر گئی تو ملاحوں نے کہا اس کشتی میں اپنے مولا
سے بھاگا ہوا غلام ہے قرعہ اندازی کی گئی
تو اس میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام ہی نکلا اس پر آپ نے فرمایا میں ہی وہ
غلام ہوں اس کے بعد آپ علیہ السلام پانی میں
ڈال دئیے گئے کیونکہ ان لوگوں کا دستور تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق
نہ کر دیا جائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( تفسیرِ کبیر،والصافات،تحت الایۃ،26/4,140 ؛ مدارک،الصافات،تحت
الآیۃ: 140,ص 1009,ملتقطا)
جب آپ دریا
میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ علیہ السلام کا
حال یہ تھا کہ آپ خود کو ملامت کررہے تھے اس بات پر کہ
آپ نے نکلنے میں جلدی کیوں کی؛ مروی ہے کہ اللہ پاک نے مچھلی کو الہام فرمایا: میں
نے حضرت یونس کو تیرے لیے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کیلے قید خانہ بنایا
ہے لہذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔ ( روح
البیان ،الصافات،تحت الآیۃ:487/7,142 ملخصا )
اسی پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اِنَّ
یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ
فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے
ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ
اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔(سورۃ الصّٰفّٰت ،آیت 139 تا 142)
حضرت یونس علیہ
السلام کی دعا :جب حضرت یونس
علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لائے تو انہیں کئی قسم کی تاریکیوں کا سامنا
ہوا ان تاریکیوں میں حضرت یونس علیہ السلام
نے اپنے پروردگار عزوجل سے اس طرح دعا کی : " اے میرے رب! تیرے سوا کوئی معبود
نہیں اور تو ہر عیب سے پاک ہے بیشک مجھ سے بے
جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرے اذن پانے سے پہلے ہی جدا ہوگیا ۔اللہ پاک نے قرآن پاک میں اس واقعہ کو کچھ یوں بیان فرمایا ہے :
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا
فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ
اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ
كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے
تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ
الانبیاء ،آیت 87)
اللہ پاک
نے حضرت یونس علیہ السلام کی پکار سن لی اور ان کی دعا قبول فرما لی۔اللہ پاک قرآن
مجید فرقان حمید میں فرماتا ہے : فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان
والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (سورۃ
الانبیاء ،آیت 88)
اللہ جل
شانہ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی اپنے نیک بندوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے صبر جیسی عظیم
نیکی کی توفیق عطا فرما ئے آمین۔
Dawateislami