قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم اور مقدس کتاب ہے جو انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل کی گئی۔ اس میں بیان کیے گئے انبیاء کرام کے واقعات محض قصے کہانیاں نہیں بلکہ عبرت، نصیحت اور ہدایت کا خزانہ ہیں۔ انہی روشن اور سبق آموز واقعات میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، جو صبر، توبہ، عاجزی اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کی لازوال مثال پیش کرتا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے تھے، جنہیں نینوی کی قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا گیا۔ نینوی ایک قدیم اور مشہور بستی تھی، جس کے لوگ بت پرستی اور گمراہی میں مبتلا تھے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے نہایت خلوص اور محبت کے ساتھ انہیں اللہ کی وحدانیت کی طرف بلایا اور برائیوں سے روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنی سرکشی اور ضد پر قائم رہے۔جب قوم نے مسلسل انکار کیا تو حضرت یونس علیہ السلام دل برداشتہ ہو کر اللہ کے حکم کا انتظار کیے بغیر وہاں سے روانہ ہو گئے۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ فرمائی۔ آپ ایک کشتی میں سوار ہوئے، مگر سمندر میں سخت طوفان آ گیا۔ کشتی کے مسافروں نے جان بچانے کے لیے قرعہ اندازی کی، اور تین مرتبہ قرعہ حضرت یونس علیہ السلام کے نام کا نکلا۔ چنانچہ آپ سمندر میں کود گئے۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا، مگر یہ اللہ کی قدرت تھی کہ آپ اس کے پیٹ میں زندہ اور محفوظ رہے۔ وہاں تین اندھیرے تھے: رات کا اندھیرا، سمندر کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔ اس ہولناک اور کٹھن حالت میں بھی حضرت یونس علیہ السلام نے مایوسی کا دامن نہیں تھاما بلکہ نہایت عاجزی اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارا:

’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘یہ دعا دراصل بندگی، عاجزی اور توبہ کا کامل نمونہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی فریاد سن لی اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ساحل پر اُگل دے۔ اس طرح حضرت یونس علیہ السلام کو نئی زندگی عطا ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت فرمائی، ان کی کمزوری دور کی اور دوبارہ ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ اس بار ان کی قوم نے سچی توبہ کی اور ایمان لے آئی، یوں وہ عذاب سے بچ گئی۔

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ مجید میں انسان کے لیے بے شمار اسباق چھوڑتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ وہ ہر حال میں اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ یہ واقعہ ہمیں توبہ کی اہمیت، صبر کی ضرورت اور اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسے کا درس دیتا ہے۔ نیز یہ بھی واضح کرتا ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی دعا انسان کا سب سے بڑا سہارا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے جو ہر دور کے انسان کو امید، صبر اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہم اس واقعے سے سچے دل سے سبق حاصل کریں تو ہماری زندگی سنور سکتی ہے اور ہم کامیابی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