انسان کی فطری خواہشات میں سے ہے کہ اس کی بات کو اہمیت دی جائے اور توجہ کے ساتھ سنا جائے گفتگو میں مخاطب کو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے جیسا کہ حضرت لقمان حکیم کی اپنے بیٹے کو کی جانے والی نصیحت اللہ پاک نے قرآن کریم میں سورہ لقمان آیت نمبر 18 میں بیان فرمائی ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

لوگوں کو حقیر جاننا، ان سے منہ موڑنا، انہیں نظرانداز کرکے ان کی تذلیل کرنا اسلام کی تعلیمات نہیں بلکہ ہمارا دین تو بہت پیارا دین ہے جو ہمیں احترام مسلم سکھاتا اور ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی عزت کا محافظ بناتا ہے، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ اللہ کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا: مسلمان کی سب چیزیں مسلمان پر حرام ہیں؛ اس کا مال اور اس کی آبرو اور اس کا خون، آدمی کو برائی سے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ (ابو داود، 4/354، حدیث: 4882)

نیز ایک اور حدیث مبارکہ میں فرمایا: مومن اللہ کے نزدیک فرشتوں سے زیادہ عزت رکھتا ہے۔ (شعب الایمان، 1/174، حدیث: 152)

کسی کو نظر انداز کرنے کا سبب تکبر بھی ہو سکتا ہے نیز اس کی ایک سب سے بڑی وجہ وہ خودپسندی ہے، چنانچہ متکبرین کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) 14، النحل: 23) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔

اسی طرح فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے: اللہ پاک متکبرین (یعنی مغروروں) کو اور اترا کر چلنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (کنز العمال، 3/210، حدیث: 7727)

اسی طرح خودپسندی کی مذمّت پر ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْؕ-(پ 27، الحدید: 23) ترجمہ کنز العرفان: اور اس پر اتراؤ نہیں جو تمھیں اللہ نے دیا۔

نیز فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے: اگرچہ تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو لیکن مجھے تم پر گناہ سے بھی بڑے جرم کا خوف اور وہ عجب ہے، عجب یعنی خودپسندی۔ (احیاء العلوم، 3/453)

یہاں خود پسندی کا ایک علاج پیش خدمت ہے: خود پسندی اور تکبر انسان میں جسمانی خوبصورتی, مال و دولت، اعلی نسب، اور قوت و طاقت وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے انسان کو چاہیے کہ وہ اس بات میں غور و فکر کرے کہ اس میں اسکا اپنا کوئی کمال نہیں بلکہ اسے یہ نعمت اللہ پاک نے عطا فرمائی ہے اور اللہ پاک جب چاہے نعمت واپس لے لے وہ ہر چیز کا مالک ہے اپنی ملکیت میں جیسے چاہے تصرف فرمائے لہذا ہمیں اللہ پاک کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے ہمیں یہ نعمت عطا فرمائی پس جب انسان کے پیش نظر یہ بات ہوگی اس میں سے تکبر اور خودپسندی جاتی رہے گی اور احترام مسلم نصیب ہوگا۔ انشاء اللہ الکریم

کسی بھی تعلق یا گفتگو کی بنیاد احترام اور توجّہ پر قائم ہوتی ہے۔ جب آپ کسی سے بات کریں اور وہ آپ کی بات سنے، دیکھے اور آپ کو محسوس کرے تو اس سے دل میں قدر اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے زندگی کے ہر معاملے میں یہ اصول نہایت اہم ہے کہ مخاطب کو ہرگز نظر انداز نہ کیا جائے۔

‎‎نظر انداز کیا جانا انسان کے دل کو توڑ دیتا ہے۔ یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کی بات یا اس کی موجودگی کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گھر، اسکول، دفتر یا کسی بھی ماحول میں جہاں لوگوں سے میل جول ہوتا ہے، وہاں مخاطب کو پوری توجہ دینا خوش اخلاقی ہی نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ توجہ کے چند لمحے نہ صرف دوسرے کے دل کی تسلی بن جاتے ہیں بلکہ تعلقات میں نرمی، قربت اور اعتماد بھی پیدا کرتے ہیں۔

