مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت فخر الدین،
رحمت کالونی رحیم یار خان
حضرت لقمان
رحمہ الله نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں فرمائیں قرآن مجید میں سورۂ لقمان میں اس
کا ذکر آیا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ الله پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ
لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات
کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر
اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔
اس آیت کے تحت
تفسیر صراط الجنان میں کچھ یوں ہے: یہاں سے حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت
ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی،
چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر
جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر
سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا،
بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ (مدارک،
ص 919- خازن، 3/471 ملتقطا)
یہاں آیت میں
رخسار ٹیڑھا کرنے سے مراد یہ ہے کہ آدمی جب کسی سے بات کرے تو متکبر کی طرح دوسرے
کو اپنے سے کم تر جان کر ان سے منہ پھیر کر بات کرنے والا طریقہ اختیار نہ کرے،بلکہ
امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ عاجزی کے ساتھ ہی سے پیش آئے۔
اس سے معلوم
ہوا کہ کسی کو بھی اپنے سے کمتر نہیں جاننا چاہیے، چاہے امیر ہو یا غریب جس سے بھی
ملاقات ہو اس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہیے اور سب کے ساتھ ہی اچھے انداز سے بات
کرنی چاہیے کیونکہ غریب لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا یہ تکبر کی علامت ہے
اورتکبر کی قرآن و حدیث میں مذمت آئی ہے، اللہ پاک کو تکبر کرنے والے پسند نہیں۔
لوگوں کو اپنے
سے کمتر جان کر ان سے برا سلوک کرنا بات کرتے وقت ایسا رویہ اختیار کرنا جس سے
سامنے والے کے کمتر ہونے کا گمان ہو یہ تکبر کی علامات ہیں، تکبر کا مطلب ہی یہ ہے
کہ خود کو دوسروں سے افضل جانا جائے اور تکبر کی ایک قسم بندوں کے مقابلے میں تکبر
بھی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ بندوں میں سے اپنے آپ کو سب سے بہتر جانے اور باقی سب
کو اپنے سے حقیر جانے۔ تکبر کی یہ صورت بھی حرام ہے۔
آج کل تکبر کا
مرض عام ہوتا جا رہا ہے ہر کوئی خود کو دوسروں سے افضل سمجھتا ہے اور خود کو دوسروں
سے بڑا سمجھنے لگ گیا ہے یہاں تک کہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی عزت نفس کا
خیال بھی نہیں رہتا بعض اوقات یہ تکبر طاقت و قوت کے سبب ہوتا ہے اور کہیں مال و
دولت تکبر کا سبب بنتا ہے جس کی وجہ سے بندہ اپنے سے کم مرتبہ شخص سے بات کرنے کو
اچھا نہیں سمجھتا ان کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا اور انہیں نظر انداز کرتا ہے۔
تکبر کی مذمت
پر حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن
متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر
ذلت طاری ہوگی، انہیں جہنم کے بولس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت
بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی، انہیں طینۃ الخبّال یعنی
جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 276، 277)
اللہ پاک قرآن
پاک میں ارشاد فرماتاہے: اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) (پ 14، النحل: 23) ترجمہ
کنز الایمان: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔
نظر
انداز کرنے کی مثالیں:
توجہ
سے بات نہ سننا:
نظر انداز کرنے کی ایک وجہ مرتبے میں خود کا بڑا ہونا بھی ہے انسان خود کو دوسرے
سے بہتر سمجھتا ہے اپنی رائے اور اپنی ہی بات کو زیادہ اہم سمجھتا ہے، اپنی طاقت و
قوت پر غرور کرتے ہوئے بھی دوسروں کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا، یہ وجہ ہے کہ
دوسروں کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا،ان سے بات کرنے کو اہم نہیں سمجھتا، خود کو
بڑا سمجھنے کی وجہ سے دوسروں کو نظر انداز کرتا ہے اور توجہ سے ان کی بات نہیں
سنتا۔
اچھے
کام پر حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی: دوسروں کو نظر انداز کرنے کی ایک
صورت حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی بھی ہے کہ کسی کے کام پر اس کو حوصلہ
بڑھانے کے بجائے اس کا حوصلہ توڑنا، اسے جھاڑنا،کوشش کی ہو پھر بھی کام میں غلطیاں
نکالنا،منفی جملے کہنا، صرف اس کی خامیاں بیان کرنا، ایسے دل آزار جملے کہنا کہ جس
سے سامنے والا ڈپریشن،نا امیدی،احساس کمتری اور ناکامی کا شکار ہو۔
اس کے علاوہ
کوئی صحیح مشورہ دے اس کے مشورے کو قبول نہ کرنا بلکہ اس کا مذاق اڑانا، اسے نظروں
سے گرانا، اسے ناپسند جاننا، بے پروائی کا مظاہرہ کرنا یہ سب نظر انداز کرنے کی
مثالیں ہیں۔
وجوہات:
دوستوں
کو نظر انداز کرنے کی ایک بڑی وجہ خود پسندی بھی ہے کہ انسان خود پسندی کی وجہ سے
بھی اس میں مبتلا ہوتا ہے، خود پسندی کے حوالے سے اللہ کے محبوب ﷺ کا فرمان ہدایت
نشان ہے: گناہوں پر نادم ہونے والا اللہ کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خود پسند ی
کرنے والا اللہ کی ناراضگی کا منتظر ہوتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 38)
لہذا ہمیں
چاہیے کہ خود پسندی کے اسباب پر غور کریں اور خود کو ان سے بچانے کی کوشش کریں۔
خود پسندی کا
ایک سبب طاقت و قوت کا ہونا بھی ہے انسان طاقت و قوت کے سبب خود پسندی مبتلا ہو
جاتا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ سوچے کہ اگر اللہ پاک چاہے تو ایک آن میں ہماری
طاقت و قوت واپس لے سکتا ہے لہذا اس پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔
اسی طرح اس کا
ایک سبب مال کی زیادتی بھی ہے کہ انسان مال کی زیادتی کے سبب خود پسندی میں مبتلا
ہوتا ہے اور خود کو دوسروں سے افضل جانتا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ مال کی آفات
اور مذمت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مال کی لالچ سے بچے اور قناعت اختیار کرے نیز خود
پسندی سے بچنے کی دعا بھی کرتا رہے۔
اگر کوئی ہمیں
نظر انداز کرے تو ہمیں صبر کا دامن تھامے رہنا چاہیے اور اس کی وجوہات پہ غور کرنا
چاہیے، اگر تو ہماری کسی غلطی کی وجہ سے وہ ہمیں نظر انداز کر رہا ہے تو ہمیں خود
سے اس چیز کو دور کرنا چاہیے،بعض اوقات انسان مصروفیت کی وجہ سے بھی وقت نہیں دے
پاتا لہذا مثبت ہی سوچنا چاہیے،اور نظر انداز کرنے کی وجہ تلاش کرنی چاہیے اللہ
پاک کی بارگاہ میں دعا بھی کرتے رہیں کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔
Dawateislami