اسلام ہمیں اچھے اخلاق حسن معاشرہ اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے انہی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ بلا ضرورت دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے ہر شخص کی اپنی نجی زندگی اور ذاتی معاملات ہوتے ہیں جن کا احترام کرنا ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے بلا وجہ کسی کے معاملات میں دخل اندازی کرنا اکثر غلط فہمیوں جھگڑوں اور دل آزاری کا سبب بنتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی کے اسلام کے حسن میں سے ہے کہ وہ ایسی بات چھوڑ دے جو اس کے متعلق نہ ہو۔(ترمذی، 4/ 142، حدیث:2324)

امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری اپنی کتب و رسائل اور اپنے ملفوظات میں اپنی اصلاح کی فکر کرنے اور دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے سے بچنے کی ترغیب دیتے ہیں جب انسان اپنی صلاح میں مصروف رہتا ہے تو اس کے پاس دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنے کا وقت نہیں رہتا اور معاشرے میں محبت امن اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔

اگر کسی مسلمان سے کوئی غلطی سرزد ہو رہی ہو تو اس کی اصلاح نرمی حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ کرنی چاہیے نہ کہ تجسس غیبت یا بیجا مداخلت کے ذریعے۔

اللہ پاک نے ہمیں دوسروں کے عیب تلاش کرنے اور بدگمانی سے بچنے کی تعلیم دی ہے اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کی عزت پردہ پوشی اور رازداری کا خیال رکھے۔

آئیے ہم عہد کریں کہ بلاوجہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں گے اور نیکی محبت اور حسن اخلاق کو عام کریں گے۔