قرآن کریم میں ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

یہاں سے حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنا۔ (مدارک، ص 919- خازن، 3/471 ملتقطاً)

اسلامی تعلیمات بھی یہی سکھاتی ہیں کہ کسی کو نظر انداز کرنا تکبّر اور بے رخی کی علامت ہے، جبکہ لوگوں کو عزت دینا نیکی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا اخلاق تھا کہ جب کوئی بات کرتا تو آپ ﷺ پوری طرف متوجہ ہو کر سنتے، یہاں تک کہ جس طرف سے سوال کیا جاتا، آپ ﷺ اسی سمت رخ فرما لیتے۔ یہ اسوہ ہمیں بتاتا ہے کہ مخاطب کو اہمیت دینا محبت اور اخلاق کا تقاضا ہے۔

اگر کسی وقت مصروفیت یا مجبوری ہو تو بہتر ہے کہ نرمی سے مخاطب کو بتا دیا جائے کہ آپ اس کی بات پوری توجہ سے سننا چاہتے ہیں، مگر اس وقت موقع مناسب نہیں۔ اس طرح نہ دل ٹوٹتا ہے، نہ رشتہ خراب ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ اس بے اعتنائی کا ہے جو دلوں میں فاصلے پیدا کرتی ہے۔

آخر میں یاد رکھئے:آپ کی گفتگو، آپ کی سماعت، آپ کی توجہ یہ سب کسی کے دل کی قدر بن سکتے ہیں۔ لہٰذا ہر بات کرنے والے کو یہ احساس دیجئے کہ وہ اہم ہے، اس کی بات اہم ہے اور اس کی موجودگی قابل احترام ہے۔

انداز گفتگو کسی حد تک انسان کی چھپی ہوئی خوبیوں اور خامیوں کو ظاہر کر دیتا ہے لہٰذا کس سے، کس وقت اور کس انداز میں کیا گفتگو کرنی ہے ؟ یہ گر سیکھنے سے آتا ہے، انسان جب بولتا ہے تو کبھی کسی کے دل میں اتر جاتا ہے اور کبھی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے دل سے اتر جاتا ہے، اسی طرح مشاہدے کی بات ہے کہ متکلم بسا اوقات مخاطب کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے جس سے سامنے والے کی حوصلہ شکنی اور بہت دل آزاری ہوتی ہے اور مایوسی پیدا ہونے لگتی ہے، لہٰذا گفتگو کے آداب سیکھنا نہایت ضروری ہے کیوں کہ یقیناً روز مرہ زندگی میں ہمیں گفتگو کی نوبت در پیش ہوتی ہی ہے تو انداز گفتگو درست نہ ہونے کی وجہ سے نجانے روزانہ ہی کی بنیاد پر ہم کتنوں کی دل آزاریاں کر جاتے ہیں اور ہمیں علم تک نہیں ہوتا، قرآن کریم ہماری اسی طرف رہنمائی فرماتا ہے جیسا کے الله رب العزت ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

یہاں تکبر کی بنا پر رخسار ٹیڑھا کرنے کی طرف اشارہ ہے، لہٰذا انسان چاہے امیر ہو یا غریب، کم عہدے والا ہو یا بڑے عہدے پر فائز ہو، یا پھر اعلیٰ نسب کا مالک ہی کیوں نہ ہو ہر کسی کو دوران گفتگو اپنا انداز گفتگو محبت والا رکھنا چاہیے خاص طور پر مذہبی لوگوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ محبتوں کی فضا قائم ہو اور لوگ دین کے قریب ہوں ڈانٹ ڈپٹ کرنے، جھڑکنے یا نظر انداز کرنے سے لوگ بیزار ہوتے اور دین سے دور ہوتے ہیں لہٰذا ہمیں چاہئے کے مخاطب کو نظر انداز مت کریں اور مکمل توجہ دیں اور الفاظ کے بہترین چناؤ کے ساتھ گفتگو کریں تاکہ ہم بیزاریوں، نفرتوں، بغض و کینہ سے بچتے ہوئے دین اسلام کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں کامیاب ہو جائیں۔

