اللہ تبارک
وتعالی نے قوم کی ہدایت کیلئے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے ان پیغمبروں
میں سے ایک حضرت یونس علیہ السلام ہیں آپ علیہ الصلوۃ و السلام کا نام یونس بن متٰی
ہے، آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور آپ علیہ
السلام کا لقب ذوالنون اور صاحب الحوت ہے، جن کو اللہ تبارک وتعالی نے بستی نیْنوٰی
کی ہدایت کیلئے بھیجا جو موصل کے علاقے میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی آپ علیہ
الصلوۃ و السلام نے چالیس سال ان لوگون کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالی کی
وحدانیت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور
اپنے شرک سے باز نہ آئے تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے انہیں تین دن
کے بعد عذاب آجانے کی خبر دی۔
اللہ
تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَ اِنَّ یُوْنُسَ
لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ (صافات:139،140)
اِذْ اَبَقَ: جب وہ نکل گیا۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم
کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے
گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو
قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ
الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا
کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ
السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا
تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔(تفسیر
صراط الجنان)
علامہ
احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب
عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا
کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا
دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی
نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید
کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے
لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات،
تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۵
/ ۱۷۵۲، ملخصاً)
اللہ پاک نے ایک اور جگہ
ارشاد فرمایا:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃالانبیاء:87)
اس آیت کے
تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے:حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے
روایت ہے ،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
’’جو مسلمان اپنی بیماری کی حالت میں چالیس مرتبہ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ کے ساتھ دعا مانگے ، پھر وہ اس
مرض میں فوت ہوجائے تواسے شہید کا اجر دیا جائے اور اگر تندرست ہوگیا تو اس کے
تمام گناہ بخشے جا چکے ہوں گے۔( مستدرک ، کتاب الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ
، ۲ / ۱۸۳ ، الحدیث:
۱۹۰۸)
اس سے پتہ
چلا کہ حضرت یونس علیہ السلام اللہ عزوجل کے نبی تھے اللہ عزوجل اپنے نبیوں کی
حفاظت خود فرماتا ہے جس قوم نے ان کی نافرمانی کی اللہ عزوجل نے ان کو عذاب میں
مبتلا کردیا۔
اس سے یہ
بھی پتہ چلا کہ جو بھی بیماری میں مبتلا ہے تو اس کو چالیس مرتبہ چالیس مرتبہ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ کے ساتھ دعا مانگے اس کی بھی فضیلت
ہمیں معلوم ہوئی۔
Dawateislami