دوسروں کے کام میں مداخلت مت کیجئے از بنت
جاوید آصف، تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
دوسروں کے کام
میں مداخلت (دخل اندازی) سے بچنا انتہائی اہم اخلاقی اصول ہے۔ اسلام اور بزرگانِ
دین نے ہمیشہ اس بات کی تلقین کی ہے کہ انسان کو اپنی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے
اور بلاوجہ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ نہیں اڑانی چاہیے۔
نقصانات:
باہمی
اعتماد کا خاتمہ: مسلسل
دخل اندازی سے دوسرے شخص کو لگتا ہے کہ آپ اس کی صلاحیتوں پر شک کر رہے ہیں، جس سے
رشتے میں دراڑ آ جاتی ہے۔
ذہنی
دباؤ اور تناؤ: جب
آپ ہر وقت دوسروں کے کاموں پر نظر رکھیں گے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی
کوشش کریں گے، تو لامحالہ آپ خود بھی مستقل ذہنی تناؤ کا شکار رہیں گے۔
صلاحیتوں
میں کمی: اگر
آپ ہر کام خود سنبھالنے کی کوشش کریں گے تو دوسرے افراد کی اپنی صلاحیتیں نکھر کر
سامنے نہیں آتیں اور وہ کبھی خود مختار نہیں بن پاتے۔
وقت
کا ضیاع: اپنی
بنیادی ذمہ داریوں پر توجہ دینے کے بجائے دوسروں کے کاموں میں الجھنے سے آپ کا
قیمتی وقت برباد ہوتا ہے۔معاشرتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بہتری لانے کے لیے اس
عادت سے بچنا نہایت ضروری ہے۔
حقیقی
مسلمان کی پہچان: حدیثِ
مبارکہ کے مطابق انسان کے اچھے مسلمان ہونے کی یہ نشانی ہے کہ وہ لایعنی (فضول اور
غیر متعلقہ) باتوں کو چھوڑ دے۔ (ترمذی، 4/ 142، حدیث:2324)
حقِ
تلفی اور گناہ: کسی
کے ذاتی کام یا ذمہ داریوں میں دخل دینا، عیب جوئی کرنا یا بلااجازت مشورے دینا
ناپسندیدہ اور حق تلفی کے زمرے میں آتا ہے۔
مداخلت
نہ کرنے کے فائدے:
اعتماد
میں اضافہ: جب
آپ لوگوں کو ان کا کام خود کرنے دیتے ہیں، تو ان کی صلاحیتوں اور اعتماد میں اضافہ
ہوتا ہے۔
تناؤ
میں کمی: دوسروں
کے کام میں ٹانگ اڑانے سے پیدا ہونے والی غیر ضروری بحث اور کشیدگی سے بچاؤ ممکن
ہوتا ہے۔
وقت
کی بچت: آپ
اپنا قیمتی وقت اپنے اہداف اور ذاتی ترقی پر صرف کر سکتے ہیں۔
حدیث ِ مبارک
میں ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو (اپنے)شر سے محفوظ رکھو، یہ ایک صدَقہ ہے جو تم
اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری،2/150، حدیث:2518)
ایک دوسری
روایت میں ہے کہ سرکارِدو عالم ﷺ نے صحابۂ کرام سے سوال کیا: کیا تم جانتے ہو کہ
مسلمان کون ہے؟ انہوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد
فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے(دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد
فرمایا: تم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟ صحابۂ کرام نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس
کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانیں
اور اموال محفوظ سمجھیں۔ (مسند امام احمد، 2/654، حدیث:6942)
اس سے ثابت
ہوتا ہے کہ دوسروں کے کام میں مداخلت سے معاشرے میں بہت سے غلط نتائج نکلتے ہیں اور
اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ عمل ہے لہذا ہمیں اس سے بچنے کی
ضرورت ہے۔
Dawateislami