الله کریم سے دعا ہے ہمیں سیرت سرور کونین ﷺ کی چلتی پھرتی تصویر بنائے آقا ﷺ کے اخلاق کریمانہ سے حصہ عطا فرمائے۔ آمین

ہمارا اسلام اتنا پیارا دین ہے کہ ہمیں ہر طرح کی تعلیم دیتا ہے چاہے اسکا تعلق دنیا سے ہو یا آخرت سے اور ہمارے دین نے ہمیں ہر ایک کے ساتھ اچھے برتاؤ کی ترغیب دلائی ہے یاد رکھیں۔ کہ انسان کی فطری خواہشوں میں سے ایک خواہش ہے کہ اسکی بات کو اہمیت دی جائے توجہ سے سنا جائے اور گفتگو میں مخاطب کو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے ہمارے پیارے اللہ پاک نے ہمیں قرآن پاک میں حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی اپنے بیٹوں کو دی جانے والی نصیحت کو ذکر فرما کر ایک مقام پر فرمایا: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

یہ آیت حضرت القمان کی نصیحت کے متعلق جو انہوں جو انہوں نے اپنے بیٹوں سے فرمائی۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے جب آدمی سے بات کرے تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیر نے والا طریقہ اختیار نہ کر بلکہ مالدار فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی وانکساری کے ساتھ پیش آنا۔ بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے ولا کوئی بھی شخص الله پاک کو پسند نہیں۔

نظر انداز کرنے کی مثالیں: کسی کی بات توجہ سے نہ سننا۔ اچھے کام پر سراہنے کی بجائے حوصلہ شکنی کرنا۔ کسی کا درست مشورہ قبول نہ کرنا۔ اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر جانتا۔ مخاطب اگر غریب یا کم درجہ والا ہو اسکی بات کو نظر انداز کرنا۔

نظر انداز کرنے کی وجہ: نظر انداز کرنے کی سب سے بڑی وجہ خود پسندی ہے۔ اسی طرح اگر انسان میں حسد،تکبر وغیرہ بیماریاں ہیں تو بھی وہ دوسروں کی بات کو نظر انداز کرتا ہے۔

ان سب باتوں سے پتا چلتا ہے کہ لوگوں سے بات کرتے ہوئے منہ ٹیڑھا نہ کرے۔ بات کرتے ہوئے ہمارا انداز خوبصورت ہونا چاہیے کہ مسلمان کا اخلاق جتنا اچھا ہو گا لوگ اسکے اتنے ہی قریب آیئنگے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے لہجوں میں حسن پیدا کریں، محبت پیدا کریں، محبت کو فروغ دیں۔

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مومن کو بااخلاق ہونا چاہیے اور یہ چیز اخلاق میں شامل ہے کہ سامنے والے کی بات کو اہمیت دی جائے توجہ سے سنی جائے۔

کسی سے بات کرتے وقت اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور نہ اس سے رخ پھیرنا چاہیے۔ اسی بات کا ذکر قرآن پاک میں ہے، اللہ پاک فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس مبارک آیت کے تحت فرماتے ہیں: جب آدمی بات کریں تو انہیں (یعنی جس سے بات کر رہے ہیں ان کو) حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیرنا، جیسا متکبرین (یعنی مغروروں کا طریقہ ہے) اختیار نہ کرنا، غنی و فقیر (یعنی امیر و غریب) سب کے ساتھ بتواضع (یعنی عاجزی) سے پیش آنا چاہیے۔ (خزائن العرفان، ص 761)

حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام و کلام اور ملاقات کے وقت بطور تواضع یعنی عاجزی سے اپنا پورا چہرہ لوگوں کے سامنے لائیے، ان سے چہرہ نہ ہٹائیے اور نہ کچھ حصہ چھپائیے۔

فخر و اختیال میں فرق: یاد رہے کہ اندرونی عظمت پر اکڑنا فخر ہے جیسے علم، حسن، خوش، آوازی، نسب، وعظ وغیرہ اور بیرونی عظمت پر اکڑنا اختیال کہلاتا ہے۔ جیسے مال، جائیداد، لشکر، نوکر چاکر وغیرہ مراد یہ ہے کہ نہ ذاتی کمال پر فخر کرو نہ بیرونی کمال پر اتراو کیونکہ یہ چیزیں تمہاری اپنی نہیں رب کی عطا سے ملی ہے۔

