قران پاک کی سورۃ
الحجرات میں اللہ پاک کا ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا
كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا (پ 26،
الحجرات: 12) ترجمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے
ہیں، اور عیب نہ ڈھونڈو۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دوسروں کے معاملات کی ٹوہ میں
لگنا، ان کی زندگی میں جھانکنا اور بلا وجہ دخل دینا منع ہے۔
احادیث
مبارکہ کی روشنی میں:
آقا جان ﷺ نے
فرمایا کہ آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ بےفائدہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ (ترمذی،
4/ 142، حدیث:2324) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس چیز سے
ہمارا کوئی تعلق ہی نہیں ہے تو اس میں الجھنا بھی بالکل بے فائدہ ہے۔
لہذا انسان کو
چاہیے کہ وہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنے کے بجائے اللہ نے جو اس پر فرائض
مقرر کیے ہیں جس مقصد کے لیے وہ دنیا میں آیا ہے اس کی طرف اپنا دھیان دے۔ اگر وہ
دوسروں کے عیب کی تلاش میں لگا رہے گا تو اللہ پاک اس کے عیب ظاہر کر دے گا۔اس لیے
اس کے لیے بہترین یہی ہے کہ وہ دوسروں کے کام میں مداخلت سے بچے۔
اسلام ہمیں سکھاتا
ہے کہ ہم دوسروں کے کام میں مداخلت کرنے سے بچیں۔کیونکہ اس کے بہت سارے نقصانات
ہوتے ہیں۔اگر ہم کسی کے کام میں مداخلت کریں گے یعنی کسی کے عیب ظاہر کریں گے تو
اللہ پاک بروز قیامت ہمارا عیب ظاہر کرے گا۔انسان کو ہر وقت اپنے معاملے میں اللہ
پاک سے ڈرنا چاہیے نہ کہ دوسروں کے معاملے پر توجہ دے۔
انسان کو
چاہیے کہ وہ اپنے مقصد پر دھیان دے کہ جس مقصد کے لیے وہ اس دنیا میں آیا ہے اس
مقصد کو پورا کرے اگر وہ اپنے مقصد کی طرف دھیان دے گا تو دنیاوی لوگوں کے معاملات
میں مداخلت کرنے سے بچ سکتا ہے۔
ہم اہل سنت
ہیں تو ہمارا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم آقا ﷺ کی ہر ہر سنت پر عمل کرنے والے ہوں تو
آقا علیہ السلام کا طریقہ مبارک یہ ہے کہ آپ نے کبھی بھی بے فائدہ بات نہیں کی۔
دوسروں کے کام
میں مداخلت کرنے سے بچنے کے لیے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے دل میں خوف خدا
پیدا کرے کہ خوف خدا سے انسان دوسروں کے معاملے میں مداخلت کرنے سے بچتا ہے وہ ہر
اس کام سے پرہیز کرتا ہے جو بے فائدہ ہوتی ہے اور ہر اس کام کو پسند کرتا ہے جس
میں اللہ پاک کی مرضی ہو۔
Dawateislami