محمد
اسامہ عطاری (درجہ دورة الحدیث مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن
،لاہور،پاکستان)
آپ علیہ السلام کا نامِ گرامی یونس
بن متی تھااور آپ علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ علیہ
السلام بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو موصل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔
آپ علیہ السلام نے چالیس سال اپنی قوم کو دعوت توحید دی ۔ آپ علیہ السلام کا ذکر خیر
قرآن کریم میں 4 مقامات پر آیا ہے۔
القاب:آپ
علیہ السلام چونکہ مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تھے اس وجہ سے آپ کو ” ذوالنون “
اور ” صاحب الحوت ( یعنی مچھلی والے) بھی کہا جاتا ہے ۔
(1)نزول احکام:آپ علیہ
السلام پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا، البتہ وحی کے ذریعے آپ علیہ
السلام پر بعض احکام نازل ہوئے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد
پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے
بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد
کو زبور عطا فرمائی۔ (سورة النساء آیت :
163)
(2)انعاماتِ الہی:اللہ تعالیٰ
نے آپ علیہ السلام پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ ہیں کہ اللہ تعالی
نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی، آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا۔ مچھلی کے پیٹ
میں بھی توجہ اِلَی الله، رضا بالقضاء اور ذکر الہی کی توفیق بخشی۔ آپ علیہ السلام
کو اپنےمنتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین کے گروہ میں اعلیٰ درجہ عطا فرمایا۔ارشاد
باری تعالی ہے:
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ
نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ
وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا
جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا
تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا
جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ (سورۃ قلم ،آیت 48تا50)
(3)حضرت یونس اور آپکی قوم:حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم کفر و شرک میں مبتلا تھی۔ آپ نے انہیں ایک عرصے تک بت پرستی
چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، لیکن انہوں نے انکار کیا اور حضرت یونس علیہ
السلام کی تکذیب کی راہ پر ہی گامزن رہے۔ اور راہِ راست پر نہ آئے تو آپ علیہ
السلام نے بارگاہ الہی میں ان کے خلاف دعا کی کہ ان پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ اس
پر ان سے فرمایا گیا: آپ انہیں خبر دے دیں کہ تین دن بعد صبح کے وقت ان پر عذاب
نازل ہو جائے گا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے قوم کو نزول عذاب کی خبر دے دی۔نزول عذاب
کی خبر سن کر لوگوں نے آپس میں کہا : حضرت یونس علیہ السلام نے کبھی کوئی بات غلط
نہیں کہی ہے، اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات
یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی تو حضرت یونس علیہ السلام
وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہو گئے ، آسمان پر سیاہ
رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا، بہت سارا دھواں جمع ہوکر تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ
کر انہیں یقین ہو گیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو
تلاش کیا لیکن آپ کو نہ پایا، پھر یہ سب دیکھ کر پوری قوم جانوروں کےساتھ جنگل کی
طرف نکل گئی، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا اورسب نے بارگاہ الہی میں
گریہ وزاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جو دین حضرت یونس علیہ السلام لائے ہیں
ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے پکی توبہ کی اور اللہ تعالیٰ سے اخلاص
کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں تو پروردگار عالم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی
اور عذاب اٹھا دیا گیا۔جیساکہ قرآن کریم میں ہے:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس
آیت : 98)
(4) حضرت یونس علیہ السلام کا دریائی
سفر اور مچھلی کا کھانا:دوسری طرف حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کی توبہ سے باخبر نہیں تھے تو آپ
نے وہاں سے دریائی سفر کا ارادہ کرکے اللہ تعالی کی اجازت کے بغیر ہجرت کرلی یہ خیال
کرتے ہوئے اللہ تعالی ان پر تنگی نہیں فرمائے گا بہرحال پھر آپ بھری کشتی پر سوار
ہوگئے کشتی جب دریا کے درمیان پہنچی تو ملاحوں نے کشتی روک کر کہا کے کوئی غلام
اپنے مولا سے بھاگ آیا ہے تو انہوں نے قرعہ اندازی کی جس میں آپ کا نام نکل آیا اور
انہوں نے آپ علیہ السلام کو دریا میں ڈال دیا تو آپ کو ایک بڑی مچھلی نے کھا لیا
اس حال میں کے آپ علیہ السلام اپنے آپ کوملامت
کر رہے تھے۔
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو قرعہ
ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورة الصفت آیت139
تا 142)
حضرت یونس
علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں اللہ تعالٰی سے گریہ و زاری اور دعا کی جیساکہ
ارشاد باری تعالٰی ہے:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورة
الانبیاء آیت نمبر 87)
اللہ
تعالٰی نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور آپ علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا
فرمائی:
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورة الانبیاء آیت نمبر 88)
حدیث میں
ہے جو یہ دعا پڑھے" لاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَ" اللہ تعالی اسکی دعا قبول فرماتا ہے۔( سیرت الانبیاء ص503)
پیارے اسلامی
بھائیوں ہمیں حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے جیسے
کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا، اللہ تعالی کی یاد سے غافل نا ہونا اور مشکلات پر صبر
کرنا وغیرہ۔ اللہ تعالی علم وعمل کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبین ﷺ۔
Dawateislami