کسی شخص کو حقیر نہ جائیں: اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جانتا چاہیے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تو اس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہیے اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہیے، غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز رکھنا جس سے حقارت کا پہلو نمایاں ہو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا، سب تکبر کی علامات ہے ان سے بچنا چاہیے۔

حدیث پاک میں ہے: ایک دوسرے سے بعض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور سب اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جائےاور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ (بخاری، 4/117، حدیث: 6065)

سرور عالم ﷺ کا کریمانہ انداز: سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ حضور مسجد میں تشریف فرما ہوتے تو اپنے دربار میں سب سے پہلے حاجت مندوں کی طرف توجہ فرماتے اور قبائل کے نمائندوں سے ملاقاتیں فرماتے سرکار علیہ السلام کی بارگاہ میں امیر غریب سب برابر تھے کوئی شخص اگر بولتا خواہ وہ غریب ہوتا تو اسکی بات کاٹ کے دوسرے کی طرف توجہ نہ فرماتے، ہر وفد آپکیﷺ بارگاہ میں حاضر ہوتا اور آپﷺ سے ملاقات کرتا، اپنی حاجت پیش۔ کرتا حضور انور ﷺ اسے بغور سنتے اور انکی تربیت فرماتے اور انکے درجات کے مطابق تحائف عطا فرماتے۔

کسی کو نظر انداز کرنے کے چند اسباب: خودپسندی، تکبر، دوسروں کو حقیر جاننا، حسد، کینہ، بغض۔

ایک مدنی پھول: جب تک دوسرا بات کر رہا ہو، ادھر ادھر دیکھے بغیر اس کی طرف متوجہ ہو کر اطمینان سے سننا چاہیے، بیچ میں بولنا بھی نہیں چاہیے کہ بیچ میں بات کا ٹنا خلاف ادب ہے۔

سرکار ﷺ کسی کی بات کو نہ کاٹتے البتہ اگر کوئی حد سے تجاوز کرنے لگتا تو اسے روک دیتے یا وہاں سے اٹھ جاتے۔ (شمائل ترمذی، ص 200 ملخصاً)

اللہ پاک سب مسلمانوں کو ان مذموم افعال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


حضرت لقمان رحمہ الله نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں فرمائیں قرآن مجید میں سورۂ لقمان میں اس کا ذکر آیا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ الله پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں کچھ یوں ہے: یہاں سے حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ (مدارک، ص 919- خازن، 3/471 ملتقطا)

یہاں آیت میں رخسار ٹیڑھا کرنے سے مراد یہ ہے کہ آدمی جب کسی سے بات کرے تو متکبر کی طرح دوسرے کو اپنے سے کم تر جان کر ان سے منہ پھیر کر بات کرنے والا طریقہ اختیار نہ کرے،بلکہ امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ عاجزی کے ساتھ ہی سے پیش آئے۔

اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو بھی اپنے سے کمتر نہیں جاننا چاہیے، چاہے امیر ہو یا غریب جس سے بھی ملاقات ہو اس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہیے اور سب کے ساتھ ہی اچھے انداز سے بات کرنی چاہیے کیونکہ غریب لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا یہ تکبر کی علامت ہے اورتکبر کی قرآن و حدیث میں مذمت آئی ہے، اللہ پاک کو تکبر کرنے والے پسند نہیں۔

لوگوں کو اپنے سے کمتر جان کر ان سے برا سلوک کرنا بات کرتے وقت ایسا رویہ اختیار کرنا جس سے سامنے والے کے کمتر ہونے کا گمان ہو یہ تکبر کی علامات ہیں، تکبر کا مطلب ہی یہ ہے کہ خود کو دوسروں سے افضل جانا جائے اور تکبر کی ایک قسم بندوں کے مقابلے میں تکبر بھی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ بندوں میں سے اپنے آپ کو سب سے بہتر جانے اور باقی سب کو اپنے سے حقیر جانے۔ تکبر کی یہ صورت بھی حرام ہے۔

