پیارے پیارے
اسلامی بھائیو ! اللہ رب العزت کے مقربین میں سے ایک مقرب اور صالحین میں سے ایک
صالح کے بارے میں جانتے ہیں اور وہ کوئی
اور شخصیت نہیں بلکہ اللہ رب العزت کے نبی حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام ہیں ۔
آپ کا
نام مبارک یونس بن متٰی ہے اور آپ کو ذوالنون اور صاحب الحوت (یعنی مچھلی والے)
بھی کہا جاتا ہے اور یہ دونوں آپ کے القاب ہیں۔
انعامات الہی:اللہ رب العزت نے آپ کو
بہت ہی انعامات سے نوازا جن میں سے کچھ یہ ہیں جیسے کہ اللہ رب العزت نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا
اور آپ کو مچھلی کے پیٹ میں توجّہُ الی اللہ اور ذکر الہی کی توفیق بخشی اور پھر
بعد میں اللہ رب العزت نے آپ پر خاص فضل فرمایا اور مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا
فرمائی پھر اللہ رب العزت نے آپ کو اپنے مقربین اور صالحین میں اعلی درجہ عطا
فرمایا۔
حضرت یونس علیہ السلام اور آپ کی
قوم :حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے
علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اور آپ نے کافی عرصے تک
بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا لیکن قوم نے نہ صرف بت پرستی چھوڑنے سے
منع کیا بلکہ آپ کی تکذیب کی تو اس بات پر حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ
رب العزت کی بارگاہ میں اپنی قوم کی طرف عذاب الہی کی درخواست کی تو اللہ رب العزت
نے آپ کی درخواست کو قبول فرمایا پس جس دن آپ کی قوم کی طرف عذاب نازل کیا جانا
تھا اس دن انہوں نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں توبہ کی تو اللہ رب العزت نے ان
سے اپنے عذاب کو ہٹا دیا ۔
جیسا کہ
اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد
فرمایا :
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پ11: یونس:98)
نکتہ:اس
سے ثابت ہوا کہ اگر کوئی مرنے سے پہلے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سچی توبہ کر لے
تو اللہ رب العزت ان پر اپنے فضل و کرم سے عذاب کو ختم کر دیتا ہے ۔
حضرت یونس علیہ السلام کا دریائی
سفر اور مچھلی کا نگلنا:حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر جب عذاب کی تاخیر ہوئی تو آپ ان کے کفر و
شرک کی بنا پر غضبناک ہوئے اور اللہ رب العزت کے اذن کے بغیر ایک کشتی میں سوار ہو
گئے آپ نے یہ سوچا کہ آپ سے اس ہجرت کے بارے میں کوئی باز پرس نہیں ہوگی تو اس
پر اللہ رب العزت نے فرمایا:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔
(پ:23:الصافات 140)
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو
ملامت کرتا تھا۔ (پ: 23 الصافات 142)
حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کے
واقعے سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے :
(1) کہ
اللہ رب العزت اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے ۔
(2) سچی
توبہ کو قبول فرماتا ہے۔
(3) تمام
انبیاء اور رسول علیھم الصلاۃ والسلام بھی اللہ رب العزت کے حکم کے پابند ہوتے ہیں
۔
(4) اور
ذکر الہی ہر حال میں نجات کا ذریعہ ہے ۔
دعا گو
ہوں کہ اللہ رب العزت ہمیں جو سبق حاصل ہوا اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami