ایک مسلمان کی
شان یہ ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور بلا ضرورت دوسروں کے معاملات میں
مداخلت نہ کرے۔ بے جا مداخلت نہ صرف دل آزاری کا سبب بنتی ہے بلکہ گھروں، رشتوں
اور معاشرے میں اختلافات بھی پیدا کرتی ہے۔
قرآنِ کریم
میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا
مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا (پ 26،
الحجرات: 12) ترجمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے
ہیں، اور عیب نہ ڈھونڈو۔
اسی طرح ایک
اور مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ
الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ
اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب: 58) ترجمہ: اور جو
ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کیے ستاتے ہیں، انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ
اپنے سر لیا۔
رسولِ اکرم ﷺ
نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری،
1/11، حدیث:9)
حضرت ابوذر
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں کو اپنے شر سے
محفوظ رکھو، یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری، 3/ 144، حدیث: 2518)
قرآنِ کریم
اور احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام دوسروں کے معاملات میں بے جا مداخلت
اور انہیں تکلیف پہنچانے سے منع فرماتا ہے۔ بے جا مداخلت بھی دوسروں کو اذیت
پہنچانے کی ایک صورت ہے۔ دوسروں کو تکلیف دینا ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے
والا کام ہے۔ آج سوشل میڈیا نے بھی بے جا مداخلت کو آسان بنا دیا ہے۔ بغیر تحقیق
تبصرے کرنا، دوسروں کی نجی زندگی پر رائے دینا، ہر خبر کو آگے پھیلانا اور لوگوں
کی کمزوریاں تلاش کرنا ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔ ہمیں اپنی زبان، قلم اور
سوشل میڈیا کے استعمال میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔
Dawateislami