آج کل تکبر کا مرض عام ہوتا جا رہا ہے ہر کوئی خود کو دوسروں سے افضل سمجھتا ہے اور خود کو دوسروں سے بڑا سمجھنے لگ گیا ہے یہاں تک کہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی عزت نفس کا خیال بھی نہیں رہتا بعض اوقات یہ تکبر طاقت و قوت کے سبب ہوتا ہے اور کہیں مال و دولت تکبر کا سبب بنتا ہے جس کی وجہ سے بندہ اپنے سے کم مرتبہ شخص سے بات کرنے کو اچھا نہیں سمجھتا ان کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا اور انہیں نظر انداز کرتا ہے۔

تکبر کی مذمت پر حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہوگی، انہیں جہنم کے بولس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی، انہیں طینۃ الخبّال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 276، 277)

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتاہے: اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) 14، النحل: 23) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔

نظر انداز کرنے کی مثالیں:

توجہ سے بات نہ سننا: نظر انداز کرنے کی ایک وجہ مرتبے میں خود کا بڑا ہونا بھی ہے انسان خود کو دوسرے سے بہتر سمجھتا ہے اپنی رائے اور اپنی ہی بات کو زیادہ اہم سمجھتا ہے، اپنی طاقت و قوت پر غرور کرتے ہوئے بھی دوسروں کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا، یہ وجہ ہے کہ دوسروں کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا،ان سے بات کرنے کو اہم نہیں سمجھتا، خود کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے دوسروں کو نظر انداز کرتا ہے اور توجہ سے ان کی بات نہیں سنتا۔

اچھے کام پر حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی: دوسروں کو نظر انداز کرنے کی ایک صورت حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی بھی ہے کہ کسی کے کام پر اس کو حوصلہ بڑھانے کے بجائے اس کا حوصلہ توڑنا، اسے جھاڑنا،کوشش کی ہو پھر بھی کام میں غلطیاں نکالنا،منفی جملے کہنا، صرف اس کی خامیاں بیان کرنا، ایسے دل آزار جملے کہنا کہ جس سے سامنے والا ڈپریشن،نا امیدی،احساس کمتری اور ناکامی کا شکار ہو۔

اس کے علاوہ کوئی صحیح مشورہ دے اس کے مشورے کو قبول نہ کرنا بلکہ اس کا مذاق اڑانا، اسے نظروں سے گرانا، اسے ناپسند جاننا، بے پروائی کا مظاہرہ کرنا یہ سب نظر انداز کرنے کی مثالیں ہیں۔

وجوہات: دوستوں کو نظر انداز کرنے کی ایک بڑی وجہ خود پسندی بھی ہے کہ انسان خود پسندی کی وجہ سے بھی اس میں مبتلا ہوتا ہے، خود پسندی کے حوالے سے اللہ کے محبوب ﷺ کا فرمان ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادم ہونے والا اللہ کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خود پسند ی کرنے والا اللہ کی ناراضگی کا منتظر ہوتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 38)

لہذا ہمیں چاہیے کہ خود پسندی کے اسباب پر غور کریں اور خود کو ان سے بچانے کی کوشش کریں۔

خود پسندی کا ایک سبب طاقت و قوت کا ہونا بھی ہے انسان طاقت و قوت کے سبب خود پسندی مبتلا ہو جاتا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ سوچے کہ اگر اللہ پاک چاہے تو ایک آن میں ہماری طاقت و قوت واپس لے سکتا ہے لہذا اس پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔

اسی طرح اس کا ایک سبب مال کی زیادتی بھی ہے کہ انسان مال کی زیادتی کے سبب خود پسندی میں مبتلا ہوتا ہے اور خود کو دوسروں سے افضل جانتا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ مال کی آفات اور مذمت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مال کی لالچ سے بچے اور قناعت اختیار کرے نیز خود پسندی سے بچنے کی دعا بھی کرتا رہے۔

