دوسروں کے معاملات میں بےجا مداخلت ایک انتہائی نا پسندیدہ عمل ہے جو سماجی اور معاشرتی طور پر بہت نقصان دہ ہے دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنے سے انسان کو بسااوقات بہت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لوگوں کی مذمت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جو ذہنی بے سکونی اور بے چینی کا سامنا کرواتی ہے۔

دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنے کا ایک سبب ان کے معاملات میں غیر ضروری دلچسپی ہے انکے پوشیدہ باتوں کو جاننے کی دلچسپی ہے قرآن کریم میں اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا (پ 26، الحجرات: 12) ترجمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور عیب نہ ڈھونڈو۔

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو اور ان کے پوشیدہ حال کی جستجو میں نہ رہو جسے اللہ نے اپنی ستاری سے چھپایا ہے۔

اس آیت مبارکہ میں لوگوں کے معاملات میں تجسس اور بے جا مداخلت سے منع کیا گیا ہے اسی طرح لوگوں کے معاملات میں دخل اندازی کا سبب حسد بوریت وغیرہ بھی ہے جس سے مسلمانوں کو بچنے کی کوشش کرنی چاہیے لوگوں کے معاملات میں مداخلت کرنے سے رشتے اور دوستیاں کمزور پڑ جاتی ہیں بدگمانیاں بھڑ جاتی ہیں جبکہ اچھا گمان کرنا بھی نیکی ہے لہذا خود کو اور لوگوں کو برے گمان سے بچائے دوسروں کے کام میں بے جا مداخلت کرنے والے کی توجہ صرف دوسروں پر رہتی ہیں انکے حالات پر رہتی ہیں اور اپنے کاموں پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے اسکے بہت سے کام خراب ہو جاتے ہیں اور کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے الغرض لوگوں کے کاموں میں مداخلت سے بچا جائے کہ یہ ایک ممنوع کام ہے اور قرآن کریم میں بھی اس سے منع فرمایا گیا ہے۔

اللہ کریم ہمیں اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