احمد
رضا عطاری (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
قرآنِ مجید
اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس کتاب ہے جو انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل کی گئی ہے۔ اس
میں انبیاءِ کرام علیہم السلام کے واقعات کو نہایت حکمت اور بصیرت کے ساتھ بیان کیا
گیا ہے تاکہ انسان ان سے نصیحت حاصل کرے اور اپنی زندگی کو درست راستے پر ڈالے۔
انہی ایمان افروز واقعات میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ایک خاص اہمیت رکھتا
ہے۔ آپ اللہ کے برگزیدہ نبی تھے جنہیں اپنی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا، مگر جب
قوم نے نافرمانی کی تو آپ ان سے ناراض ہو کر بستی چھوڑ گئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ
نے آپ کو ایک عظیم امتحان میں مبتلا فرمایا، جہاں مچھلی کے پیٹ میں رہتے ہوئے آپ
نے عاجزی کے ساتھ اللہ سے رجوع کیا۔ آپ کی دعا اور توبہ کو قبول کرتے ہوئے اللہ
تعالیٰ نے آپ کو نجات عطا فرمائی۔ یہ واقعہ ہمیں صبر، توبہ، اور اللہ تعالیٰ پر
کامل بھروسے کا درس دیتا ہے، اور یہی پیغام قرآنِ مجید ہر دور کے انسان تک پہنچانا
چاہتا ہے۔
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء:87)
تفسیر صراط الجنان:وَ ذَا
النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔ یہاں سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت
مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا
کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض
اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا،
وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے
پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے
سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی
قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت
الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
مقبول دعائیہ کلمات: حضرت سعدرَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ
نے ارشاد فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی
مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵
/ ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)
حضرت سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم نبی کریم ﷺ کے قریب
بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا ’’کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں خبر
نہ دوں کہ جب تم میں سے کسی شخص پر کوئی مصیبت یا دنیا کی بلاؤں میں سے کوئی بلا
نازل ہو اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو ا س کی مصیبت و بلا دور ہوجائے۔ آپ ﷺ سےعرض کی گئی :کیوں نہیں !ارشاد فرمایا ’’(وہ
چیز) حضرت یونس کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے۔(مستدرک،کتاب
الدعاء والتکبیر والتہلیل۔۔۔الخ، من دعا بدعوۃ ذی النون استجاب اللہ لہ،۲ / ۱۸۳،الحدیث:۱۹۰۷)
حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے ،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
’’جو مسلمان اپنی بیماری کی حالت میں چالیس مرتبہ’’لَاۤ اِلٰهَ
اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ
مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ کے ساتھ دعا مانگے ، پھر وہ اس مرض میں فوت ہوجائے تواسے شہید کا اجر دیا
جائے اور اگر تندرست ہوگیا تو اس کے تمام گناہ بخشے جا چکے ہوں گے۔( مستدرک ، کتاب
الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ ، ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔
الخ ، ۲ / ۱۸۳ ، الحدیث: ۱۹۰۸)
فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَعَلَیْهِ:تواس نے گمان کیا کہ ہم
اس پر تنگی نہ کریں گے۔امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں ’’ جس شخص نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ عاجز ہے وہ کافر ہے، اور یہ ایسی
بات ہے کہ کسی عام مومن کی طرف بھی اس کی نسبت کرنا جائز نہیں تو انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف یہ بات منسوب کرنا کس طرح جائز ہو گا (کہ وہ اللہ
تعالیٰ کو عاجز گمان کرتے ہیں ۔ لہٰذا اس آیت کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں پکڑنے پر
قادر نہیں بلکہ ) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ’’حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر تنگی نہیں فرمائے گا۔( تفسیرکبیر، الانبیاء،
تحت الآیۃ: ۸۷، ۸
/ ۱۸۰)
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ کے علاوہ دیگر معتبر مفسرین نے بھی اس آیت کا یہ معنی بیان کیا ہے ،اعلیٰ
حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی اسی معنی کو اختیار
کیا ہے اور ہم نے بھی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور دیگر معتبر
مفسرین کی پیروی کرتے ہوئے اس آیت میں لفظ ’’لَنْ نَّقْدِرَ‘‘کا
ترجمہ’’ ہم تنگی نہ کریں گے‘‘کیا ہے۔
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔(سورۃ الانبیاء:88)
تفسیر صراط الجنان:فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗ:تو ہم نے اس کی پکار سن لی۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پکار سن لی اور اسے تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی
اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریا
کے کنارے پر پہنچا دیا اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی مصیبتوں اور تکلیفوں سے نجات
دیتے ہیں جب وہ ہم سے فریاد کریں اور دعا کریں۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۷۲۵، ابو
سعود، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۵۳۳، ملتقطاً)
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
دعامسلمانوں کے لیے بھی ہے:حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’کیا میں تمہاری اللہ تعالیٰ کے اس اسمِ اعظم کی طرف
رہنمائی نہ کروں جس کے ساتھ جب بھی دعاکی جائے تو وہ قبول ہوجائے اورجب سوال کیاجائے
توعطاہوجائے، وہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے جو انہوں نے اندھیروں میں تین
بار کی تھی ۔ایک شخص نے عرض کی: یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ خاص تھی
یاتمام مسلمانوں کے لیے ہے ؟ آپ ﷺ نے
ارشادفرمایا’’ کیاتم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادنہیں سنا’’وَ
نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘اور اسے
غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں۔(مستدرک ، کتاب
الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ ، ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔
الخ ، ۲ / ۱۸۳ ، الحدیث: ۱۹۰۸)
مراد یہ ہے کہ یہ دعا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لیے
خاص نہیں مسلمانوں کے لیے بھی ہے، جب وہ ان الفاظ کے ساتھ دعامانگیں گے تو ان کی
دعا بھی قبول ہو گی۔
حضرت یونس
علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو ہر حال میں صبر اور اللہ
تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اگر کبھی غلطی ہو جائے تو فوراً سچی توبہ کر کے
اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ وہ نہایت مہربان اور بخشنے والا ہے۔ مشکل سے
مشکل حالات میں بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ اخلاص کے ساتھ دعا کرنی چاہیے، یقیناً
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہر پریشانی سے نجات عطا فرماتا ہے۔
Dawateislami