مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت غلام یسین،
جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
ہمارا اسلام
اتنا پیارا دین ہے کہ ہمیں ہر طرح کی تعلیم دیتا ہے چاہے اسکا تعلق دنیا سے ہو یا آخرت
سے اور ہمارے دین نے ہمیں ہر ایک کے ساتھ اچھے برتاؤ کی ترغیب دلائی ہے یاد رکھیں۔
کہ انسان کی فطری خواہشوں میں سے ایک خواہش ہے کہ اسکی بات کو اہمیت دی جائے توجہ
سے سنا جائے اور گفتگو میں مخاطب کو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں
کے خلاف ہے ہمارے پیارے اللہ پاک نے ہمیں قرآن پاک میں حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی
اپنے بیٹوں کو دی جانے والی نصیحت کو ذکر فرما کر ایک مقام پر فرمایا: وَ
لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل،
بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔
یہ آیت حضرت
القمان کی نصیحت کے متعلق جو انہوں جو انہوں نے اپنے بیٹوں سے فرمائی۔ چنانچہ
انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے جب آدمی سے بات کرے تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں
حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیر نے والا طریقہ اختیار نہ کر بلکہ مالدار فقیر
سبھی کے ساتھ عاجزی وانکساری کے ساتھ پیش آنا۔ بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے ولا
کوئی بھی شخص الله پاک کو پسند نہیں۔
نظر انداز
کرنے کی مثالیں: کسی کی بات توجہ سے نہ سننا۔ اچھے کام پر سراہنے کی بجائے حوصلہ
شکنی کرنا۔ کسی کا درست مشورہ قبول نہ کرنا۔ اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر جانتا۔ مخاطب
اگر غریب یا کم درجہ والا ہو اسکی بات کو نظر انداز کرنا۔
نظر انداز کرنے کی وجہ: نظر انداز
کرنے کی سب سے بڑی وجہ خود پسندی ہے۔ اسی طرح اگر انسان میں حسد،تکبر وغیرہ
بیماریاں ہیں تو بھی وہ دوسروں کی بات کو نظر انداز کرتا ہے۔
ان سب باتوں
سے پتا چلتا ہے کہ لوگوں سے بات کرتے ہوئے منہ ٹیڑھا نہ کرے۔ بات کرتے ہوئے ہمارا
انداز خوبصورت ہونا چاہیے کہ مسلمان کا اخلاق جتنا اچھا ہو گا لوگ اسکے اتنے ہی
قریب آیئنگے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے لہجوں میں حسن پیدا کریں، محبت پیدا کریں، محبت
کو فروغ دیں۔
Dawateislami