حضرت یونس
علی نبینا وعلیہ السلام اورقرآن :انسانی تاریخ میں عظیم ہستیوں کا تذکرہ ہمیشہ سے
رہنمائی کا ذریعہ رہا ہے، قرآنِ مجید نے جن عظیم ہستیوں کا ذکر کیا ہےان کو حضراتِ
انبیاء کہا جاتا ہے ۔ یقینا ان زندگیوں میں ہر انسان کے لیے ہدایت، نصیحت اور تربیت
کا ایک جامع نظام ہے۔ کوئی بھی انسان ان حضرات کی زندگیوں کو اپناکر بہترین لوگوں
میں شامل ہوسکتا ہے ۔ انہی برگزیدہ ہستیوں میں سے ایک حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں،
جن کا ذکر قرآنِ کریم میں نہایت حکیمانہ اور مؤثر انداز میں کیا گیا ہے۔
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی ہیں، جنہیں ایک نافرمان اور سرکش قوم کی
طرف مبعوث فرمایا گیا۔ قرآنِ مجید میں آپ کو "ذو النون" کے لقب سے یاد کیا
گیا ہے۔( سیرت الانبیاء ، 491)
گناہ ہوجائے تو سچی توبہ کیجیے :آپ علیہ
السلام نے اپنی قوم کو نہایت اخلاص اور ہمدردی کے ساتھ توحیدِ الٰہی کی دعوت دی
اور شرک و گمراہی سے بچنے کی تلقین فرمائی، لیکن قوم نے ابتدا میں آپ کی دعوت کو
قبول کرنے سے انکار کر دیا۔یہ قوم قدیم شہر نینویٰ میں آباد تھی، جو دنیاوی لحاظ
سے ترقی یافتہ ہونے کے باوجود روحانی طور پر زوال کا شکار تھی۔ بت پرستی اور
نافرمانی ان کا معمول بن چکا تھا۔ حضرت یونس علیہ السلام ان کی مسلسل سرکشی سے دل
برداشتہ ہوئے ، اللہ تعالی سے ان پر عذاب لانے کی دعا کی ، پھر قوم کو بتایا کہ تین
دن بعد عذاب نازل ہوجائے گا اور پھر آپ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ بعدازاں آپ کی قوم نے
جب عذاب کے آثار دیکھے تو فوراً بیدار ہوگئی، سچے دل سے توبہ کی اور ایمان لے آئی۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور عذاب کو ٹال دیا۔ ( سیرت الانبیاء ،
ص 493، مکتبۃ المدینہ کراچی )
معلوم ہوا
کہ اللہ اپنے بندوں کی سچے دل سے کی گئی توبہ قبول فرماتا ہے کیونکہ سچی توبہ اللہ
کی رحمت کو متوجہ کر لیتی ہے۔
تسبیح کیجیے ، مصیبت دور کیجیے :اسی دوران
ایک عظیم واقعہ پیش آیا کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم سے دور ایک کشتی میں سوار ہوئے
، وہاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا میں ڈال دیے گئے، جہاں ایک بڑی مچھلی نے آپ کو
نگل لیا۔ یہ انتہائی سخت آزمائش تھی، مگر دراصل یہ اللہ کی خاص حکمت تھی۔ مچھلی کے
پیٹ کی تاریکی میں حضرت یونس علیہ السلام نے عاجزی کے ساتھ دعا کی، اللہ کی تسبیح
کا ورد کرتے رہے ۔ " لَّاۤ اِلٰهَ
اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ
مِنَ الظّٰلِمِیْنَ"اللہ تعالیٰ نے اس تسبیح کی برکت سے اس آزمائش کو دورکردیا ۔ اللہ
تعالی نے اس واقعہ کو اشارۃً بیان فرمایا :
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ
الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ
یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے
ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ
اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے ۔ تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک
اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ
اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان
میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (سورۃ
الصفت ، آیت 139-145)
حضرت یونس
علیہ السلام کا یہ قرآنی واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو مایوس نہیں ہونا
چاہیے ۔ انسان پر مصیبت آئے ، اللہ تعالی کے ذکر کی تسبیح کرتا رہے ، مصیبت دور
ہوجائے گی ۔پریشانی کے وقت انسان کو سب سے پہلے اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنا چاہیے
۔ لہذا انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیاں انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہیں، جن میں
ہر پہلو سے ہدایت پوشیدہ ہے۔
Dawateislami