حضرت یونس
علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی تھے جنہیں "ذو النون" اور "صاحب
الحوت" یعنی مچھلی والے کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کا ذکر قرآن مجید کی 6
سورتوں میں آیا ہے، اور ایک پوری سورت "سورۃ یونس" آپ کے نام سے موسوم
ہے۔ آپ کا واقعہ صبر، عجلت کے نقصان، اور سچی توبہ کی قبولیت کی بہترین مثال ہے۔
اللہ پاک نے کائنات کی طرف کم وپیش ایک لاکھ چوبیس
ہزار انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا جس میں ایک رسول حضرت یونس علیہ السلام بھی
ہے یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہے آ پ کو اللہ تعالیٰ نے نینوی شہر کی طرف نبی بنا کر
بھیجا آپ علیہ السلام نے بستی والوں کو اللہ پاک کی توحید کی دعوت دی لیکن انہوں
نے انکار کردیا یہاں تک کہ آ پ نے انہیں کتنی ہی مرتبہ دعوت دی لیکن وہ دعوت قبول
کرنے کی بجائے بت پرستی میں ہی لگے رہے یہاں تک کہ آ پ بستی سے ہجرت کر گئے۔ اللہ
پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ ذَا النُّوْنِ
اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی
الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو
جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس
پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء:87)
تفسیر
صراط الجنان:وَ ذَا النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔یہاں سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت
مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا
کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض
اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا،
وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے
پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے
سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی
قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت
الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
مقبول دعائیہ کلمات: حضرت سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی
مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵
/ ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)
حضرت سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم نبی کریم ﷺ کے قریب
بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا ’’کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں خبر
نہ دوں کہ جب تم میں سے کسی شخص پر کوئی مصیبت یا دنیا کی بلاؤں میں سے کوئی بلا
نازل ہو اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو ا س کی مصیبت و بلا دور ہوجائے۔ آپ ﷺ سےعرض کی گئی :کیوں نہیں !ارشاد فرمایا ’’(وہ
چیز) حضرت یونس کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے۔(مستدرک،کتاب
الدعاء والتکبیر والتہلیل۔۔۔الخ، من دعا بدعوۃ ذی النون استجاب اللہ لہ،۲ / ۱۸۳،الحدیث:۱۹۰۷)
اس واقعے
سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ جب بھی ہمیں کوئی مشکل ہو ہمیں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا
چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ترجمہ کنز الایمان:بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (انفال:46)
تو ہمیں ہر حال میں صبر ہی کرنا چاہیے اللہ پاک
ہمیں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami