محمد
حسنین حیدر(درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم،کراچی ،پاکستان)
حضرت یونس
کا تعارف:آپ کا نام یونس بن متی ہے جبکہ آپ کا لقب صاحب الحوت اور ذوالنون ہے۔ آپ
علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بستی نینوٰی کے نبی ہیں جو موصل کے علاقے میں
دریائے دجلہ کے کنارے پر واقع ہے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو چالیس برس تک
بتوں کی عبادت چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور شرک
سے باز نہ آئے۔ تب آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قوم والوں کو عذاب کی خبر دی اور
خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے۔ قوم نے علاماتِ عذاب کا مشاہدہ کیا اور اللہ کی
بارگاہ میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔
حضرت یونس علیہ السلام کے واقعات کے
قرآنی مقامات:
حضرت یونس
کا اجمالی ذکرِ خیر سورۃ النساء آیت نمبر 163 اور سورۃالانعام آیت نمبر 86 میں ہے ۔
جبکہ تفصیلی
ذکر درج ذیل 4 سورتوں میں ہے:
(1): سورۃ یونس آیت نمبر 98
(2): سورۃ الانبیاء آیت نمبر 87، 88
(3): سورۃالصافات آیت نمبر 139 تا 148
(4): سورۃ القلم آیت نمبر 48 تا 50
اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے:فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس : 98)
اللہ پاک
ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو قرعہ
ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(صافات:139تا
142)
اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے:وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (انبیاء:87)
اللہ پاک ارشادفرماتا
ہے:فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶) وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: ۔ پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔اور ہم نے اس پر
کدو کا پیڑ اگایا۔ اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ۔ (صافات:145تا 147)
Dawateislami