اگر کوئی ہمیں نظر انداز کرے تو ہمیں صبر کا دامن تھامے رہنا چاہیے اور اس کی وجوہات پہ غور کرنا چاہیے، اگر تو ہماری کسی غلطی کی وجہ سے وہ ہمیں نظر انداز کر رہا ہے تو ہمیں خود سے اس چیز کو دور کرنا چاہیے،بعض اوقات انسان مصروفیت کی وجہ سے بھی وقت نہیں دے پاتا لہذا مثبت ہی سوچنا چاہیے،اور نظر انداز کرنے کی وجہ تلاش کرنی چاہیے اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا بھی کرتے رہیں کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔

لیکن اگر پھر بھی کوئی آپ کو بلا وجہ نظر انداز کرے،تو پھر بھی اپنے ذہن کو برے خیالات سے بچائیے، اس کے ساتھ حسن سلوک کیجیے اور ساتھ ہی ساتھ اللہ پاک سے دعا کرتے رہیئے ان شاءاللہ الکریم آپ کو اس کا اجر خوب ملے گا۔

اللہ تعالی نے انسان کو زبان کی نعمت عطا فرمائی تاکہ وہ دوسروں سے بات چیت کر سکے اور ایک دوسرے کے دکھ درد سمجھ سکے اپنے جذبات کا اظہار کر سکے۔ گفتگو ایک ایسا ہنر ہے جو صرف الفاظ سے نہیں بلکہ توجہ، خلوص، احساس اور احترام سے مکمل ہوتا ہے۔ کسی بھی گفتگو میں مخاطب کو نظر انداز کرنا نہ صرف برے اخلاق کی علامت ہے بلکہ اس سے سامنے والے کی دل آزادی بھی ہوتی ہے۔

نظر انداز کرنے کا مطلب: مخاطب کو نظر انداز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آپ سے بات کر رہا ہو تو آپ اس کی بات کو توجہ سے سننے کے بجائے لا پروائی، بے تو وجہی یا بےاعتنائی کا مظاہرہ کریں اپنے رخسار کو ٹیڑھا کریں۔

مخاطب کو نظر انداز کرنے کی مثالیں: توجہ سے بات سننے کے بجائے اس کی طرف سے منہ موڑ لینا، درمیان میں بات کاٹ دینا، موبائل استعمال کرتے رہنا، بیزاری کا مظاہرہ کرنا، یا بات کا جواب نہ دینا، یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کی بات کی کوئی اہمیت نہیں۔

پارہ 21 سورۂ لقمان آیت نمبر 18 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی اس مبارک آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: جب آدمی بات کریں تو انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیرنا،جیسا متکبرین کا طریقہ ہے۔ (خزائن العرفان، ص 761)

حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ روح البیان میں لکھتے ہیں: متکبرین کی عادت ہوتی ہے کہ لوگوں کو ایسے ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقراء و مساکین کو غصے سے دیکھتے ہیں بلکہ تمہارے ہاں امیر و غریب دونوں اچھے سلوک کے معاملے میں برابر ہوں۔

عقلمند کون؟ حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے ایک دانشور کے بارے میں یہ سنا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ کوئی شخص بھی اپنی جہالت کا اقرار نہیں کرتا سوائے اس شخص کے کہ جب کوئی دوسرا بات کر رہا ہوتا ہے تو اس کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی بیچ میں اپنی بات شروع کر دیتا ہے سمجھدار آدمی اس وقت تک اپنی بات شروع نہیں کرتا جب تک دوسرے کی بات ختم نہ ہو جائے۔

ایک بات یاد رہے کہ دوسروں کی بات کاٹ کر اپنی بات شروع کر دینا اور نظر انداز کرنا اس کی بات کو توجہ نہ دینا اسلامی آداب گفتگو کے خلاف ہے مکتبۃ المدینہ کے رسالے احترام مسلم میں ہے کہ اللہ پاک کے پیارے نبی ﷺ کسی کے بات کو نہ کاٹتے البتہ اگر کوئی حد سے تجاوز کرنے لگتا تو اس کو منع فرماتے یا وہاں سے اٹھ جاتے۔(شمائل ترمذی، ص 200 ملخصاً)

