انبیاء
کرام علیہم السلام وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے مخلوق کی طرف اپنی
وحی کا امین بنا کر بھیجا اور انہیں اعلی صفات سے متصف فرمایا اور ہر قسم کے عیوب
و نقائص سے محفوظ فرما کر ان کی زندگی کو جن و انس کے لیے نمونہ بنایا اور ان میں
سے کچھ وہ انبیاء کرام علیہ السلام ہیں جن کا ذکر رب تعالی نے قران عظیم میں بھی
فرمایا انہیں ہی میں سے حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں آئیے آپ علیہم السلام کا قرآنی
ذکر پڑھتےہیں :
(1)انعامات الہی:اللہ تعالی
نے حضرت یونس علیہ السلام پر بہت سے انعامات فرمائے انہی انعامات میں سے آپ علیہ
الصلوۃ والسلام کی دعا کو قبول فرمانا بھی ہے چنانچہ ارشاد فرمایا: ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان
والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (پارہ 17 ،سورۃ الانبیاء ،آیت نمبر 88)
(2)کثرت ذکر الہی :حضرت یونس
علیہ السلام جب مچھلی کے پیٹ میں تھے تو کثرت سے اللہ پاک کا ذکر کرتے تھے تو اللہ
تعالی نے اسی صفت کوقرآن میں بیان فرمایا ؛ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے
پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ ( پارہ 23،
سورۃ صافّات ،آیت نمبر 143اور 144)
(4)مچھلی کے پیٹ سے نجات :اللہ تعالی
نے آپ علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نکال کر میدان میں ڈال دیا اسی کو اللہ تعالی
نے ارشاد فرمایا: ترجمہ کنز العرفان : پھر ہم نے
اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔( پارہ
23، سورۃ صافّات ، آیت نمبر 145)
( 5)قوم یونس کی توبہ:یونس علیہ
السلام کی قوم نے اللہ تعالی سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعا کی تو پروردگار عالم
نے ان پر رحم کیا اور دعا قبول فرماکران سے عذاب کو اٹھا لیا چناچہ فرمایا :
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا
ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی
میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ ( پارہ 11 ،سورۃیونس،آیت
نمبر 98)
(6)قدرتی غذا کا انتظام:جب آپ علیہ
السلام مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے تو کافی کمزور ہوگئے تو رب تعالٰی نے غذا کا
انتظام فرمایااور کدو کا پیڑاگایا چنانچہ فرمایا: ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس
پرکدو کا پیڑ اگادیا۔ (پارہ 23 ،سورۃ صافّات ،آیت نمبر 146)
Dawateislami