احترام مسلم کا تقاضا یہ ہے کہ ہر حال میں ہر مسلمان کے تمام حقوق کا لحاظ رکھا جائے کسی بھی مسلمان کی دل شکنی نہ کی جائے دل شکنی کی وجہ سے دوبارہ انسان بات کرنے میں جھجک محسوس کرتا ہے ہمارے میٹھے میٹھے آقا ﷺ نے کبھی بھی کسی مسلمان کا دل نہ دکھایا نہ کسی پر طنز کیا،نہ کسی کو نظر انداز کیا،نہ کبھی کسی کا مذاق اڑایا،نہ کسی کو دھتکارا نہ کبھی کسی کی بےعزتی کی بلکہ ہر ایک کو سینے سے لگایا اس کی بات کو اہمیت دی ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی اقا علیہ الصلوۃ والسلام کی اس میٹھی میٹھی سنت پر عمل کریں۔

لگاتےہیں اس کو بھی سینے سے آقا جو ہوتا نہیں منہ لگانے کے قابل


اسلام ہمیں حسن اخلاق، عاجزی، تواضع اور ایک دوسرے سے احترام کا درس دیتا ہے ہر انسان کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بات کو توجہ سے سنا جائے اور اسے اہمیت دی جائے۔ کسی کی بات کو نظر انداز کرنا، یا توجہ نہ دینا، نہ صرف بے ادبی ہے بلکہ یہ دل آزاری کا باعث بھی بنتی ہے۔

اللہ کریم سورہ لقمان آیت 18 میں فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

اس آیت میں حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہے ہیں کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ (1)

اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے۔غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایاں ہو اخلاقی اور اسلامی دونوں لحاظ سے قبیح ہے۔

کسی کو نظر انداز کرنے کی سب سے بڑی وجہ خود پسندی اور تکبر ہے۔ خود پسند اور متکبر شخص سمجھتا ہے کہ وہی بہتر ہے، دوسروں کی بات اہم نہیں،بس میری ہی بات درست اور اہم ہوتی ہے۔ ان دونوں کی احادیث مبارکہ میں سخت مذمت آئی ہے۔ چنانچہ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سید المرسلین ﷺنے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے بد ترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ بد اخلاق اور متکبر ہے۔ (2)

اسی طرح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے حسد نہ کرو،ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرواورسب اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤاورکسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کوتین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ (3)

نظر انداز کرنا کئی طرح سے ہوسکتا ہے،جیسے بات کو دھیان سے نہ سننا، بات کو کاٹتے رہنا، اچھے کام پر تعریف کی بجائے خاموشی یا تنقید کرنا، درست مشورہ کو بھی نظر انداز کر دینا، دوران گفتگو موبائل یا کسی اور چیز میں مصروف رہنا، بات کو اہمیت نہ دینا، سلام یا بات کا جواب نہ دینا وغیرہ۔

مخاطب کو نظر انداز کرنے کے بے شمار دینی و دنیوی نقصانات بھی ہیں،جن میں سے چند یہ ہیں: دل آزاری اور گناہ کا باعث، رشتوں میں قطع تعلقی، اللہ کی ناراضی، غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کا باعث، معاشرتی تعلقات میں کمزوری کا سبب ہے۔

لہٰذا احترام مسلم کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے چھوٹے ہوں یا بڑے، سب سے عزت و محبت سے گفتگو کیجیے،سامنے والے کی بات سے متفق نہ ہونے کے باوجود اس کو بات مکمل کرنے دیں پھر اپنا موقف بیان کریں۔

جب آپ کسی کو اہمیت دیتے ہیں تو دراصل اپنے اخلاق کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں اور اس سے سامنے والے کو خوشی بھی حاصل ہوتی ہے۔ مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنے کے بھی کیا کہنے ہیں۔ چنانچہ فرمان مصطفےﷺ ہے: فرائض کے بعد سب اعمال میں اللہ کو زیادہ پیارا، مسلمان کا دل خوش کرنا ہے۔ (4)

اسی طرح کوئی آپ کو نظر انداز کرے تو بد گمان ہونے کی بجائے صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے اپنا اخلاق برقرار رکھیں اور دعا کریں کہ اللہ اس کے دل میں نرمی پیدا کرے اور اسے ہدایت عطا فرمائے۔

اللہ کریم ہمیں آقا کریم ﷺ کے اخلاق کریمہ کا صدقہ نصیب فرمائے۔ (آمین)

حوالہ جات:

(1) مدارک، ص 919- خازن، 3/471 ملتقطاً

(2) مسند امام احمد، 9/120، حدیث: 23517

(3) بخاری، 4/117، حدیث: 6065

(4) معجم کبیر، 11/59، حدیث: 11079


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں زندگی میں ہر پہلو میں حسن اخلاق، عدل صبر، محبت و احترام کا سبق دیتا ہے۔ انسان کی اصل خوبصورتی اس کے اعلی اخلاق ہیں۔ انسان کا اخلاق اس کے کردار اور اس کے گفتار میں نمایاں ہوتے ہیں۔ انسانی تعلقات کی بنیاد احترام، محبت، توجہ، اخلاق باہمی ہمدردی پر قائم ہوتی ہے اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے ہمیں دوسروں کے ساتھ محبت و احترام،توجہ و نرمی سے پیش انا چاہیے چھوٹا بڑا ہم عمر ہر فرد قابل احترام ہے، لہذا ہر ایک کو اہمیت اور توجہ دی جائے۔ ہمیں دوسروں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنا چاہیے جو ہم اپنے لیے پسند کرتے۔ اسلام میں دوسروں کو اہمیت دینا اور ان کے احساسات کا خیال رکھنا اعلیٰ اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ 83) ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ گفتگو ہمیشہ نرمی، ادب، احترام اور توجہ کے ساتھ کی جائے۔ کسی کو نظر انداز کرنا، اس کی بات کو اہمیت نہ دینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ لیکن آج کے اس تیز ترین دور میں ہر فرد جلدی میں نظر آتا ہے جس کی وجہ سے لوگ لوگوں کو توجہ نہیں دیتے۔ مصروفیت یا غرور کے باعث دوسروں کی بات کو اہمیت نہیں دیتے۔ ایسے رویوں سے دلوں میں دوری اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ لہذا مخاطب کو نظر انداز نہ کیا جائے کیونکہ اسلام میں ایک دوسرے کو عزت، توجہ اور احترام کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔

حدیث مبارک کا مفہوم ہے: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے ذلیل کرتا نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی بات کرتا تو اس کی بات پوری توجہ کے ساتھ سنتے پورا چہرہ مخاطب کی طرف رکھتے اور کبھی درمیان میں رخ نہ موڑتے ہمیشہ ہر چھوٹے بڑے سے مسکرا کر نرمی اور توجہ کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آتے۔ آپ کا یہ طرز عمل ہمیں یہ سیکھاتا ہے کے ہمیں مخاطب کو عزت دینی چاہیے اس کی بات توجہ کے ساتھ سننا اور خوش اخلاقی سے جواب دینا ایمان کا تقاضا ہے۔

نقصانات: انسان کو سب سے زیادہ دکھ نظر انداز کیے جانے کا ہوتاہے۔اس سے دوستی رشتے اور اعتماد خراب ہوتا ہے ایک دوسرے کی نظر میں اہمیت کم ہو جاتی ہے۔مخاطب سمجھتا ہے کہ اس کی بات کی شاید کوئی اہمیت نہیں ہے اور بات کا صحیح مقصد بھی واضح نہیں ہوتا مخاطب کو توجہ دینا اخلاق اور تہذیب کا تقاضا ہے لہذا جب کوئی بات کرے تو اس کی طرف رخ کریں سر ہلا کر (ہمم، جی، اچھا) وغیرہ کہہ کر یہ احساس دلائیں کہ آپ سن رہے ہیں درمیان میں بات نہ کا ٹیں بیچ میں بار بار نہ ٹوکیں چہرے پر مثبت اثرات رکھئے کسی سے بات کرتے وقت موبائل میں دیکھنا ادھر ادھر دیکھنا اس طرح کا انداز ہرگز نہ اپنائیں۔

ہمیں چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہر ایک سے محبت اور خلوص و احترام اور توجہ کا مظاہرہ کریں، یہی ایک مومن کی شان ہے۔